Global Editions

گلوبل وارمنگ کی بدترین پیشگوئیوں کا کافی حد تک ٹھیک ثابت ہونے کا امکان ہے

ماحولیاتی ماڈلز کی پیشگوئی کی صلاحیت کا ماحول کی تبدیلیوں کے ساتھ موازنہ کرنے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، گلوبل وارمنگ کی بدترین پیشگوئیوں کا کافی حد تک ٹھیک ثابت ہونے کا امکان ہے۔

نیچر نامی جریدے میں چھپنے والے پیپر میں انکشاف کیا گيا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے بین الحکومتی پینل کے گرین ہاؤس کنسنٹریشن کی زيادہ سے زيادہ پیشگوئی کے تحت اس صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں تقریبا 5 ڈگری سنٹی گریڈ اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ شرح سابقہ تخمینے سے پندرہ فیصد زیادہ ہے۔ اس نئے تجزیے کے مطابق 2100ء تک "حسب معمول" منظرنامے میں درجہ حرارت میں 4 ڈگری سے زیادہ اضافے کا امکان 62 فیصد سے بڑھ کر 93 فیصد ہوگيا ہے۔

ماحولیاتی ماڈلز پیچیدہ قسم کے سافٹ ويئر ہیں جو اندازہ لگاتے ہیں کہ ماحول مختلف اثرات سے کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے برف، بادل، زمین سے خارج ہونے والی انفراریڈ ریڈیشن کی مقدار، اور کرہ ہوائی میں خارج اور نکلنے والی توانائی کی مقدار میں فرق کی وجہ سے خلاء کی جانب واپس بھیجی جانے والی سورج کی روشنی کے متعلق ایک عشرے سے زائد عرصے تک سیٹلائٹ کے مشاہدات حاصل کیے۔ اس کے بعد محقیقین نے سابقہ فضائی ماڈلز سے حاصل کردہ نتائج کا موازنہ "کرہ ہوائی کے اوپر" سے حاصل کردہ ڈیٹا سے کیا تاکہ وہ جان سکیں کہ کن کس ڈیٹا میں سیٹلائٹ کے مشاہدات کی سب سے زیادہ درست پیشگوئی کی گئی تھی۔

وہ سیمولیشنز ماحولیاتی نظام میں توانائی داخل ہونے اور خارج ہونے کے حقیقی دنیا کے مشاہدات کے سب سے زيادہ قریب تھے جن میں اس صدی میں سب سے زيادہ وارمنگ کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ کارنيگی انسٹی ٹیوشن میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ سائنسدان اور اس تحقیق کے لیڈ مصنف پیٹرک براؤن کے مطابق اس تحقیق میں خصوصی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ماڈلز جنہوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ممکنہ طور پر کم کوریج یا عکاسی کی صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ بادل زيادہ ریڈيشن داخل ہونے کی گنجائش رکھیں گے، حالیہ ماضی کی سب سے بہترین سیمولیشن کرتے ہيں۔ ماحولیاتی ماڈلنگ میں بادلوں کی فیڈ بیک کا رجحان سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل کی رپورٹ اخراجات کے چار مختلف صورتحالوں میں وارمنگ کے ممکنہ رینجز کے تخمینے کے لیے مختلف ریسرچ اداروں کے مختلف ماڈلز انحصار کرتی ہے۔ ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ 2100ء تک دوسرا سب سے کم منظرنامے کا پچھلے منظرنامے کے مقابلے میں زیادہ وارمنگ پیدا کرنے کا امکان ہے۔ بلکہ دنیا کو سابقہ تخمینوں کے برقرار رہنے کے لئے کاربن ڈائی آکسائيڈ میں 800 گیگا ٹن کم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ (موازنہ کرنے کے لیے یاد رہے کہ پچھلے سال گرین ہاؤس گیسز کے کل اخراجات 49 گیگا ٹنز رہے)۔

مختلف سیاست دانوں، حیاتیات ایندھن میں دلچسپی رکھنے والے گروپس اور مبصرین نے ماحولیاتی ماڈلوں میں بے یقینی کی بنیاد پر کلائمینٹ چینج کے خطرات سے انکار کرنے اور اقدام نہ کرنے کا بہانہ مل گیا ہے۔

پیٹرک براؤن کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ اس دلیل کو کمزور کرتا ہے۔ کلائمیٹ کےماڈلوں کے ساتھ مسائل تو ہیں، لیکن جو سب سے زیادہ درست ہیں وہ مستقبل میں سب سے زیادہ گرمی کی پیشگوئی کریں گے۔"

اس وقت سابقہ توقعات سے کہيں زيادہ تیزی سے ترقی یا پہلے سے زيادہ اثرات کی پیشگوئی کرنے والی تحقیق میں اضافہ ہورہا ہے، اور یہ پیپر بھی اسی بات کا ثبوت ہے۔

براؤن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جائے کہ مختلف موسمیاتی ماڈل کیسے کام کرتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تحقیق سے ماڈل کی غیر یقینی صورت حال کو محدود کر نے اور ان کی رینج کا پتا چلانے میں مدد ملے گی۔
کارنیجی میں ماحول پر تحقیق کرنے والےسائنسدان اور اس تحقیق کے شریک مصنف کین کیلڈرا ((Ken Caldeira کہتے ہیں کہ حقیقی دنیا کے ثبوت موسمیاتی ماڈلوں کو بہتر بنانے میں مدد کررہے ہیں جبکہ سائنسدانوں کو بھی ان سے رہنمائی میں مدد ملتی ہے اور خاص ایپلی کیشنز مزید قابل اعتماد ہو گئی ہیں۔

لیکن ایک سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ماحول میں جس رفتار سے تبدیلی ہو ر ہی ہے ، اتنی تیزی سے ماحولیاتی ماڈلز میں بہتری نہیں آ رہی۔ حقیقی دنیا میںایسے واقعات ہو جاتے ہیں جن کی ماڈلز پیشن گوئی نہیں کرتے۔مثال کے طور آرکٹک سمند رکی برف جس تیزی سے پگھل رہی ہے موسمیاتی ماڈل اس کی وضاحت نہیں کرتے۔

کیلڈیرا کہتے ہيں "ہم بڑی تیزی سے پیشگوئی سے ہٹ کر وضاحت کی طرف جارہے ہيں۔"

تحریر: جیمز ٹیمپل(James Temple)

Read in English

Authors
Top