Global Editions

اب بذریعہ فیس بک اپنی جلد پر ای میل موصول کریں

اس سوشل نیٹورک کے ریسرچرز نے ایک ویئرایبل پروٹوٹائپ کی مدد سے لوگوں کو اپنے بازؤوں پر 100 الفاظ محسوس کرنا سکھایا ہے۔

یہ پروٹوٹائپ آلہ آوازوں کو جلد پر محسوس ہونے والی مخصوص وائبریشنز کی شکل میں پیش کرتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا تھا کہ آپ ایک دن اپنے بازو پر اپنے سمارٹ فون پر موصول ہونے والے پیغامات محسوس کرکے انہیں پڑھ سکيں گے؟ فیس بک کے ریسرچرز اب ایک ایسا آلہ تخلیق کررہے ہيں جس کی مدد سے الفاظ کو “پوکس” (pokes) میں تبدیل کرکے اس قسم کی چیز ممکن ہوگی۔

ان ریسرچرز نے ایک ویئرایبل آلے کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جس میں ایسے ایکچویٹرز (actuators) نصب ہیں جو محرک کرنے پر پہننے والے کے بازو پر مخصوص آوازوں کے مطابق پیٹرنز میں وائبریشنز پیدا کرتے ہيں۔ ایک مطالعے کے دوران یہ ریسرچرز تین منٹ میں لوگوں کو چار مختلف صوتیے، یعنی کسی بھی زبان کی وہ آوازیں جن سے مل کر الفاظ تشکیل کیے جاتے ہیں، محسوس کرنے کی تربیت فراہم کرنے میں کامیاب رہے۔ پراجیکٹ کے تکنیکی سربراہ علی اسرار کے مطابق، ڈیڑھ گھنٹے تک تربیت فراہم کرنے کے بعد مطالعے کے شرکت کنندگان 100 الفاظ پہچاننے لگے تھے۔

اس پراجیکٹ کو مونٹریال میں منعقد ہونے والی ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن کے متعلق سالانہ CHI کی کانفرنس ميں پیش کیا جائے گا۔

اس پراجیکٹ کا خیال بریل اور ٹاڈوما (جو نابینا اور بہرے افراد کے لیے مواصلت کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں بولنے والے کے ہونٹ، چہرے اور حلق کو محسوس کرکے الفاظ کا اندازہ لگایا جاتا ہے) جیسے طریقہ کار سے آیا تھا۔ اس سے آگے چل کر، مثال کے طور پر، ایک ایسی سمارٹ واچ ایجاد ہوسکتی ہے جو بجنے کے بجائے وائبریشن کے ذریعے مخصوص پیغامات پہنچائے، تاکہ آپ کو اپنی موجودہ سرگرمیوں میں مداخلت کے بغیر ہی خبریں موصول ہوتی رہیں۔ اس سے بینائی اور قوت سماعت سے محروم افراد کو بھی زيادہ آسانی سے معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔

پچھلے سال اپریل میں منعقد ہونے والی F8 ڈیولپر کانفرنس میں فیس بک نے اپنے بلڈنگ 8 نامی خفیہ سکنک ورکس ہارڈویئر ڈویژن کے اس پراجیکٹ کی ایک جھلک پیش کی تھی۔ اس وقت اس پراجیکٹ پر چھ ماہ سے کام ہورہا تھا اور فیس بک نے بتایا تھا کہ وہ امید کرتے ہيں کہ لوگ اسے استعمال کرکے جلد ہی 100 الفاظ تک پہچاننے میں کامیاب ہو جائيں گے۔

اس وقت سے اب تک اس ٹیکنالوجی میں کافی بہتری نظر آئی ہے۔ اس مطالعے کے شریک مصنف اسرار نے ایک ای میل میں بتایا کہ جدید ترین ریسرچ کے مطابق، 100 منٹ تک تربیت حاصل کرنے کے بعد لوگ 90 فیصد درستی کے ساتھ 100 الفاظ سیکھنے میں کامیاب ہوئے، اور مزید 100 منٹ کی تربیت کے بعد بعض افراد نے 500 الفاظ تک سیکھ لیے۔

یہ پراجیکٹ کس طرح کام کرتا ہے؟ اس کا مظاہرہ ایک ویڈیو میں کیا گيا ہے۔ پروٹوٹائپ کو ایک ایسے کمپیوٹر کے ساتھ متصل کیا گیا ہے جس کے ذریعے پروٹوٹائپ پہننے والے شخص مختلف صوتیے اور نمونے کے طور پر پیش کیے جانے والے الفاظ کا انتخاب کرسکتا ہے، جنہيں بازو پر وائبریشنز کی شکل میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

مختلف آوازوں کی بازو کے اوپری اور نچلے حصے پر موجود مختلف ایکچویٹرز سے موصول ہونے والے احساسات کے ذریعے نمائندگی کی گئی ہے۔ مطالعے کے شرکت کنندگان کے کئی الفاظ پہچاننے کے بعد ریسرچرز نے ان کا امتحان لیا۔ کمپیوٹر کی سکرین پر کچھ سوالات پیش کیے گئے، جس کا جواب دینے کے لیے شرکت کنندگان کو وائبریشنز کا استعمال کرنا تھا۔

تاہم اس وقت یہ پروٹوٹائپ کافی بے ہنگم ہے، اور تربیت کے لیے طویل عرصہ درکار ہے، جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ سمارٹ واچ ابھی بہت دور کی بات ہے۔ اگر اس آلے کو کامیاب ہونا ہے، تو اسے سیکھنے اور استعمال کرنے میں زیادہ آسانی، درستی میں اضافہ اور سائز میں کمی نہایت ضروری ہيں۔

ایم آئی ٹی کی سینیئر ریسرچ سائنسدان اور کیوٹینیس سینسری لیب (Cutaneous Sensory Lab) کی صدر محقق لنیٹ جونس (Lynette Jones) کے خیال میں فیس بک کی تحقیق کافی امیدافزا تو ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کا بھی اعتراف کرتی ہیں کہ کانوں یا آنکھوں کے مقابلے میں انسانی جلد میں معلومات پراسیس کرنے کی صلاحیت زیادہ اچھی نہيں ہے۔ ان کے مطابق، یہ اس قسم کا طریقہ ثابت ہوگا جسے آپ صرف حسب ضرورت استعمال کرنا چاہیں گے۔

وہ کہتی ہيں “لوگوں کو ہر وقت نوٹیفیکشنز حاصل کرنا اچھا نہيں لگتا ہے۔”

اس کے علاوہ، اگر اس طریقہ کار کو موثر ثابت ہونا ہے تو اس کی رفتار میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ اسرار بتاتے ہیں کہ اس ویئرایبل آلے کو چھوٹا کرنے کے علاوہ، ریسرچرز بازو کو الفاظ کی ترسیل کی رفتار میں بھی اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ اس وقت یہ رفتار طرف 10 الفاظ فی منٹ ہے، جو ایک مختصر ٹیکسٹ پیغام کے لیے تو صحیح ہے، لیکن مزيد تفصیلی پیغام کے لیے بے کار ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top