Global Editions

نقل مکانی کی آفت

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سالوں میں وسیع پیمانے پر نقل مکانی سامنے آئے گی۔ اس بات کو نظرانداز کرنا کہ یہ تمام لوگ کہاں جائيں گے بہت بڑی مشکل کو دعوت دینے کے مانند ہے۔

2006ء میں برطانوی ماہر معاشیات نکولس سٹرن (Nicholas Stern) نے انتباہ دیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے خطرات میں اجتماعی نقل مکانی شامل ہوگی۔ ان کی ایک تحریر کے مطابق، ”ماضی میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پرتشدد جھڑپیں ہوچکی ہیں، اور اس قسم کے تشدد کا سب سے زیادہ خطرہ مغربی افریقہ، دریائے نیل کے بیسن، اور وسطی ایشیاء جیسے علاقوں کو ہے۔“ ان کی اس تنبیہہ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ہم اب تک ایسے ماڈلز تخلیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی مدد سے ہم یہ جان سکیں گے کہ لوگ نقل مکانی کب کریں گے اور کہاں جائيں گے؟ پچھلے سال عالمی بینک نے پہلی بار وسیع پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کی ماڈلنگ کرنے کی کوشش کی، اور ان کی رپورٹ کے مطابق 2050ء تک ذیلی صحارائی افریقہ، جنوبی ایشیاء، اور لاطینی امریکہ میں اپنے ہی ممالک کے دوسرے علاقہ جات میں نقل مکانی کرنے  والے افراد کی تعداد 14.3 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

لیکن یہ اعداد و شمار کس حد تک قابل اعتماد ہيں؟

ماڈلز کی تیاری کے دوران کئی مفروضات پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماڈلز بنانے والے سائنسدان یہ فرض کرسکتے ہيں کہ موجودہ یا آنے والے زمانے کے لوگ ماحولیاتی آفات پر اسی طرح سے ردعمل کا اظہار کریں گے جیسے وہ ماضی میں کیا کرتے تھے۔ ماڈلز میں بہتری توآرہی ہے لیکن ساتھ ہی سمندری سطح میں اضافے اور خشک سالی کے دورانیے جیسے اثرات کی پیشگوئی کرنے کے دوران کئی متغیرات سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس رپورٹ کے ایک مصنف، بروق کالج کے برائن جونز (Bryan Jones) کہتے ہیں کہ ”اس شعبے میں ابھی بہت کام باقی ہے، ابھی تو صرف ابتداء ہی ہوئی ہے۔“ ماڈلز تیار کرنے والے افراد سیٹلائٹ کی تصویروں اور موبائل فون کے ڈیٹا سے حاصل کردہ نئی معلومات کے ذریعے درست اعداد و شمار حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ ماہر معیشیات اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کے متعلق کئی تحقیقوں کی مصنفہ ویلری موئلر(Valerie Mueller) کا کہنا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال کافی حد تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر، سیٹلائٹ امیجری کی مدد سے آبادی کی گنتی تو کی جاسکتی ہے لیکن یہ معلوم نہيں کیا جاسکتا ہے کہ آبادی کی تبدیلیوں کے پیچھے پیدائش، اموات یا نقل مکانی میں سے کن عناصر کا ہاتھ ہے۔ اسی طرح موبائل فونز کے سم کارڈز سے یہ تو پتا چل سکتا ہے کہ کسی فون کو کہاں کہاں استعمال کیا گيا لیکن یہ متعین نہيں کیا جاسکتا کہ اسے کتنے لوگوں نے استعمال کیا اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ کیوں لے جایا گیا۔

مندرجہ بال نقشوں میں جو مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں اس وجہ سے ایک ملک سے دوسرے ملک کے بجائے ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان نقل مکانی پر توجہ دی گئی ہے کیونکہ بیشتر موجودہ ماڈلز بھی اسی پہلو پر ہی نظر ڈالتے ہيں۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو نقل مکانی کرنے پر مجبور زیادہ تر افراد پیسوں کی تنگی کے باعث زیادہ دور نہيں جاپاتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ اکثر کسی مختلف ملک کی زبان نہ بولنے کی وجہ سے بھی وہاں جانے سے کتراتے ہيں۔ اس کے علاوہ، کئی لوگ قانونی مشکلات کے باعث بھی دوسرے ممالک میں رہائش اختیار کرنے سے قاصر رہتے ہيں۔

اگر حکومتیں اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب ہوجائیں کہ لوگ نقل مکانی کرکے کہاں جائيں گے تو ان کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنا آسان ہوجائے گا۔ اسی لیے ان ماڈلز میں بہتری لانا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ماحولیاتی آفات کی صورت میں ان شہروں میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہونے کا زیادہ امکان ہے جن میں زیادہ مالی مواقع دستیاب ہیں۔ اگر پالیسی ساز یہ جان جائيں کہ ایسے شہروں میں کب اور کتنے مہاجرین کی آمد کا امکان ہے تو وہ کم قیمت رہائش، سکولوں اور ہسپتالوں میں بہتر طور پر سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

اس رپورٹ کے دوسرے مصنف، کولمبیا یونیورسٹی کے ایلیکس ڈی شربنین (Alex de Sherbinin) کہتے ہیں کہ ”ہم کبھی بھی درست اعداد حاصل نہيں کرسکیں گے، لیکن اگر لوگ یہ سمجھنے میں کامیاب ہوجائيں کہ اس ماڈل کا مقصد کیا ہے تو ان کے لیے اس سے مفید معلومات حاصل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔“

تحریر: سوزن کوزیر

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top