Global Editions

جینیاتی طور تبدیل شدہ ملیریا ویکسین کی راہ کی اہم رکاوٹ دور ہو گئی

بیماریوں کے خلاف لڑنا نہایت اہم ہے اور کئی بیماریاں ایسی ہیں جو بہت ہی طویل عرصے سے بنی نوع انسان کو موت سے ہمکنار کر رہی ہیں اور ان بیماریوں میں ایک بیماری ملیریا بھی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2015ء میں 214 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوئے اور ان میں سے 4,38,000 افراد موت کا شکار ہو گئے۔اس بیماری کے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری ایک اہم مرحلہ ہے اور ابFred Hutchinson Cancer Research Center سیاٹل سے تعلق رکھنے والے تحقیق کاروں نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ملیریا ویکسین تیار کر لی ہے۔ تحقیق کاروں کی اس ٹیم کی سربراہی جم کوبلن (Jim Kublin) نے کی۔ تحقیق کاروں نے پیراسائیٹ یعنی طفیلئیے (ایسے پودے یا جاندار جو دوسروں سے خوراک حاصل کریں) میں موجود تین جینز کو تبدیل کر دیا یہ وہی جینز ہیں جو افریقہ میں ملیریا کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ بنتی ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اس ویکسین کے ابتدائی تجربات چوہوں پر کئے گئے جو کامیاب رہے ویکسین نے ان چوہوں کے جسم میں اینٹی باڈیز کو اتنا طاقتور کر دیا کہ وہ دوبارہ اس بیماری کا شکار نہیں ہوئے۔ بعدازاں اس ویکسین کے انسانی تجربات ہوئے اور دس رضاکاروں نے خود کو ان تجربات کے لئے پیش کیا۔ اس ویکسین کے انسانی تجربات کے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے آئے اور دس رضا کاروں پر اس ویکسین کے استعمال کے کسی قسم کے منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔ ان رضا کاروں میں بھی اینٹی باڈیز کو تقویت دی گئی اور ان تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ ویکسین انسانوں میں ملیریا سے بچاؤ کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اپنے طرز کے اس تجربے کے تفصیلی نتائج معروف سائنسی جریدے Science Translational Medicine میں شائع کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی ملیریا سے بچاؤ کے لئے ویکسئینز تیاری کے مراحل میں ہیں تاہم ان تمام میں کئی طرح کے قباحتیں بھی موجود ہیں۔ اسی طرز کی ایک ویکسین RTS,S ہے اس ویکسین میں بھی P.falciparum سے حاصل ہونے والی پروٹین کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا ہے تاہم تجربات میں یہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی۔

تحریر : مشعل رئیلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top