Global Editions

جین تھراپی کی پہلی کامیابی سامنے آنے والی ہے

نوارٹس سپائنل مسکولر ایٹروفی کے علاج کے لیے دنیا کی مہنگی ترین دوا زولگینسما فروخت کرنے والے ہیں۔

اب جلد ہی پیدائش کے چند ہفتوں کے اندر ہی جینیاتی تبدیلی ممکن ہوگی۔ لیکن یہ علاج کس قدر مہنگا ثابت ہوگا؟

جین تھراپی کے شعبے میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔ دوا فروش کمپنی نوارٹس کو دنیا کی سب سے پہلی "بلاک بسٹر" جین کی تبدیلی متعارف کرنے کی منظوری مل چکی ہے۔ بلاک بسٹر سے مراد ایسی کوئی بھی دوا ہے جس کی سالانہ فروخت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

زولگینسما نامی یہ تھراپی سپائنل مسکولر ایٹروفی کے شکار شیرخوار بچوں کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔ عام طور پر اس مرض کے شکار بچوں کی دو سال کی عمر سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ تاہم یہ تھراپی انتہائی مہنگی بھی ثابت ہوگی۔ منظوری حاصل کرنے سے پہلے توقع کی جارہی تھی کہ اس کی کل لاگت 15 سے 20 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ یہ تاریخ کی مہنگی ترین دوا ہوگی۔

نوارٹس کو جب اس دوا کی منظور حاصل ہوئی تو انہوں نے اس کی قیمت 21.25 لاکھ ڈالر مقرر کی۔

جین تھراپی میں وائرسز کی مدد سے مریضوں کے سیلز میں صحت مند جینز متعارف کیے جاتے ہیں، اور اس کی بڑھتی ہوئی کامیابی امریکی ہیلتھ کیئر میں انقلاب لاسکتی ہے۔

ایف ڈی اے کی پیشگوئی کے مطابق 2025ء تک ہر سال 10 سے 20 جین یا سیل کے علاج متعارف کیے جائيں گے، اور اگر ہیموفیلیا اور مسکولر ایٹروفی کے مہنگے علاج کو منظوری مل جائے تو بیمے کی مارکیٹ الٹ کر رہ جائے گی۔

نوارٹس کے ساتھ مذاکرات کرنے والی بیمہ کمپنی ہارورڈ پلگرم ہیلتھ کیئر کے چیف میڈيکل افسر مائیکل شرمن کہتے ہیں "ان تمام ادویات کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مہنگی بھی ہیں۔ ہمارے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم خود کا دیوالیہ نکالے بغیر ان ادویات کا بیمہ کس طرح کریں؟"

نوارٹس کے ایگزیکٹوز کے مطابق وہ بیمہ کمپنیوں کو ادائيگی میں معاونت فراہم کرنے کے لیے بھی پروگرامز متعارف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں "حسب ضرورت" ادائيگی کے علاوہ مریضوں کی موت واقع ہونے کی صورت میں رقم کی واپسی کے پروگرامز بھی شامل ہوں گے۔

شرمن کہتے ہیں "ہم حسب ضرورت ادائيگی اور فائدہ نہ ہونے کی صورت میں ادائيگی منقطع کرنے کا اختیار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ قیمتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں اور میرے خیال سے یہ مطالبہ ناجائز نہيں ہے۔"

شرمن کہتے ہيں کہ اس قسم کی ادائيگی کے پلان کو اس وقت تک مکمل طور پر عملدرآمد نہيں کیا جاسکتا جب تک بیمہ کمپنیاں صارفین کی پیکیج کی تبدیلی کی صورت میں مریضوں کے بلوں کے بقایاجات ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ، ریاستی میڈیکیڈ ایجنسیوں کو تمام ادویات کے لیے "بہترین قواعد" کی ضمانت فراہم کرنے والے قواعد کی وجہ سے نوارٹس کے لیے رقم کی مکمل واپسی کی ضمانت دینا ممکن نہيں ہے۔

یہ علاج اوہائیو میں رہائش پذیر ایک ٹیم نے تیار کیا تھا اور اسے نیشن وائڈ چلڈرنز ہاسپٹل کے سائنسدان اور کلینیشنز نے نہایت کامیابی کے ساتھ بچوں پر اس کی ٹیسٹنگ بھی کی۔ ان بچوں کو کھربوں وائرسز رکھنے والے ٹیکے دیے گئے، جن میں SMN1 نامی جین کی درست نقل شامل تھی، جس کی تبدیل شدہ شکل ریڑھ کی ہڈی میں موٹر نیورونز کے نقصان کا باعث بنتی ہے۔

اس آئيڈیا پر کام کرنے والے نیشن وائڈ کے ریسرچر برائن کیسپر نے ایویکسس نامی کمپنی قائم تھی جسے پچھلے سال نوارٹس نے 8.7 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ اس کے علاوہ اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے دوسرے ریسرچر آرتھر برگز نے ایس ایم اے کا شکار چوہا تیار کیا تھا اور ڈاکٹر جیری مینڈل نے انسانی مطالعہ جات کی ابتداء کی تھی۔

امریکہ میں ہر سال پیدائشی ایس ایم اے کے شکار بچوں کی تعداد صرف 400 ہے، اور جس قیمت پر اس کمپنی کو خریدا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ اس علاج کی قیمت میں کمی کا کوئی امکان نہيں ہے۔ شرمن کہتے ہيں "انہيں حساب کتاب کرنا آتا ہے۔"

زولگینسما صرف چھٹی جین تھراپی ہے جسے امریکہ یا یورپ میں منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ تاہم ماضی میں متعارف کی جانے والی ادویات کو مریضوں تک پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ گلائی بیرا کو صرف ایک ہی دفعہ خریدا گیا، جس کے بعد اسے منقطع کردیا گیا۔ اسی طرح نظام مدافعت کی خامیوں کا علاج کرنے والی دوا سٹرم ویلس میں ہڈی کے گودے کے ٹرانس پلانٹ کی ضرورت پیش آتی ہے جس کی وجہ سے اسے ایک درجن سے بھی کم صارفین نے خریدا ہے۔ اسی طرح لکس ٹرنا نامی دوا آنکھوں کے ایک ایسے مرض کے لیے تیار کی گئی ہے جو بہت نایاب ہے۔

اس کے برعکس نووارٹس کا کہنا ہے کہ ایس ایم اے کی مانگ بہت زيادہ ہے۔ ایویکسس کے صدر ڈیوڈ لینن کے مطابق اب تک 150 مریضوں کو کلینیکل ٹرائلز یا خصوصی رسائی کے پروگرامز کے تحت جین تھراپی فراہم کی جاچکی ہے۔ بعض دفعہ چھ ہفتوں کی عمر کے بچوں کا بھی علاج کیا گیا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہی اس کی جینز کی اصلاح کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

کئی ریاستوں میں، جن میں مینیسوٹا اور پینسلوینیا شامل ہیں، زچگی کے وارڈز میں ہی ایس ایم اے کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ جیسے جیسے نئی ریاستیں اس قسم کے قواعد متعارف کرتی جائيں گے، اس دوا کے ممکنہ مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

اس جین کی تبدیلی کی منظوری سے صرف تین سال قبل ایس ایم اے کا پہلی موثرعلاج جینیاتی علاج متعارف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سپن رضا نامی یہ دوا بائيوجین فروخت کررہی ہے اور اس کی سالانہ قیمت 375000 ڈالر ہے۔ تاہم اسے ہر سال مستقل طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں ہر سال اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

اب مارکیٹ میں ان دونوں ادویات کا مقابلہ متوقع ہے۔ تاہم بیمہ کمپنیوں کا خیال ہے کہ زولگینسما کم قیمت ثابت ہوگی کیونکہ مریضوں کو اس کی ادائيگی صرف ایک ہی دفعہ کرنی ہوگی۔ شرمن کہتے ہيں "میرا خیال ہے کہ آگے چل کر اس گروپ کے لیے سپن رضا کو کوریج حاصل نہيں ہوگی۔"

والدین کی امیدیں اور بیمہ کمپنیوں کے تخمینے اس جین کی تبدیلی کے طویل عرصے کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے پر منحصر ہیں۔ اب تک وہ مایوس نہيں ہوئے ہیں۔ جن بچوں کا علاج کیا گیا تھا، وہ اب پانچ سال کے ہوچکے ہیں۔ لینن کہتے ہيں "ہمارا خیال ہے کہ یہ پیش رفت امید افزاء ہے۔" تاہم اب تک یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کیا یہ علاج دوبارہ کروانے کی ضرورت پڑے گی۔

اس کے علاوہ کیا یہ علاج ان ممالک کو بھی دستیاب ہوگا جہاں والدین ایس ایم اے کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہيں رکھتے؟ لینن کہتے ہيں کہ نوارٹس کا ان ممالک کو دوا فراہم کرنے کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالاڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top