Global Editions

جین تھراپی سے بچوں کی جانیں تو بچائی جارہی ہیں، لیکن سکریننگ میں ابھی بھی بہت محنت کرنا باقی ہے

امریکہ کی کئی ریاستوں میں نوزائيدہ بچوں میں جینیاتی امراض کی ٹیسٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

ایسے پندرہ بچے موجود ہيں جن کی پیدائش کے بعد اگر جینز میں ایک تجرباتی علاج کے نتیجے میں ترمیم نہ کی جاتی، تو وہ ایک نایاب مرض کی وجہ سے، جس میں ان کے پٹھے مکمل طور پر ضائع ہوجاتے، دم توڑ دیتے ۔ سپائنل مسکولر ایٹروفی (spinal muscular atrophy) نامی یہ مرض اس قدر جان لیوہ ہے کہ ان میں سے زيادہ تر بچے بمشکل دو سال کی عمر تک ہی جی پاتے۔ لیکن اب یہ بچے نہ صرف خود سے بات کرسکتے ہيں اور اٹھ کر بیٹھ سکتے ہيں، بلکہ انہوں نے پیدل چلنا بھی شروع کردیا ہے، جو اس علاج کے بغیر ناممکن تھا۔ اس علاج کے پیچھے ایویکسس (AveXis) نامی کمپنی کا ہاتھ ہے، اور انہيں سب سے بہتر نتائج ان بچوں میں نظر آرہے ہيں جن کا ایک یا دو ماہ کی عمر میں ہی علاج شروع کردیا گیا تھا۔

اس علاج کی کامیابی کے لیے مریضوں کی جلد از جلد نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے۔ جتنی جلدی ان بچوں کی نشاندہی ہوجائے گی، ان کا علاج بھی اتنا زیادہ موثر ثابت ہوسکے گا۔ اس سلسلے میں ایویکسس اور دیگر بائیوٹیک کمپنیاں جین تھراپیاں متعارف کرنے کی دوڑ میں تو لگی ہوئی ہیں، لیکن امریکہ کی کئی ریاستوں میں قابل علاج جینیاتی امراض کے سکریننگ ٹیسٹس اپنانے میں سست روی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

اس وقت نوزائیدہ بچوں کو متاثر کرنے والے کم از کم 34 امراض کے سکریننگ ٹیسٹس کیے جاتے ہیں، اور کئی ریاستوں میں اس تعداد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ لیکن اس فہرست میں سپائنل مسکولر ایٹروفی، یعنی ایس ایم اے، شامل نہيں ہے، حالانکہ یہ مرض شیرخوار بچوں کی موت کی سب سے بڑی جینیاتی وجہ ہے۔ امریکہ میں ہر سال پیدا ہونے والے 400 بچے اس مرض کا شکار ہیں۔ ایویکسس کی تھراپی اس کی سب سے عام قسم، ٹائپ 1، کے لیے ہے۔

نوزائیدہ سکریننگ ٹیسٹس سے اس مرض کا شکار بچوں کو ایک بہتر زندگی فراہم کی جاسکتی ہےf۔

ٹیکسس ایس ایم اے نیوبارن سکریننگ کولیشن (Texas SMA Newborn Screening Coalition) کی بانی کرسٹل ڈیوس کہتی ہیں "ان بچوں کو اپنی پوری زندگی ایک وہیل چیئر پر گزارنے کے بجائے دوسرے بچوں کی طرح کھیل کود اور بھاگ دوڑ کرنی چاہئیے۔"

ایس ایم اے ٹائپ 1 کے علاج میں تاخیر بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ SMN1 کے جین میں ایک چھوٹی سی تبدیلی سے بچے کے دماغ کے سٹیم اور ریڑھ کی ہڈی میں واقع موٹر نیورونز بڑے تیزی سے تباہ و برباد ہونے کا امکان ہے۔ اس سے پٹھے کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اور آگے چل کر بچوں کو نگھلنے اور سانس لینے میں دشواری کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

ڈیوس کا بیٹا، ہنٹر، جس کی عمر اب چھ برس ہوچکی ہے، دو ہفتے کی عمر سے ہی حرکت کرنی کی صلاحیت کھوچکا تھا۔ اگر ہنٹر آج زندہ ہے تو صرف دسمبر 2016ء میں منظور ہونے والی دوا سپن رضا (Spinraza) کی وجہ سے۔ جن بچوں کو یہ دوا دی گئی ہے، ان میں کافی بہتری نظر آئی ہے۔ لیکن یہ دوا زندگی بھر سپائنل ٹیپ کی مدد سے ہر چار ماہ بعد دینا ضروری ہے۔ اس کے پہلے سال کی لاگت 750،000 ڈالر، اور اس بعد، ہر سال 375،000 ڈالر ہے۔

ایویکسس کی جین کی تھراپی ایک 60 منٹ لمبے عمل کی مدد سے دی جائے گی، اور اسے صرف ایک ہی بار دینے کی ضرورت ہوگی۔ اس علاج میں ایک انجنیئرشدہ وائرس کی مدد سے SMN1 جین کی صحت مند نقول پورے جسم کو پہنچائی جائيں گی، جس کے بعد یہ نیا جین موٹر نیورونز کے زندہ رہنے کے لیے ضروری پروٹین تیار کرنا شروع کردے گا۔

تاہم، ایویکسس کے چیف میڈیکل افسر سوکمار نگیندرن (Sukumar Nagendran) کا کہنا ہے کہ تاخیر سے دستیاب موٹر نیورونز میں کمی ہوتی ہے، اور اس علاج کی اثراندازی متاثر ہوتی ہے۔

ایویکسس کے ٹرائل میں 15 بچوں کا اوسطاً چار ماہ کی عمر سے علاج شروع کردیا گيا۔ ان سب کو فائدہ ہوا، لیکن نگیندرن کے مطابق جن بچوں کا دو ماہ کی عمر میں علاج شروع کیا گیا، سب سے زیادہ بہتری ان ہی میں نظر آئی، اور اب وہ خود سے چل بھی سکتے ہيں۔

اپریل میں ایویکسس نے ایک نیا مطالعہ شروع کیا، اور بچوں کا پیدائش کے فوراً بعد ہی علاج کرنے لگے۔ ان نتائج سے ریسرچرز یہ جان سکیں گے کہ نوزائیدہ بچوں میں کس حد تک بہتری نظر آتی ہے۔

ایسی چند جین تھراپیاں موجود ہیں جن کی بچوں میں کسی جینیاتی مرض کے جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی کارکردگی بہتر ہو۔ مثال کے طور پر، بلوبرڈ بائیو ایک ایسی تھراپی پر کام کررہے ہيں جو 17 میں سے 15 بچوں میں سیریبرل ایڈرینولیوکوڈسٹرفی (cerebral adrenoleukodystrophy) یعنی اے یل ڈی نامی جان لیوہ مرض کی روک تھام کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کمپنی نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو ایک بیان میں بتایا کہ سب سے بہتر نتائج اس وقت سامنے آتے ہیں اگر مریض کا علاج علامات نظر آنے سے پہلے ہی شروع کردیا جائے۔

مختلف ریاستوں میں کیا صورتحال ہے؟

آٹھ فروری کو نوزائیدہ بچوں کی ٹیسٹنگ کرنے والی قومی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تجویز کردہ یونیورسل سکریننگ پینل میں ایس ایم اے کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔ اگلا مرحلہ امریکی ڈپارٹمنٹ برائے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے سیکریٹری الیکس ازر (Alex Azar) سے دستخط کروانا ہے۔

تاہم، یہ صرف تجویز ہے، اور اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ ہر نوزائیدہ بچے کی سکریننگ یقینی طور پر کی جائے گی۔ اسے صرف دو ریاستوں میں، یعنی کیلیفورنیا اور فلوريڈا میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ باقی ریاستوں کی مرضی ہے کہ وہ اس تجویز پر عمل کریں یا نہيں۔

سکریننگ کے جدولوں میں نئے امراض شامل کرنے کا مطلب ہے کہ نوزائيدہ بچوں کی ٹیسٹنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا۔ یہ اخراجات ہر ریاست میں مختلف ہیں، لیکن عام طور پر 100 ڈالر سے 150 ڈالر کے درمیان ہیں۔ عام طور پر بیمہ کمپنیاں یا میڈک ایڈ ان ٹیسٹس کے اخراجات برداشت کرتے ہيں، لیکن کچھ ریاستوں میں یہ رقم محکمہ صحت کے بجٹ سے نکلتی ہے۔ مارچ میں امریکی گورنمنٹ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ایس ایم اے کی شمولیت کے بعد ان اخراجات میں 10 سینٹ سے لے کر ایک ڈالر کا اضافہ ہوگا۔

جہاں تک اے ایل ڈی کا تعلق ہے، ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز سے 2015ء میں اسے وفاقی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن کئی ریاستوں نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔ اس کی ٹیسٹنگ صرف چند ہی ریاستوں میں کی جاتی ہے۔

لیوکوڈس ٹروفی کے شکار بچوں کو امداد فراہم کرنے والی نتظیم کیلیوپ جوائے فاؤنڈیشن (Calliope Joy Foundation) کی بانی ماریہ کیفالس (Maria Kefalas) کہتی ہیں کہ ہر ریاست کو باری باری مجبور کرنا کسی سرد درد سے کم نہيں ہے۔ ان کی بیٹی میں دو سال کی عمر میں میٹا کرومیٹک لیوکوڈس ٹروفی (metachromatic leukodystrophy) نامی نایاب اور جان لیوہ جینیاتی دماغی مرض کی تشخیص ہوئی تھی۔ اٹلی کے شہر ملان میں ایک جگہ دستیاب تجرباتی جین تھراپی سے کئی بچوں کی جان بچائی جاچکی ہے، لیکن یہ علاج صرف اسی صورت میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اگر اسے ابتدائی مراحل ہی میں شروع کیا جائے۔ لندن میں واقع آرچرڈ تھیراپیوٹکس (Orchard Therapeutics) نامی کمپنی اس تھراپی کو تجارتی شکل دینے کی کوشش کررہی ہے۔

اس مرض کے بارے میں کس حد تک جاننا ضروری ہے؟

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ نوزائیدہ بچوں میں مزید بیماری کی سکریننگ کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ اس سے نہ صرف والدین کی پریشانی ميں اضافہ ہوگا، بلکہ ممکن ہے کہ غلط مثبت نتائج بھی سامنے آئيں۔

مثال کے طور پر، میساچوسیٹس میں ایس ایم اے کی ٹیسٹنگ کرنے والے ایک پائلٹ پروگرام میں ایک بچے کا مثبت نتیجہ نکلا، لیکن بعد میں یہ نتیجہ غلط نکلا۔

اس پائلٹ پروگرام مین کام کرنے والی میساچوسیٹس جنرل ہسپتال کی پیڈیٹرک نیورولوجسٹ کیتھرن سووبوڈا (Kathryn Swoboda) کہتی ہیں "آپ سوچیں، ان ماں باپ پر کیا گزری ہوگی۔ یہ ان کے لیے بہت مشکل ہے۔"

کئی والدین یہ بات سننا نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ایک ایسی سنگین مرض کا شکار ہوں گے، جو کئی سال بعد جا کر شروع ہوگا۔ ایس ایم اے ایک بہت اچھی مثال ہے۔ اس مرض کی پانچ مختلف اقسام ہیں۔ زیادہ تر کیسز چھ سے 18 ماہ کی عمر میں سامنے آجاتے ہيں، لیکن ایک قسم ایسی ہے جو صرف بڑی عمر میں ہی اثر دکھاتی ہے۔ اسی طرح، اے ایل ڈی، جس پر بلوبرڈ کام کررہی ہے، دو سے 10 سال کے درمیان کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ سووبوڈا کے مطابق یہ بات جان لینے کے بعد والدین کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات جوڑنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

تاہم، کیفالس جیسے افراد کہتے ہيں کہ یہ معلومات حاصل کرنے کے فوائد اس کے خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ "بچوں کے پیدا ہوتے ہی یہ جان لینا کہ آپ کا بچہ کسی سنگین مرض کا شکار ہے، بہت مشکل ہے، لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔"

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top