Global Editions

جین تھراپی سے زندگی بھر انتقال خون کی ضرورت ختم ہوسکتی ہے

ایک جینیاتی تبدیلی کی اصلاح کے بعد بیٹا تھیلیسیمیا کے مریض صحت مند خون کے سیلز پیدا کرسکیں گے۔

ایک چھوٹے سے مطالعے میں ایک موروثی خون کے مرض کے تجرباتی علاج کے ڈرامائی نتائج سامنے آئے ہيں۔ یہ نہ صرف اس علاج کو ایجاد کرنے والی کمپنی بلوبرڈ بائيو (Bluebird Bio) کے لیے بلکہ عمومی طور پر جین تھراپی کی ٹیکنالوجی کے لیے، جس کے ذریعے مختلف امراض کے شکار افراد کے ڈی این اے میں ترمیم کے ذریعے ان کا علاج کیا جاتا ہے، بہت بڑی کامیابی ہے۔

دنیا بھر میں 288،000 افراد بیٹا تھیلیسیمیا کا شکار ہيں، جو ایک ایسا جینیاتی مرض ہے جس میں جسم خون کے سرخ خلیوں میں آکسیجن کی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرنے والے فولاد سے بھرپور ہیموگلومن کافی مقدار میں پیدا نہيں کرتا ہے۔ تاہم بلوبرڈ کے علاج کے ایک بین الاقوامی کلینیکل ٹرائل میں تھراپی کے بعد اس مرض کے شکار 22 میں سے 15 مریضوں کو انتقال خون کی مزید ضرورت نہيں رہی۔ باقی سات مریضوں میں، جن میں سے زيادہ تر میں یہ مرض کافی شدت اختیار کرچکا تھا، انتقال خون کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر ساڑھے تین سالوں تک مریضوں کی نگرانی کرتے رہے، اور اس دوران علاج کے فوائد میں کمی نظر نہيں آئی۔ یہ نتائج آج نیو اینگلینڈ جرنل آف میڈيسن (New England Journal of Medicine) میں بھی شائع ہوئے ہيں۔

شیکاگو کے لوری چلڈرنز ہسپتال (Lurie Children’s Hospital) کی ڈاکٹر اور اس مطالعے کی مصنف الیکسس تھامپسن (Alexis Thompson) نے بتایا کہ اس مطالعے میں شرکت کرنے والے تمام مریض چھ ماہ کی عمر سے ہر تین سے چار ہفتے بعد باقاعدگی کے ساتھ خون کے ٹرانسفیوژنز کروارہے تھے۔

انتقال خون کے ایک سیشن میں چار سے چھ گھنٹے تک لگ سکتے ہیں، اور بار بار کروانے سے خون میں فولاد جمنا شروع ہوجاتا ہے، جو کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ 2016ء میں برطانیہ میں منعقد ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق بیٹا تھیلیسیمیا کے شکار ایک مریض کو 50 سال تک علاج فراہم کرنے کے اخراجات 720،000 ڈالر سے تجاوز کرسکتے ہيں۔

اس جین تھراپی میں مریض کے ہڈیوں کے گودے سے سٹیم سیلز نکال کر ان میں جسم کے باہر ایک وائرس کے ذریعے ترمیم کی جاتی ہے، جس میں کچھ ردوبدل کرکے ہیموگلوبن بنانے والے ایچ بی بی جین کی درست نقول شامل کی جاتی ہیں۔ اس جین کی تبدیلیاں بیٹا تھیلیسیمیا کی وجہ بنتی ہیں۔ اس کے بعد ان سیلز کو واپس مریض کے ہڈی کے گودے میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ صحت مند خون کے سیلز پیدا کرسکیں۔

تھامپسن بتاتی ہیں کہ اس تھراپی کے نتائج کافی حیرت انگیز ثابت ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں "یہ مریض تاحیات ایک ایسے علاج میں پھنسے ہوئے تھے جو تکلیف دہ ہونے کے علاوہ مہنگا بھی ثابت ہورہا تھا۔ اب جین تھراپی کی مدد سے ان کے لیے خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ممکن ہوگیا ہے۔"

دسمبر میں امریکہ نے پہلی دفعہ ایک موروثی جینیاتی خصوصیت کی اصلاح کے لیے جین تھراپی کی منظوری دے دی۔ لکسٹرنا (Luxturna) نامی اس تھراپی کی وجہ سے آج ایک نایاب قسم کی نابینائی کے شکار دو درجن سے زیادہ افراد کی بینائی میں بہتری نظر آئی ہے۔ اس کے علاوہ، پچھلے سال کمریا (Kymriah) اور ییسکارٹا (Yescarta) نامی دو جین تھیراپیوں کو بھی منظوری مل چکی ہے۔

میساچوسیٹس کے شہر کیمبرج میں واقع بلوبرڈ سکل سیل کے مرض اور نظام اعصابی کو متاثر کرنے والے مرض پچپن کے سیریبرل ایڈرینولیوکوڈس ٹروفی (cerebral adrenoleukodystrophy) کے لیے بھی، جسے لورینزوز آئل کا مرض کہا جاتا ہے، بھی جین تھراپیاں تیار کررہے ہیں۔ 2017ء میں اس کمپنی نے بتایا کہ جین تھراپی سے سکل سیل کا علاج کروانے والے ایک لڑکے میں، جس کا تعلق فرانس سے ہے، مزید علامات سامنے نہيں آئی ہیں۔

بلوبرڈ کے چیف میڈیکل افسر ڈیوڈ ڈيوڈسن (David Davidson) کے مطابق ان کی کمپنی اس سال یورپ میں بیٹا تھیلیسیمیا کی تھراپی کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، جس کے بعد وہ امریکہ میں منظوری کی درخواست دے گی۔ وہ کہتے ہيں کہ منظوری حاصل کرنے کی صورت میں بلوبرڈ امریکہ اور یورپ میں کئی جگہوں پر یہ تھراپی پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top