Global Editions

پلاسٹک کا کچرا تلف کرنے والی فنگس

ایک پاکستانی سائنسدان نے ایک فنگس دریافت کی ہے جو پلاسٹک توڑ سکتی ہے۔

ایک زمانے میں سیاحوں کے لیے جنت سمجھا جانے والا یہ علاقہ اب کچرے کے ڈھیروں کی وجہ سے آلودہ ہو چکا ہے۔ پلاسٹک بیگ، بوتلیں اور دوسرا کچرا پاکستان کی دوسری بڑی تازہ پانی کی جھیل کینجھر کے ارد گرد ہر طرف موجود ہے۔ کراچی شہر سے 122 کلومیٹر اور ضلع ٹھٹہ سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ جھیل دونوں علاقوں کے لوگوں کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ ہے۔

اس جھیل میں سیاح روزانہ تیرنے، مچھلی پکڑنے اور پکنک منانے کے لیے آتے ہیں۔  یہ سیاح اپنے پیچھے پلاسٹک چھوڑ جاتے ہیں جو پانی کو آلودہ کرتا ہے، آبی جانوروں کے لیے بھی نقصان پہنچاتا ہے اور بیماریاں پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ جب اس کچرے کو جلایا جاتا ہے تو اس سے انسانوں کے لیے ہوا زہریلی ہو جاتی ہے۔

مصنوعی پلاسٹک سے، جس کو گلنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، ماحول کو ایک بہت بڑا خطرہ لاحق ہے۔ ہر سال عالمی سطح پر تقریباً  30 کروڑ ٹن پلاسٹک کی پیداوارہوتی ہے، جس میں سے صرف 10 فیصد پلاسٹک کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر پلاسٹک پھینک دیا جاتا ہے۔ کچھ پلاسٹک کی اقسام کو گلنے میں اوسطاً ہزاروں سال لگتے ہیں۔ ایک عام پلاسٹک کے بیگ کو گلنے کے لیے کم سے کم 500 سال درکار ہیں۔

2017ء میں ایک پاکستانی محقق نے ایک اہم دریافت کی تھی جس سے کوڑے کے انتظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔ ورلڈ ایگرو فارسٹری اور کنمنگ انسٹی ٹیوٹ آف بائیولوجی میں پاکستانی اور چینی سائنسدانوں پر مشتمل  ایک ٹیم نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ -10 میں ایک ایسی فنگس دریافت کی ہےجو محض چند ہفتوں میں پلاسٹک کو توڑ سکتی ہے۔ محققین نے پی یو کی بائیو ڈی گریڈنگ فنکشن کی علیحدگی اور نشاندہی کی غرض سے مٹی کے نمونوں کے علاوہ پلاسٹک کے کئی ٹکڑے، لکڑی اور کنکر بھی جمع کیے۔

بین الاقوامی جریدے انوائرنمنٹ پالوشن (Environmental Pollution) میں چھپنے والی خان کی تحقیق زمین میں رہنے والی فنگس کی ایک قسم ایسپرگلئیس ٹیوبی جینیسس (Aspergillus tubingensis)  پر مرکوز ہے جو کہ انزائمز کا استعمال کرکے پولیسٹر پولیئریوتھرین یا پی یو(Polyster Polyrethane-PU) جیسے پلاسٹکس کومحض چند  ہفتوں میں ختم کر سکتی ہے۔

ایسپرگلئیس ٹیوبی جینیسس عام طور پر زمین میں نشوونما پاتی ہے لیکن محققین کو معلوم ہوا کہ یہ پلاسٹک کی سطحوں پر کالونیاں بنا کر پروان چڑھ سکتی ہے۔ یہ انزائمز کو خارج کرتے ہوئے پلاسٹک کو توڑتی ہے جس سے انفرادی مالیکیولز کے درمیان موجود بانڈز کمزور ہوجاتے ہیں اور یہ اپنے دھاگے کی طرح کے ہائفے سے پیدا ہونے والی میکانی قوت کا استعمال کرکے ان کو جدا کر دیتی ہے۔ اس عمل میں صرف چند ہفتے لگتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق فنگس کی پلاسٹک توڑنے کی صلاحیت کی تین مختلف طریقوں سے جانچ پڑتال کی گئی: صابوراڈ ڈیکٹروس ایگر ایس ڈی اے (Sabourad Dextrose Agar-SDA) پلیٹ میں، مائع معدنی نمک کے میڈیم میں (Mineral Salt Medium-MSM) اور مٹی میں دفن کرنے کے بعد۔ محققین کو معلوم ہوا کہ فنگس کی پلاسٹک پولیسٹر پولیئریوتھرین کو توڑنے کی صلاحیت سب سے زیادہ اس وقت تھی جب ایس ڈی اے کلچر کا استعمال کیا گیا ۔اس کے بعد اس کی کارکردگی مائع معدنی نمک کے میڈیم میں رہی اور آخر میں زمین میں دفن کرنے کی صورت میں۔ بلکہ مائع معدنی نمک کے میڈیم میں فنگس نے صرف دو ماہ کے اندر ہی پلاسٹک پولیسٹر پولیئریوتھرین کو توڑ کر چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تھا۔

محققین کی ٹیم کو یہ بھی معلوم ہوا کہ فنگس کی کارکردگی درجہ حرارت، اس کے ارد گرد پی ایچ کے توازن اور کاربن کلچر کے میڈیم سے متاثر ہوئی۔ اب وہ اس عمل کو دہرانے کے لیے موزوں حالات کے متعلق تحقیق کررہے ہيں۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے بات کرنے کے دوران ڈاکٹر خان نے کہا میں نے کچھ کام پاکستان میں ایم فل کے دوران کیا اور کچھ کام چین میں اپنے پوسٹ ڈاک کے دوران کیا۔

وہ مزید کہتے ہیں ’’ہمیں ابھی بھی یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ حتمی مصنوعہ کیا ہو گی، وہ کس حد تک محفوظ ہو گی اور ماحول پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟‘‘

بعد میں منعقد ہونے والی تحقیق میں ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے ایسی امید افزاء فنگسیں دریافت کی جو پلاسٹک کو گلانے میں بہت معاون ثابت ہوئیں۔ ایک بین الاقوامی تعلیمی جریدہ اس وقت اس تحقیق پر نظرثانی کر رہے ہیں اور نتائج کے لیے پیٹنٹ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

کیا ہم پلاسٹک کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کو الوداع کہہ سکتے ہیں؟

کم قیمت، ہلکی پھلکی اور پائیدار ہونے کی وجہ سے پولیسٹر پولیئریوتھرین جیسی پلاسٹک کے کئی استعمال ہیں مثلاً پلاسٹک فوم، ٹائرز، بمپرز، پینٹس،مصنوعی چمڑا، ریفریجریٹر اور آٹوموبائل ۔اس طرح کا تمام مواد بالاخر  زمین بھرنے میں استعمال ہوتا ہے، پانی کے وسائل کو آلودہ کرتا ہے اور زمین کی سطح پر گندگی پھیلاتا ہے۔ اس ماحول دوست فنگس کی شناخت سے دنیا بھر میں بڑی مقدار میں پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

2016ء میں کیوٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Kyoto Institute of Technolgy)اور کیو یونیورسٹی  (Keio University) کے محققین نے بھی ایک ایسا انکشاف کیا تھا جو پلاسٹک کے کچرے کے پائیدار انتظام میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے  بیکٹیریا کی ایک نئی قسم دریافت کی تھی جو پولی ایتھائلین ٹیرافتھالیٹ (Polyethylene Terephthalate) جیسی پلاسٹک کو توڑ سکتی ہے۔ یہ پلاسٹک عام طور پر ڈسپوزایبل پانی کی بوتلوں میں پایا جاتا ہے اور دنیا کی سالانہ پلاسٹک کی پیداوار کے چھٹے حصے پر مشتمل ہے۔

پلاسٹک کے کوڑے کو جلانے یا دفنانے کی سابقہ کوششوں کے نتائج زیادہ مثبت نہيں رہے۔ اس کے جلانے یا دفن کرنے سے زہریلے باقیات نکلے مثلاً الڈی ہائڈز،آئزونیٹس، امونیا، سائنائیڈ، وینائل کلورائیڈ اور نائٹروجن آکسائڈ جو نہ صرف پودوں، جانوروں اور انسانی صحت کے لیے خطرناک  ہیں بلکہ ماحولیاتی عمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

ماحولیاتی کارکنان اور آزاد ماہرین کے مطابق، پلاسٹک فضلے کے انتظام میں زندہ جرثوموں کے استعمال کے حوالے سے ابھی بھی ایک اہم سوال موجود ہے۔

پاکستان میں ماحولیات کی ایک کارکن تابیتھا سپینس(Tabitha Spence) نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’چونکہ یہ ایک زندہ جرثومہ  ہے، فنگس کی ایک قسم کے بارے میں بائیولوجیکل اور ایکالوجیکل خدشات ہوں گے۔‘‘

وہ مزید کہتی ہیں،’’شاید ساری پلاسٹک غائب ہوجائے لیکن اس عمل سے ایک بائی پروڈکٹ پیدا ہو اور کیمیائی طور پراس بائی پروڈکٹ پلاسٹک میں وہی اجزاء ہوں جو پہلی پلاسٹک میں موجود تھے۔‘‘

سپینس نے کہا کہ خطرات کو مدنظر رکھے بغیر مسائل کو دیکھنے کا ایک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ ہم مسئلے کو جڑ سے دیکھیں چاہے یہ ڈسپوزایبل کنٹینرز کی اضافی پیداوار ہو یا کچھ اور۔

سپینس کہتی ہیں کہ پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کی حکمت عملی میں ری سائیکلنگ کو شامل کرنا ہوگا۔ پاکستان میں شہروں کو ذمہ داری لے کر ری سائیکلنگ کے لیے ایک رسمی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف پلاسٹک بلکہ شیشہ، ٹن، دھاتوں اور دوسرے مواد کا احاطہ کرتی ہو۔ سپینس نے کہا ،’’دنیا بھر میں بہت سارے ماڈلز موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پلاسٹک کے کچرے سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘

نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اور ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر اور معروف ماہر ماحولیات ڈاکٹر محمد انور بیگ نے کہا کہ پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔ انہوں نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’ نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی چیز کو پلاسٹک میں شامل کیا جا سکتا ہے (جو بائیوڈی گریڈایبلٹی کو فروغ دیتی ہو) تاکہ پلاسٹک جلد گل سڑ سکے۔‘‘

فنگس کا مستقبل

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویوپاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے کہا کہ کچرے کو ضائع کرنے کے اثرات کو سمجھنے کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ضائع شدہ پلاسٹک کی آخری پراڈکٹ کو دیکھنا ہوگا اور معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کس حد تک محفوظ ہیں اور ماحول پر ان کا کیا اثر ہوگا۔

تاہم جب تک پائیدار حل نہیں مل جاتا اور عملدرآمد نہيں کیا جاتا، پاکستان میں کچرے کے ڈھیروں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

تحریر: ماہ رخ سرور

مترجم: محمد احسان

مصنفہ سٹاف ممبر ہیں۔

Read in English

Authors

*

Top