Global Editions

قابل تجدید توانائی سے ملک کا انجن چلانا

سکویئر سپیس
پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی سے زيادہ حیاتیاتی ایندھنوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ کیا ماحولیاتی تبدیلی اور قابل تجدید توانائی کی تیزی سے گرتی ہوئی قیمتوں سے اس رجحان میں تبدیلی آسکتی ہے؟

سات ستمبر کو آسٹریلوی کمپنی فورٹیسکیو میٹلز گروپ (Fortescue Metals Group) کے چیئرمین اینڈریو فاریسٹ (Andrew Forrest) نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ایک میٹنگ کے دوران پاکستان کے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی کمپنی کی دلچسپی کے متعلق بات کی۔ اسی دوران کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ K2 نے، جو چین کی ہیوالونگ ون (Hualong One) ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا پہلا یونٹ بھی ہے، اپنے ہاٹ فنکشنل ٹیسٹس (Hot Functional Tests) مکمل کرلیے۔ اگست میں گرین بی آر آئی سینٹر (Green BRI Centre) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسٹوف نیڈوپل وینگ (Christoph Nedopil Wang) نے کہا کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (Belt and Road Initiative) میں قابل تجدید اور پائیدار توانائی کی سرمایہ کاریوں میں اضافے کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ پیش رفت 6 اگست کو پاکستان کی کونسل آف کامن انٹرسٹس (Council of Common Interests) کی طرف سے متبادل اور قابل تجدید توانائی کی پالیسی کی منظوری کا نتیجہ ہے۔ اس میٹنگ کے دوران پاکستان کے گیس کے بحران پر بات کی گئی تھی، جو اقدام نہ کرنے کی صورت میں موسم سردا کا سب سے سنگین بحران ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میٹنگ میں ملک بھر میں ہوائی توانائی کے پراجیکٹس کی راہ مزید ہموار کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دوران ونڈفال لیوی (Windfall Levy) کے دیرینہ مسئلے کو بھی زيربحث لایا گیا۔ متبادل اور قابل تجدید توانائی کی پالیسی کا مقصد پاکستان میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا اور ہائیڈرو الیکٹرک توانائی کے علاوہ شمسی، ہوائی، جیوتھرمل اور بائیو توانائی سمیت متبادل ذرائع کے استعمال میں اضافہ کرنا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2019ء – 2020ء کے مطابق، اس وقت پاکستان میں سب سے زيادہ استعمال (یعنی 58.4 فیصد) تھرمل انرجی کا ہوتا ہے۔ تاہم پچھلے 12 مہینوں کے دوران اس کے استعمال میں 4.6 فیصد کمی نظر آئی ہے۔ پچھلے سال کے دوران ہائيڈرو پاور کا استعمال 25.8 فیصد سے بڑھ کر 30.9 فیصد ہوچکا ہے۔ دوسری طرف جوہری توانائی کا استعمال (جسے ”صاف توانائی“ کے بجائے ”قابل تجدید توانائی“ کے زمرے میں شمار کرنا بھی بحث کی بہت بڑی وجہ بن گیا ہے) تین فیصد سے بڑھ کر 8.2 فیصد ہوچکا ہے۔ تاہم پچھلے سال کے دوران قابل تجدید توانائی کے دوسرے ذرائع کا استعمال 8.2 فیصد سے کم ہو کر محض 2.4 فیصد ہوچکا ہے، اور حکومت اس شرح کو بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔

پاکستان میں 1980ء کی دہائی سے قابل تجدید توانائی پر غور کیا جارہا ہے۔ 2006ء میں قابل تجدید توانائی کی پالیسی تشکیل دی گئی تھی، جس کے مطابق 2015ء تک پاکستان میں توانائی کی 15 فیصد ضروریات قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا گيا تھا۔ تاہم یہ ہدف پورا نہ ہوسکا۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں روایتی بجلی کی کمپنیوں کا زور اور قابل تجدید ٹیکنالوجی کی زیادہ لاگت سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں حیاتیاتی ایندھن (fossil fuels) پر مشتمل ذرائع کو عام طور پر حکومت کی طرف سے زيادہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے، جبکہ شمسی اور ہوائی توانائی کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر زيادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے۔

١٠٠ میگاواٹس کی گنجائش رکھنے والے قائد اعظم سولر پارک کا شمار سی پیک کے ان گنے چنے منصوبوں میں ہوتا ہے جو قابل تجدید توانائی کے لیے لگائے گئے ہيں۔ کریڈٹ : جیو

تبدیلی کا ماحول

2016ء کے پیرس کے معاہدے کے بعد صاف توانائی تک رسائی کو ایک بنیادی انسانی حقوق تصور کیا جانے لگا اور اس کا مطالبہ مزید شدت اختیار کرتا گيا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ جب کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤنز کا سلسلہ شروع ہوا اور لوگوں کو صاف ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا تو ان کوششوں نے مزيد زور پکڑلیا اور دنیا بھر میں ماحول دوست پالیسیوں کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کا مطالبہ سامنے آیا۔

پاکستان میں نقل و حمل، توانائی، اور صنعتی شعبہ جات سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث شہریوں کی متوقع زندگی دو سال کم ہوچکی ہے۔ تاہم یہاں بھی کرونا وائرس کی وبا کے پہلے دو مہینوں کے دوران NO2 کے اخراجات میں 56 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

اس پیش رفت کے باوجود ماحولیاتی وکیل اور کلائیمیٹ ایکشن ناؤ! (Climate Action Now!) کے کارکن احمد رافع عالم زيادہ خوش دکھائی نہيں دیتے۔ وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ” کیا ہم اب تک یہ نہیں سیکھ پائے کہ ہوائی آلودگی ختم کرنے کا بہترین طریقہ نقل و حمل، توانائی یا صنعتی شعبہ جات کے اخراجات پر قابو پانا ہے؟ کیا ابھی بھی پنجاب کی ایجنسی برائے ماحولیاتی تحفظ کی سوچ اینٹوں کی بھٹیوں سے آگے نہيں بڑھ پارہی؟“

جو افراد ابھی بھی حیاتیاتی ایندھن کا دفاع کرتے ہيں، وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ حیاتیاتی ایندھن کے بغیر ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان جیسا غریب ملک قابل تجدید توانائی کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تاہم کئی ماہرین حیاتیاتی ایندھن کے موجودہ پلانٹس کے ساتھ ساتھ صاف ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر مستقبل میں صرف قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ناقابل تجدید توانائی کے استعمال کی شرح خود بخود کم ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ، پچھلے چند سالوں میں قابل تجدید توانائی کے پراجیکٹس کی لاگت میں بھی آہستہ آہستہ کمی آئی ہے۔ چند ممالک میں ہوائی اور شمسی پاور پلانٹس کی فی یونٹ لاگت میں 90 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

عالم بتاتے ہیں کہ ”پاکستان میں اب قابل تجدید توانائی کے نرخ حیاتیاتی ایندھن کے مقابلے میں بہت کم ہوچکے ہیں۔ مالی اعتبار سے اب گرین ہاؤس گیسز اور ہوائی آلودگی میں اضافہ کرنے والے پراجیکٹس جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہيں ہے۔“

ناقدین دعویٰ کرتے ہیں کہ قابل تجدید توانائی استعمال کرنے سے گرڈ چلانے کے لیے کافی بجلی پیدا نہيں ہوسکے گی۔ تاہم عالم اس رائے سے متفق نہيں ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے کچھ عرصے میں بیٹریوں کی قیمتوں میں بہت زيادہ کمی اور ان کی گنجائش میں بہت زيادہ اضافہ ہوا ہے، اور قابل تجدید توانائی کے لیے موجودہ گرڈز کے بجائے غیرمرکزی گرڈز زيادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

وہ کہتے ہيں کہ ”قابل تجدید توانائی کے استعمال سے اسی وقت فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اگر موجودہ گرڈ کو بھی بہتربنایا جائے۔ اس وقت موجودہ گرڈ کئی سنگین مسائل کا شکار ہے، جس میں سے اس کے باعث بڑھنے والا گردشی قرضہ سرفہرست ہے۔“

کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ۔ کریڈٹ : پاور ٹیکنالوجی

ایک نہ ختم ہونے والا چکر

پچھلے پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں پاور جینریشن کی گنجائش میں 10,000 میگا واٹس کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہاں مجموعی گنجائش 34,000 میگا واٹس تک جا پہنچی ہے۔ اس کے باوجود اس شعبے کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں کوئیسکو (Quesco) اور پیسکو (Pesco) جیسی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث 2.2 ارب روپے کا گردشی قرضہ، تاروں سے گزرنے کے دوران بجلی کا نقصان، اور صارفین سے بلنگ کی رقم بازیاب کرنے میں ناکامی سرفہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال شہریوں کو ایک بار پھر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا رہا۔

ماہرین کے مطابق اس وقت پیدا ہونے والی تمام بجلی میں سے 20 فیصد کی وصولی نہيں ہوپاتی، جس کے باعث ڈسٹری بیوشن کے سسٹمز کو بھاری بھرکم نقصان ہوتا ہے، جو لوڈ شیڈنگ میں اضافے کی وجہ بنتا ہے۔ بعض افراد یہ بھی کہتے ہيں کہ غریب صارفین سے بجلی کی قیمت وصول کروانا سیاسی اعتبار سے بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اس کے علاوہ، بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں بدعنوانی اور میٹروں کی ہیرا پھیری جیسے مسائل کا بھی شکار ہيں۔

پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے سابق مالی اور توانائی کے مشیر فرخ سلیم بتاتے ہيں کہ ”اس وقت بجلی کی چوری کی شرح 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔ صرف 85 سے 90 فیصد بلوں کی وصولی ہو پاتی ہے۔ دوسری طرف توانائی کے کانٹریکٹس کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ بجلی پیدا کرنا ہی بہت مہنگا  ثابت ہوتا ہے۔“

سی پیک پاکستان اور چین کو ایسے انفراسٹرکچر سے مربوط کررہا ہے جس میں توانائی کے پراجیکٹس پر سب سے زيادہ توجہ دی گئی ہے۔ کریڈٹ : ٹربیون ری لوڈڈ

چین اور پاکستان کے درمیان توانائی کے معاہدوں سے وابستہ خدشات

سلیم عرصہ دراز سے پاکستان میں توانائی کے شعبے کی پالیسیوں سے کافی ناخوش ہيں۔ انہوں نے 62 ارب ڈالر کی مالیت رکھنے والے چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور (China Pakistan Economic Corridor – CPEC) (سی پیک) کے پراجیکٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس میں دوراندیشی سے کام نہيں لیا گيا ہے۔ بیجنگ خود چین میں حیاتیاتی ایندھن پر چلنے والے پراجیکٹس بند کرنے کی بات کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف سی پیک کے دو تہائی پراجیکٹس میں کوئلے کے استعمال پر زور دے رہا ہے۔

بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، کئی ماہرین حکومت کو سی پیک سمیت متعددتوانائی کے  پراجیکٹس میں ترمیم کرنے پر زور دے رہے ہيں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کوششیں اگست 2018ء میں، یعنی پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد، شروع ہوچکی تھیں۔ تاہم چینی اور پاکستانی حکومتوں کے درمیان اختلافات کے باعث انہیں کافی مداخلت کا سامنا رہا۔

بیجنگ اس بات سے کافی ناخوش تھا کہ اسلام آباد میں سی پیک کی کمی بیشیوں کے متعلق کھل کر بات کی جارہی تھی۔ چینی حکومت کو اس بات پر بھی بہت اعتراض تھا کہ ان معاہدوں کو ”فرسودہ“ اور ”غیرمنصفانہ“ قرار دیا جارہا تھا اور میڈیا پر بھی ان کی خامیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا۔

فرخ سلیم کہتے ہيں کہ ”چین یہ نہيں چاہتا کہ ہم کوئی مسئلہ سب کے سامنے لائيں۔ وہ معاہدوں کی شرائط و ضوابط تبدیل کرنے کو تیار ہے، لیکن وہ میڈیا پر بحث و مباحثہ نہيں دیکھنا چاہتا۔ ممکن ہے کہ ہماری حکومت صرف سیاسی نمبر بنانے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہو۔ پاکستان میں سرمایہ کاری چین کے مفاد میں ہے اور اگر ہم ان کی شرائط پر چلیں تو توانائی کے شعبے سمیت ہماری کئی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔“

توانائی کے ماہرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ پاکستان میں ونڈ ملز، بشمول ونڈ ٹربائنز اور بلیڈز کی تخلیق، کے بارے میں چین سے بات کی جاسکتی ہے۔ اس وقت بھارت میں ونڈ ملز بنائے جارہے ہيں، جن کی بدولت دو ہزار سے تین ہزار میگا واٹس سالانہ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ چین میں بھی ہوائی توانائی پیدا کرنے کی گنجائش میں ہر سال دس گنا اضافہ ہوتا ہے۔

ہمارے سیارے پر ہر گھنٹے ایک لاکھ ٹیرا واٹس کے قریب شمسی توانائی پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں شمسی توانائی کو بھی بجلی کے عالمی بحران کے حل کے طور پر تصور کیا جارہا ہے۔ ستمبر 2015ء میں چین نے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شمسی فارم بنانے میں معاونت فراہم کی۔ قائد اعظم سولر پاور پارک (Quaid-i-Azam Solar Power Park) نامی اس پراجیکٹ کا شمار سی پیک کے ان گنے چنے پراجیکٹس میں ہوتا ہے جو قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے لیے لگائے گئے ہيں۔ بہاولپور کے باہر ایک صحرا میں 200 ہیکٹیر کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس فارم کی گنجائش 100 میگا واٹس ہے۔

بائیو توانائی قابل تجدید توانائی کا ایک دوسرا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔  پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو ہر سال 50,000 گیگا واٹ گھنٹے بائیو ماس بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں بائیو توانائی کو بھی بروئے کار لانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ دیہی علاقہ جات کو بھی بائیو توانائی تک زیادہ آسانی سے رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ اسلام آباد اور بیجنگ پہلے سے ہی زراعتی شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں، جس میں پیداوار بڑھانے کی نئی ٹیکنالوجیز کے سلسلے میں تعاون شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق قابل تجدید توانائی کی جانب عہدبستگی کو اس زراعتی تعاون کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

سموگ کے باعث لاہور کچھ عرصے کے لیے دنیا کا آلودہ ترین شہر بن جاتا ہے۔ کریڈٹ : اے پی

جوہری توانائی کے مسائل

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے سلسلے میں بھی تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان ایٹومک اینرجی کمیشن (Pakistan Atomic Energy Commission) نے 2020ء تک جوہری توانائی کی پیداوار 8,600 میگا واٹس تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن انہیں کافی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (Nuclear Non-Proliferation Treaty) پر دستخط کرنے سے انکار کے باعث عالمی سطح پر پاکستان پر متعدد پابندیاں عائد کردی گئيں، جس سے جوہری توانائی کے شعبے کو کافی نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود ماہرین اس بات پر قائم ہيں کہ پاکستان میں جوہری توانائی بہت کامیاب ثابت ہوسکتی ہے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہيں کہ چین میں جوہری توانائی کی صنعت کی بنیاد رکھی جارہی ہے، جو جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے مواقع کی تلاش میں ہے۔

چین نے چشمہ میں 300 میگا واٹ کی گنجائش رکھنے والے چار ری ایکٹرز نصب کرلیے ہيں۔ 2014ء میں چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن (China National Nuclear Corporation) نے کراچی میں 1,100 میگا واٹس کے دو ری ایکٹرز کی تعمیر شروع کردی۔ ان میں سے ہر ایک ری ایکٹر کی لاگت پانچ ارب ڈالر کے قریب ہے، جس کی 80 فیصد رقم چین کی جانب سے قرض کی صورت میں فراہم کی گئی ہے۔ تاہم ان ری ایکٹرز کے تحفظ کے متعلق کئی خدشات موجود ہيں۔

جوہری فزسسٹ پرویز ہود بھائی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہیں کہ ”ہم نے دیکھ ہی لیا کہ بارش زيادہ ہونے کی صورت میں کراچی کا کیا حال ہوا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہاں آفات کے انتظام کے لیے کسی قسم کی سہولت موجود نہيں ہے۔ یہ دو جوہری ری ایکٹرز 2022ء، زيادہ سے زيادہ 2023ء، تک مکمل ہو جائيں گے، اور انہيں اسی شہر کے کنارے استعمال کیا جانے والا ہے۔ پاکستان اب تک وہ واحد ملک ہے جسے چین جوہری ری ایکٹرز فروخت کر رہا ہے۔“

ہود بھائی پاکستان میں حیاتیاتی ایندھن کے ضرورت سے زيادہ استعمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہيں کہ ”یہاں قابل تجدید توانائی کے بارے میں صرف بات کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر اسے کوئی اہمیت نہيں دی جاتی۔“ وہ تھر اور بلوچستان میں کوئلے کے ذخائر کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہيں کہ حکومت انہیں ”کلیدی وسائل“ تصور کرتی ہے اور اگلی چند دہائیوں کے اندر انہيں نکال کر ان کا بھرپور استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ”عالمی رجحانوں کے برخلاف، پاکستانی حکومت قابل تجدید توانائی کے بجائے کوئلے سے حاصل کردہ توانائی کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو 2040ء تک کوئلے سے حاصل کردہ توانائی کی پیداوار قابل تجدید توانائی سے 70 فیصد زيادہ ہوگی۔ اس وقت عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے، لیکن اگر حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے تو پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کی بہت بڑی وجہ بن جائے گا۔“

نومبر 2018ء میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستانی اور چینی وفود کے درمیان مذاکرات کی ایک تصویر۔ کریڈٹ : ریڈيو پاکستان

دیگر ذرائع کی نظر ثانی

توانائی اور ماحولیاتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہيں کہ پاکستان کو ہائیڈرو توانائی کی پیداوار کی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہائیڈرو توانائی قابل تجدید تو ہے، لیکن اسے کسی بھی صورت صاف توانائی تصور نہيں کیا جاسکتا۔ ڈیمز کی تعمیر و مرمت ماحولیاتی اعتبار سے بہت نقصاندہ ثابت ہوتی ہے اور یہ گرین ہاؤس گیسز میں اضافے کی وجہ بنتی ہے۔

ماحولیاتی ماہر صائمہ بیگ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہیں کہ ”ڈیمز کی تعمیرات کے باعث پانی کے نیچے وافر مقدار میں حیاتیاتی مواد سڑنا شروع ہوجاتا ہے، جس سے ہوا میں میتھین کی مقدار میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ ماحولیاتی اعتبار سے یہ میتھین کاربن ڈائی آکسائيڈ سے بھی زیادہ نقصاندہ ہے۔“

بیگ کے مطابق covid-19 سے پاکستان کو یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ اسے صاف توانائی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صاف ٹیکنالوجی اور ہوائی، شمسی اور لہروں جیسے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو پروان چڑھانے سے نہ صرف پاکستان کے توانائی، معیشت، اور ماحولیات سے وابستہ مسائل حل کیے جاسکيں گے بلکہ ملازمت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

انسٹی ٹیوٹ آف اینرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس (Institute of Energy Economics and Financial Analysis) اور الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین اینرجی (Alliance for Climate Justice and Clean Energy) کی ایک مشترکہ رپورٹ میں پاکستان میں بجلی کی تخلیق کاری کے طویل المیعاد منصوبے کی خامیوں کو اجاگر کیا گيا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پالیسیوں کے سب سے بڑے مسائل میں مانگ کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا، مہنگی بجلی، اور کوئلے کو ترجیح دینا شامل ہيں۔

اس مطالعے میں یہ بھی بتایا گيا ہے کہ انٹیگریٹڈ جینریشن کیپاسٹی اینہانسمنٹ پلان 2047ء (Integrated Generation Capacity Enhancement Plan – 2047) میں covid-19 کے اثرات کو خاطر میں نہیں لایا گيا ہے۔ توانائی کے ماہرین کو اس بات کا خدشہ ہے کہ covid-19 کے لاک ڈاؤنز کے باعث ماحول پر جو اثرات واضح ہوئے ہیں، انہيں نظرانداز کرنے سے پاکستان کا مستقبل تباہ و برباد ہوجائے گا۔

 ماہرین ایک ہزار میل لمبے ساحل کی لہروں اور صحراؤں سے حاصل کردہ توانائی، اور شمسی اور ہوائی توانائی کے استعمال کی تلقین کرتے ہیں۔ فضلے کی نکاسی کے تسلی بخش انتظامات کی صورت میں جوہری توانائی کا کردار بھی بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین پالیسیوں کی تشکیل کے دوران توانائی اور ماحولیاتی مسائل کو مدنظر رکھنے پر بھی زور دیتے ہيں۔

بیگ کہتی ہیں کہ ”شہری علاقوں میں، خاص طور پر ایسے علاقہ جات میں جہاں دولت مند طبقہ رہتا ہے اور جہاں بجلی کا زيادہ استعمال ہوتا ہے، گھروں کی تعمیر کے دوران بجلی کے زیادہ موثر استعمال کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، گھروں کے مالکان کو مالی فوائد بھی فراہم کرنے چاہیے۔ ہمیں انفراسٹرکچر، مالی معاونت، ٹیکس کی رعایات، پالیسیوں اور قوانین کی بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔“

کئی افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے توانائی کے ذرائع کا بہترین امتزاج وہی ہوگا جس میں بیک وقت گرین ہاؤس گیسز میں کمی ہو، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہ ہو، اور کوئلے اور پیٹرولیم کی مصنوعات کی درآمدات کے باعث قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے۔ تاہم ماحولیاتی کارکنان کے مطابق ماحولیاتی بحران اس قدر سنگین ہے کہ ماحول کو معیشت پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

احمد رافع عالم کہتے ہيں کہ ”اگر عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو معیشت ہی نہيں بچے گی۔“

کنور خلدون شاہد لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہیں۔

Read in English

Authors

*

Top