Global Editions

اداریہ

انیسویں صدی کے بعد سے سطح زمین کے اوسط درجہ حرارت میں 1.1 ڈگری سنٹی گریڈ (یعنی تقریباً 2.0 ڈگری فارن ہائیٹ) کا اضافہ ہوا ہے، جس کا بیشتر حصہ پچھلے 35 سالوں میں سامنے آیا ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہے۔ ناسا کے مطابق، 1880ء میں ریکارڈز رکھنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے لے کر اب تک سب سے زيادہ درجہ حرارت 2016ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موسمی آفات کا تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ انسان ہيں۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے "بلین ٹری شجرکاری" مہم کا آغاز کیا۔ خیبر پختونخواہ کے دو اضلاع مالاکنڈ اور ہزارہ میں 1992ء، 2005ء اور 2010ء کے سیلابوں کی وجہ سے وسیع پیمانے پر جنگلات تباہ و برباد ہوچکے تھے۔ اس کے علاوہ، جنگلات کی تعداد میں کمی کی ديگر وجوہات میں آگ، جانوروں کا چرنا اور لکڑی کی سمگلنگ بھی شامل تھے۔ اس پراجیکٹ کی ابتدا سے پہلے، خیبرپختوانخواہ میں جنگلات کا رقبہ کم ہوتے ہوتے محض 20.3 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ اس شمارے کی کور سٹوری میں اس منصوبے کے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس میں بتایا گيا ہے کہ اس پر درحقیقت 1997ء میں کام شروع کیا گيا تھا، اور اب اس پراجیکٹ کی وجہ سے خیبر پختونخواہ دنیا کا پہلا خطہ بن چکا ہے جس کا ذکر بون چیلنج (Bonn Challenge) کے عالمی معاہدے میں کیا گیا ہے۔

اس پراجیکٹ کے اہداف کے حصول کے لیے صوبے کے ان حصوں میں بھی شجرکاری کی ضرورت پیش آئی، جہاں رسائی بہت مشکل ہے۔ لہٰذا پراجیکٹ کی ٹیموں نے ڈرونز کی مدد سے ان علاقہ جات میں بیج گرائے، اور محکمہ جنگلات نے ایک وقت میں 27 ٹن بیج بونے کے لیے خصوصی آلات بھی تیار کیے۔ بلین ٹری شجرکاری کا منصوبہ کس حد تک کامیاب رہا، اور اس میں ٹیکنالوجی کس طرح معاون ثابت ہوئی؟ یہ جاننے کے لیے افتخار فردوس کا مضمون ملاحظہ کریں۔

خیبرپختونخواہ کے علاوہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سامنے آرہے ہیں۔ 2015ء میں کراچی میں رونما ہونے والی گرمی کی شدید لہر کو کون بھول سکتا ہے، جس میں شدید گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے 1،200 افراد دم توڑ گئے؟ ساحل سمندر کے کنارے واقع اس شہر میں درجہ حرارت 42 ڈگری تک جاپہنچا، لیکن درختوں کی کمی اور بڑی بڑی عمارتوں کی وجہ سے یوں محسوس ہورہا تھا کہ درجہ حرارت 47 ڈگری ہوچکا ہے۔ حکام نے اس سے کیا سبق سیکھا ہے، اور وہ مستقبل میں پیش آنے والی گرمی کی لہروں کے لیے ٹیکنالوجی کا کس طرح استعمال کررہے ہيں؟ امر گرڑو کے مضمون میں ان سوالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ہمارے سوالات و جوابات کے سیکشن میں ہم نے نامور مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر شاہدہ حسنین کا انٹرویو پیش کیا ہے، جنہیں مائیکروبیالوجی کے شعبے میں یونیسکو کی طرف سے کارلوس جے فن لے (Carlos J. Finlay) کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ کے سلسلے میں اب تک کیا کیا تحقیقات کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان خلیج کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس فرق کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔

آخر میں، نیدرلینڈز کی یوتریخت یونیورسٹی (Utrecht University) سے پی ایچ ڈی کے طالبعلم جیکب سٹائنر (Jakob Steiner) پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئروں کی منظرکشی کرتے ہیں۔ سٹائنر نے ایشیاء کے پہاڑی علاقوں میں پانی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیق کی ہے، اور ان کے مطابق، ایشیاء کے دیگر اونچے پہاڑی علاقوں کے برعکس پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے کے بجائے مستحکم ہیں۔ اس خطے میں موسمیاتی سٹیشنز کیوں ضروری ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ان کا آرٹیکل پڑھیں۔

ڈاکٹر عمر سیف
مدیر اعلیٰ

Read in English

Authors
Top