Global Editions

اداریہ

کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کی قلت کی باتوں میں کوئی سچائی نہيں ہے۔ لیکن اس کی علامات پاکستان کے تقریباً ہر کونے میں پانی کی قلت، وسائل کی کمی اور آلودگی کی شکل میں نظر آرہی ہیں۔ موجودہ شمارے میں ہمارے پہلے مضمون کا تعلق پاکستان کے اسی آبی بحران سے ہے۔

پاکستان میں پانی کی سالانہ دستیابی 1,017 مکعب میٹرز فی کس ہے، اور جلد ہی 1,000 مکعب میٹرز فی کس تک پہنچ جائے گی، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں پانی کی شدید کمی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کئی دہائیوں سے نہ صرف غیر قانونی طور پر ہائیڈرنٹس چلانے والے گروپس موجود ہیں بلکہ نلوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے ٹینکر مافیا بھی خراب صورتحال کا فائدہ اٹھا کر خوب پیسے کما رہےہیں ۔ اس کے علاوہ، پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پانی کے ذخیرہ کو جس رفتار سے خالی کیا جارہا ہے، اسے اس رفتار سے دوبارہ بھرا نہيں جارہا۔ پنجاب میں، اس سال کے شروع میں، پنجاب حکومت نے تمام 36 اضلاع میں کارروائی کا آغاز کیا اور ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے گندے صنعتی پانی اور فضلے سے سیراب ہونے والی کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا۔ آگے چل کر ان کسانوں کو صرف غیرخوردنی فصلیں، جیسا کہ بانس، پھول اور گھر میں ا گائے جانے والے پودوں کی کاشت کی اجازت دی جائے گی۔ ایسا کیوں کیا گیا، اور اس حوالے سے آبی ماہرین کا کیا کہنا ہے؟ زوفین ٹی ابراہم کے مضمون (صفحہ 13) میں اس کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہے۔

ہمارا دوسرا مضمون زینب قتل کیس سےمتعلق ہے۔ جنوری 2018ء میں ضلع قصور میں ایک معصوم بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کا نشانہ بنا کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا گيا، اور اس خوفناک واقعے نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سات سالہ زینب امین کے قاتل کی گرفتاری پاکستان کی تاریخ میں بے مثال تھی۔

زینب کے کیس سے پہلے 2015ء اور 2017ء کے درمیان ضلع قصورمیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کے 12 واقعات پیش آچکے تھے۔ ٹیکنالوجی اور فارنزک سائنس کی مدد سے تفتیش کاروں نے ڈھائی کلومیٹر کے علاقےکی نشاندہی کی، جس میں سارے واقعات پیش آئے تھے۔ اس طرح، مشتبہ شخص کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا، اور آخرکار قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے پکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ کمپیوٹر فارنزک اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے آڈیو ویڈیو تجزیے کی بعد تمام مشبتہ افراد کے ڈی این اے پروفالائنگ کی گئی۔ جب زينب کے قتل کاوقوعہ سامنے آیا، پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے اس علاقے کے 1,187 مردوں کے منہ کے لعاب کے نمونے حاصل کیے، اور ان کا لیب میں تجزیہ کرنا شروع کیا، جس کی مدد سے ملزم عمران علی کی شناخت ہوگئی، اور اس نے ایجنسی کے پولی گرافک ٹیسٹ میں اقبال جرم بھی کرلیا۔ اس پورے واقعے میں ٹیکنالوجی نے کس طرح سہولت پیدا کی اور تفتیش کاروں کے لیےکس طرح راستہ ہموار کیا؟ یہ جاننے کے لیے احمد رضا کا تفتیشی آرٹیکل پڑھیں۔

ہمارے سوالات و جوابات کے سیکشن میں ہم نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں تجرباتی ماہر طبعیات ڈاکٹر صبیح انور کا انٹرویو کیا ہےجس میں تھیوریٹیکل فزکس، مستقبل میں اس کی اہمیت اور پاکستان میں اس شعبے کی حالت زار کے متعلق ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صبیح انور نے 2017ء میں لاہور کے سالانہ سائنس میلے کے انعقاد میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو سکول کی سطح پر سائنس کی تعلیم میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے کیونکہ نجی شعبے کے لیے یہ ممکن نہيں ہے۔ وہ سکول کی سطح پر ریاضی اور سائنس کی تعلیم کو دلچسپ بنانے، اسے مقامی زبان میں پڑھانے اور نئے تخلیقی طریقہ اپنانے پر بھی زور دیتے ہیں۔

 ڈاکٹر عمر سیف
مدیر اعلیٰ

Read in English

Authors
Top