Global Editions

اداریہ

عالمی منظرنامے پر ہمارے ملک پاکستان کا نام ایسے ان گنت مسائل کے ساتھ اس قدر جڑچکا ہے جن کا مغربی ممالک میں تصور بھی نہيں کیا جاسکتا، کہ بعض دفعہ پاکستانیوں کے کارناموں کا اعتراف کرنا بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، اُن انوویٹرز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جو اپنی ذہانت اور ان تھک محنت سے اس ملک میں ٹیکنولوجیکل انقلاب کی بنیاد رکھنے کی کوشش کررہے ہيں۔

نئے سال کے اس پہلے شمارے میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کی ٹیم نے سائنس کے شعبے میں پاکستانیوں کے حالیہ کارناموں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس سلسلے میں ہم پاکستان کے چند ذہین ترین افراد کی جدوجہد پر نظر ڈالیں گے۔

ان افراد میں 16 سالہ شہیر نیازی کا بھی شمار ہوتا ہے، جس کی الیکٹرک ہنی کومب کے متعلق تحقیق دیکھ کر اس سے کہیں زيادہ تجربہ رکھنے والے سائنسدان دنگ رہ گئے ہيں۔ ہماری کور سٹوری میں آئمہ کھوسا شہیر سے اس کے تجربے کے بارے میں بات کرتی ہیں، اور شہیر کے گھر والے علم حاصل کرنے کے غیرروایتی طریقوں، آن لائن تعلیم اور سائنسدانوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہيں۔

اس شمارے میں ہمارا بنیادی مقصد ہیلتھ کیئر کے شعبے کے حالیہ انوویشنز کو منظرعام پر لانا ہے۔ ہمارے سٹاف رائٹرز کی رپورٹ میں پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ان محققین کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ہیلتھ کیئر کے شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے کم قیمت تبدیلیاں متعارف کرکے اس فرسودہ صنعت میں نئی جان پھونکنے کی کوشش کررہے ہيں۔ اس تحریر میں آپ ایمبولیٹر (جو ایمبوبیگ کی طرح کا ایک وینٹی لیشن سسٹم ہے)، کم قیمت انفیوژن پمپ اور مقامی طور پر تیار کردہ ورچول رئیلٹی سرجیکل سیمولیٹر جیسی ایجادات کی مدد سے کس طرح لوگوں کی زندگیاں بچائی جارہی ہیں؟ اس کے بارے میں پڑھیں گے۔

پاکستان میں ہیلتھ کیئر کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ابھرتی ہوئی سٹارٹ اپ کمپنیاں اس ملک میں ہیلتھ کیئر کے منظر نامے کو کس طرح تبدیل کررہی ہیں؟ نشمیا سکھیرا کی تحریر میں اس سوال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں آپ ڈاکٹر سے ملاقات کے وقت کی آن لائن بکنگ اور ڈاکٹروں سےآن لائن مشاورت فراہم کرنے والے پلیٹ فارم مرہم کے علاوہ جعلی ادویات کے بحران کا مقابلہ کرنے والی کمپنی پروچیک کے بارے میں بھی پڑھیں گے۔

ہمارے ریویو کے سیکشن میں آپ لاہور کی ایک سرکاری یونیورسٹی سے تعلق رکھنے محققین کی ایسی ٹیم کے بارے میں پڑھ سکتے ہيں، جنھوں نے دو عام اینٹی بائیوٹکس کے نینوورژنز تیار کرلیے ہيں، جنھیں ٹائیفائيڈ، ہیضے اور پیچش کے علاوہ آنکھوں، کانوں، جلد، سانس کی پٹریوں اور پیشاب کی نالیوں کے انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح آپ ایسے پاکستانی سائنسدانوں کے بارے میں بھی پڑھیں گے جنھوں نے مقامی طور پر ایک ایسا کم قیمت نینوذرہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے جھلسی ہوئی جلد اور دائمی السرز کا علاج ممکن ہے۔ جلد کا یہ متبادل کم قیمت مقامی مواد سے تیار کیا گيا ہے، اور خون کی نالیوں کی تشکیل کے سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے کہ آپ اس شمارے سے لطف اندوز ہوں، میں آپ کو سائنسی صحافت کے شعبے میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کی حالیہ کامیابیوں کے بارے میں بھی بتاتا چلوں۔ اس رسالے کو لانچ کرنے سے پہلے، پاکستان میں سائنسی صحافت کا شمار صحافت کے ان زمرہ جات میں ہوتا تھا جن پر کوئی خاص توجہ نہيں دی جاتی تھی۔ ہماری سٹاف رائٹرز اور رپورٹرز کی ٹیم نے اس کمی کو بخوبی پورا کیا ہے۔ اس کی بہترین مثال ہماری سٹاف رائٹر ماہ رخ سرور کا غیرفعال جینز کے متعلق مضمون ہے، جو سائنسی صحافت کے شعبے سے وابستہ قومی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ مضمون ماضی میں ہماری ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے، اور اب یہ پرنٹ کے اس شمارے میں بھی ہمارے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

 ڈاکٹر عمر سیف
مدیر اعلیٰ

Read in English

Authors
Top