Global Editions

ڈی این اے سکور سے قسمت کی پیشن گوئی

ڈی این اے کی بنیاد پر آنے والے سکور سے ذہانت ، عام بیماریوں کے خطرات اور بہت کچھ کی پیش گوئی میں بہتری آئی ہے

جب امیت کرہرہ (Amit Khera) اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ وہ بیماریوں کی پیش گوئی کیسے کرتے ہیں تو نوجوان ماہر امراض دل کے ہاتھ ،ہوا کو چھوتے ہوئے لوگوں کے تصوراتی کالموں کو ترتیب دیتے ہیں: یہاں000 30 لوگوں کو دل کا دورہ پڑا ہے، وہاں10,000 صحتمند کنٹرول میں ہیں۔

بہت سارے لوگوں کےجینزپر ڈیٹا کبھی بھی اتنا دستیاب نہیں رہا ،جتنا آج ہے اور معلومات کی اس دولت سے محققین کسی بھی شخص میں عام امراض جیسا کہ ذیابیطس، جسم کا اکڑنا،بند شریانیں اور ڈپریشن کےامکانات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ڈاکٹرز پہلے ہی انفرادی جینز میں نایاب اور مہلک بیماریوں کا ٹیسٹ کر لیتے ہیں۔بی آر سی اے( (BRCA چھاتی کے کینسر کے جین کے بارے میں سو چیں۔ یا ایک لیٹر میوٹیٹیش کے بارے جو کہ اینیمیا کے بیمار خلیوں کا سبب بنتا ہے۔ لیکن میوٹیٹیش اور بیماری کے درمیان ون آن ون روابط میںـ ـ"ایکس کے لئے جین" زیادہ تر عام بیماریوں میں نہیں دیکھا جاتا۔ اس کی بجائے، ان کی پیچیدہ وجوہات موجود ہیں جو کہ ابھی تک مبہم رہی ہیں۔

جس دن میں نے ان کا دورہ کیا، امیت کرہرہ پولی جینک سکور تیار کر رہا تھا۔ ـ"پولی ــ"اسے اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ ہزاروں جینز کا شمار کر رہا تھا نہ کہ صرف ایک کا۔ یہ خاص سکور کسی بھی شخص میں دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے امکانات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ ایک عام خرابی کی شکایت ہے لیکن اکثر اس کی تشخیص کسی شخص کو دل کادورہ پڑنے کے بعد ایمرجنسی روم (ER) میں ہوتی ہے۔

امیت کرہرہ نے اپنی اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں، نامعلوم ڈی این اے ڈونر کی نمائندگی کرنے والے سات عددی نمبر سکور کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوئے۔ باہر والوں میں اوسط چار گنا خطرہ تھا۔

امیت کرہرہ جو ماہر امراض دل کی لیبارٹری میں کام کرتے ہیں اورمیسا چوسٹس میں براڈ انسٹی ٹیوٹ میں(Broad Institute) جین ہنٹر سیکر کترائران( (Sekar Kathiresan کے ساتھ کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اب اس نئے سکور کے ساتھ بیماریوں کے خطرے کی اتنی ہی نشاندہی کی جا سکتی ہے جتنی جینیاتی خامیوں کی جنہوں نے اس سے پہلے ڈاکٹروں کو چیک اپ کرنے کےلئے مصروف رکھا تھا۔

"جہاں میں اسے دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ بنیادی طور پر ایک چھوٹی عمر میں ایک رپورٹ کارڈ حاصل کریں گے۔" "اور یہ 10 بیماریوں کے بارے میں بتائے گا اور کہے گا یہ آپ کا سکور ہے۔ آپ دل کی بیماری کے خطرے پر 90 فیصد ، چھاتی کےکینسر کے خطرے 50 فیصد اور سب سے کم ذیابیطس کے خطرے پر10 فی صد ہیں۔ "

اس طرح کی جامع رپورٹ کارڈ ابھی تک نہیں دیے جا رہے لیکن ان کوتخلیق کرنے کی سائنس یہاں ہے۔ بڑے ڈیٹا بیس جیسا کہ یوکے بائیوبینک ڈی این اے کو جمع کرتا ہے اور 000، 500 برطانوی شہریوں کے طبی ریکارڈ رکھتا ہے۔ جینیاتی ماہرین زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں کے گروپ بنا رہے ہیں اور ان کے جینومز اور ان کی بیماریوں، شخصیت اور یہاں تک کہ عادات کے درمیان باہمی روابط تلاش کررہے ہیں۔ تازہ ترین جین کی تلاش بے خوابی کے مرض کی گئی جس میں ریکارڈ1,310,010 لوگ شامل ہوئے۔

جینیاتی مواد کی مکمل مقدار سائنسدانوں جیسا کہ امیت کرہرہ کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ جان سکیں جینیاتی متغیرات کے پیچیدہ نمونوں کو کئی بیماریوں اور علامات سے کیسے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے پیٹرن پہلے محدود مطالعے میں چھپے ہوئے تھے، لیکن اب بڑے ڈیٹا میں یہ جینز کے چھوٹے اشارے سے کام آگے چل رہا ہے۔ آپ امیت کرہرہ کو اپنے جینوم کی سادہ ترین ریڈنگ دیں جو کہ 100ڈالر میں تھیٹر ٹکٹ کے سائزکی چپ سے نکل آتی ہے اور وہ آپ کی زندگی میں بیماریوں کے خطرات اور آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں بتا دے گا۔

اس طرح کی پیش گوئی، پہلی ہٹ یا مس میں، زیادہ درست ہوتی جارہی ہیں۔ پچھلے سال بیان کردہ ایک ٹیسٹ میں جینوم میں000، 20 مختلف ڈی این اے لیٹرز کی بنیاد پر آپ ایک شخص کی چار سینٹی میٹر تک اونچائی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جیسا کہ پیشن گوئی کی ٹیکنالوجی میں بہتری آتی ہے، توقع ہے کہ ٹیسٹ کروانےوالوں کا ایک سیلاب مارکیٹ میں آئے گا۔ کیلیفورنیا میں ڈاکٹرز آئی فون ایپ پر ٹیسٹ کر رہے ہیں جس میں اگر آپ جینیاتی ڈیٹا اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ آپ کودل کی بیماریوں کے خطرے کا بتاتی ہے۔ ستمبر میں مائرائیڈ جینیٹکس Myriad Genetics)) کی جانب سے شروع کیا گیا ایک تجارتی ٹیسٹ یورپی پس منظر کی کسی عورت میں چھاتی کے کینسر کے امکانات کا اندازہ کرکے بتا سکتا ہےماسوائے صرف چند ایک کے جن کو ٹوٹے ہوئے بی آر سی جین وارثتی طور پر ملے ہوں۔

ہیلکس کے ایک سینئر سائنسدان شیرون برگسسSharon Briggs) )، جو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے ایک آن لائن سٹور چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر مصنوعات تین سال کے اندر خطرہ کے سکور کا بتائیں گی۔

شیرون برگسس کہتے ہیں ، "بات یہ نہیں ہے کہ اسکور نئے ہیں۔" "بات یہ ہے کہ وہ بہت بہتر ہو رہے ہیں۔ مزید ڈیٹا موجود ہے۔ "

چھوٹے اثرات

ہیومن جینوم پراجیکٹ کی تکمیل کے بعدجب انہوں نے ایک دہائی پہلے جدید جین کی تلاش کی تو طبی محققین نے امید ظاہر کی کہ چند بڑے جینیاتی نقائص کی نشاندہی کے بعد عام بیماریوں جیسا کہ ذیابیطس کی وضاحت ہوگی۔فرانسس کولنز، جواس وقت امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سربراہ ہیں اور جینوم کی ترتیب ٹھیک کرنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک تھے ، نے پر اعتماد ہو کر 2006 میں اعلان کیا:"مجھے امید ہے کہ ذیابیطس میں 12 جینز کا کردار ہے اور ان سب کو اگلے دو سالوں میں دریافت کر لیا جائے گا۔"

اگر یہ سچ ثابت ہوا تو دوا تیار کرنے والوں کوجینومز کی ایک چھوٹی سی فہرست دیکر واضح اور ٹھوس اہداف دیئے جائیں گے۔ اس سے با آسانی پورے انٹرپرائز کو مستحکم کیا جاسکتا ہے جو لاکھوں امریکی ٹیکس ڈالر کی مالی امداد کے ساتھ چلتا ہے۔ کچھ بیماریوں کی صورت میں جیسا کہ آنکھوں کی بینائی ختم ہونے کی بیماری، پر تحقیق سے کافی فائدہ ہوا۔ 2009 تک، کولنز اور دوسروں نے "گمشدہ وراثت" کے بارے میں مایوسی سے بات شروع کی۔

بیماروں پیدا کرنے والے جینز کہاں تھے؟ ہر جگہ، یہ بات واضح ہو گئی۔ اور 2014 تک، جینیاتی مطالعہ آخر میں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی بڑے ہو گئے تھے۔ جینیاتی تلاش کے مطالعہ کے دوران ذیابیطس والے افراد کی تعداد 661 سے 10,128 سے81,412 تک پہنچ گئی اور یہ تعداد بڑھتی چلی گئی۔ 12 جینوں کے بجائے جن کے بارے میں ہم اب جانتے ہیں، ذیابیطس کی قسم 2 کم از کم ہمارے ڈی این اے میں400مقامات پر اثر انداز ہوتا ہے اور شاید بہت زیادہ ہےجس کا ہمیں پتا نہیں چلتا۔

عام بیماریوں کی حتمی وجہ تلاش کرنے والے سائنسدانوں کے لئے یہ ایک بہت بڑی مایوسی ہے۔ اگر ذیابیطس، ڈپریشن یا دماغی بیماری شیزوفرینیا کی وجوہات کے ارد گرد جینوم بہت زیادہ پاؤڈر چینی کی طرح چھڑکا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو سمجھنے یا علاج کرنے سے بہت دور ہیں۔ براڈ انسٹی ٹیوٹ میں ایک جینیاتی ماہر مارک ڈالی کہتے ہیں ، "کوئی بھی اس کاجواب نہیں دینا چاہتا ۔" "لیکن یہ اپنی جگہ ہر وہی چیز ہے، جو یہ تھی۔"

اگرچہ وراثتی جینز کی بکھری ہوئی نوعیت ان کو سمجھنے میں مشکل پیدا کرتی ہے لیکن اس کے برعکس اس کا جینیاتی ڈیٹا پیشن گوئی بہت آسان کر دیتا ہے۔ اپنے ماڈل بنانے کے لئے، امیت کرہرہ اور سیکر کترائران ،ایک فرد میں 6.6 ملین پوزیشن کااستعمال کرتے ہیں۔ ہر پوزیشن میںایک ڈی این کا لیٹر ہوتا ہے۔ یہ آپ کے لئے اے اور میرے لئےجی ہو سکتا ہے۔ بڑے جینیاتی مطالعے سے، کرہرہ اب یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جی کے ساتھ کسی شخص کو کتنا امکان ہے کہ اسے دل کا دورہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے امکانات میں 0.1 فیصد اضافہ ہوجائے۔ یہ ایک نظر انداز کر دینے والا اضافہ ہے۔ شاید ایک جی دوسری پوزیشن میں 0.2 فی صد خطرہ کم کر دے۔ لیکن اگر آپ تمام چھوٹے جینیاتی اثرات کو شامل کرتے ہیں، تو اثر کافی بڑا ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر، جب انہوں نے دل کی بیماریاں تشخیص کرنے والا آلہ بنایا تو سیکر کترائران کی ٹیم نے معلوم کیا کہ جن لوگوں کو انہوں نے بیماری کے سب سے زیادہ خطرہ 2.5فیصد پیش گوئی کی تھی، ان کواوسط چار گنا زیادہ خطرہ تھا۔ اگر ڈاکٹر اس کے بارے میں فکر مندہوتے ہیں جو کہ وہ ہوتے ہیں تو پھر کیوں نہ جینومک رسک سکور میں بہتر توجہ دی جائے؟

سیکر کترائران کہتے ہیں "یہ وہی چیز ہے جس نے مجھے قائل کیا"۔ اور جن لوگوں کی جینوم پیشن گوئی سے ریڈ الرٹ ہوا، ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو گی۔ فیملیل کولیسٹرومیا (Familial Cholesterolemia) کی بیماری 250میں سے صرف ایک شخص کو متاثر کرتی ہے۔

سیکر کترائران کو یقین ہے کہ جینوم سکور دل کی بیماریوں کے خطرے کے دہانےپر واقع آٹھ گنا زیادہ لوگوں کو پہچان لیں گے۔ سیکر کترائران کا کہنا ہے کہ جس چیز کا انہیں یقین نہیں ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو درپیش خطرات کی معلومات ان کے ہاتھ میں کیسے تھمائے جائیں۔ انہوں نے ایک ایپلی کیشن متعارف کرانے یا اعداد و شمار کے نمونے کو ایک تشخیصی کمپنی کو فروخت کرنے پر غور کیا ہے۔ "ہر ایک اپنا سکور حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ اس کی دل کی بیماری کے لئے مصنوعات کہاں ہیں ۔"میں ان سے کہتا ہوں، ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔"

دل کی بیماری بہت سارے طریقوں سے جینیاتی سکور استعمال کرنے کے لئے ایک بہترین کیس ہے۔

جیتیاتی سکور کی وجہ سے آپ اپنی حقیقی زندگی میں خطرے کی صورت میں تبدیلی لا سکتے ہیں جیسا کہ ڈائیٹ کرنا یا کولیسٹرول گھٹانے کے لئے گولی لینا۔ مزید کیا ہے، امکانات پہلے ہی دل کی دوا کا بڑا حصہ ہیں۔ کرہرہ، جو میساچوسٹس جنرل ہسپتال میں مریضوں کے علاج کے لئے ہفتے میں ایک بار سفید کوٹ پہنتا ہے، کسی بھی شخص میںاس کی عمر، وزن، کولیسٹر و ل کی سطح اور سگریٹ نوشی جیسی عادتوں سے اگلے دس سالوں میں دل کے دورہ کے امکانات کا اندازہ لگا لیتا ہے۔اب اس علاج میں جینیاتی اسکورکو ان ماڈلوں میں شامل کیا جا سکتا ہے جو انہیں زیادہ درست بنا دیں گے۔

ڈی این اے کی پیشن گوئی کے بارے میں سب سے طاقتور چیز یہ ہے کہ ان میں بہت سارےعوامل کے برعکس ، یہ زندگی میں کسی بھی وقت پیمائش کے قابل ہیں۔ کرہرہ کا کہنا ہے، "اگر آپ 18 سال کے بچوں کا گروپ بنائو تو، ان میں سے کسی کو بھی ہائی کولیسٹرول نہیں ہے، ان میں کسی کو بھی ذیابیطس نہیں ہے۔ ان کے تمام کالموں میں یہ صفر ہے، اور آپ ان کا گروپ نہیں بنا سکتے کہ کس کو سب سےزیادہ خطرہ ہے۔ "لیکن ایک سوکے ٹیسٹ کے ساتھ،ہم لوگوں کا ایک گروپ بنا سکتے ہیں جب کوئی 50سال کا ہو، اور بہت سی بیماریوں کے لئے۔"

خطرناک علم

ادویات کی کمپنیوں نے اس چیز کو نوٹس کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ سال اینڈرز ڈالی (Anders Dale)،جو کیلی فورنیا یونیورسٹی، سان ڈیاگو میںدماغ کے محقق ہیں، نے اعلان کیا کہ وہ دماغی مرض الزائمرز کے خطرے کا کیلکولیٹر مارکیٹ میں لائیں گے۔ یہ کیلکولیٹر اندازہ لگائےگا کہ آیا کہ کس شخص میں فلاں بیماری ہے، اور اگر ہو گی تو کتنی عمر میں۔

یہ سروس اس موسم گرما تک شروع نہیں ہو گی، لیکن اینڈرز ڈالی کہتے ہیں کہ ادویات کی کمپنیوں نے فوری طور پر رابطہ کیا۔ اب وہ الزائمرزکے علاج کے لئے تین کمپنیوں کی مدد کر رہے ہیں جو لوگوں کے ڈ ی این اے ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ (اس نے ان کا نام بتانے سے گریز کیا)۔ اس طرح کے ادویات پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ، جس کسی نے بھی کوشش کی، ناکام ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی کو یہ نہیں پتا کہ فلاںبیماری اسے ہے یا نہیں تو یہ جاننا مشکل ہے کہ حفاظتی ادویات اس بندے پر کام کررہی ہیںیا نہیں۔ اگر کمپنیاں یہ ادویات الزائمر کے مرض کے خطرے والے افراد پر ٹیسٹ کریں ، تو یہ بہت آسان ہو گا۔ یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ادویات پر لیبل لگایا جائے کہ یہ" ان لوگوں کے لئے تجویز کردہ جن کا پولی جینک سکور 90 اور اس سے اوپر ہو"۔

اینڈرز ڈالی کمرشل شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ الزائمر کے کیلکو لیٹر کو آن لائن ڈال سکے اور جواسے استعمال کرے ، اس سے تھوڑی سی فیس 99ڈالر چارج کرے۔ دس لاکھ سے زائد لوگ کے پاس پہلے سے ان کا ڈی این اے ڈیٹا موجود ہے کیونکہ انہوں نے ا پنی فیملی ٹری کی تحقیق کے لئے 23andMe یا Ancestry.com پر سائن اپ کیا ہے۔اینڈرز ڈالی کا کہنا ہے کہ لوگ اپنا ڈیٹا ایک کلک میں اپ لوڈ کرنے کے قابل ہو نگے اور رپورٹ حاصل کریں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیوں لوگ اس بیماری کے بارے میں وقت سے پہلے جاننا چاہتے ہیں جس کااس قت علاج نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا ، "وہ شایداس حوالے سے منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں۔"

آنے والے سالوں میں ڈی این اے کی بنیاد پر آئی کیو ٹیسٹ دستیاب ہونے کا امکان ہے۔ ناقدین کو خوف ہے کہ "کچھ واقعی خوفناک سماجی پالیسی" نتیجہ میں آ سکتی ہیں۔

دوسرے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ خطرے کا اسکور عوام کو زور دے گا کہ ان کو اپنی دیکھ بھال کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ سنگاپور میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر، سٹیون ٹکر (Steven Tucker)کہتے ہیں، "مجھے پولی جینک خطرے کےسکور کا آئیڈیا بہت پسند ہے کیونکہ مستقبل صحت ہے، دوا نہیں ہے۔ وہ اپنے مریضوں کو پہننے والے آلات اور ٹریکرز استعمال کرنے کو پسند کرتا ہے اور خطرہ کے اسکور اس احتیاط میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، دل کی بیماری اٹریل فیبرلیشن Atrial fibrillation) ) کے مریض دل کی نگرانی کے لئے سمارٹ واچ استعمال کر سکتے ہیں۔ سٹیون ٹکر کا کہنا ہے ، "میرے مریض مستقبل کا انتظام کرنا چاہتے ہیں۔گر آپ اسے مزید درست طریقے سے بیان کر سکتے ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کو کچھ بہتر موقع مل سکتا ہے۔"

اس کے باوجود نئے جینومک مستقبل کی حیثیت تنازعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکور انفرادی طور پرمکمل قابل یقین نہیں ہیں؛یہ بڑی آبادی سے حاصل ہونے والے محض رف امکانات ہیں۔ مثال کے طور پر، کرہرہ کے دل کی بیماری اٹریل فیبرلیشن پیشن گوئی کرنے والے آلے کی طرف سے لوگوں کو اعلیٰ اسکور دیا گیا جس میں صرف ایک چھوٹی سی اقلیت یعنی 7 فیصد کواصل میں 55 سال کی اس بیماری کی علامات واضح ہوں گی۔

یہ بے یقینی معنی خیزہے کیونکہ اگر لوگوں کو خطروں کا سکور دیا جاتا ہے تو وہ ان کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ پچھلے موسم خزاں میں، میرائڈ جینیٹیکس (Myriad Genetics)پہلی بڑی تشخیصی کمپنی بن گئی تھی جس نے امریکی مارکیٹ میں خطرے کے ٹیسٹ متعارف کرا ئے جن کو خطرے کا سکور (riskScore) کہا جاتا ہے۔ یہ رسک سکورایک عورت میں چھاتی کے کینسر کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے 81مختلف قسم کے تغیرات کی پیمائش کرتا ہے۔زیادہ رسک سکور والی خواتین کو اضافی میموگرام سے گزرنا پڑ سکتا ہے جبکہ کم سکور والی اس کو چھوڑ سکتی ہیں۔ یہ کوئی بھی نہیں جانتا ہے کہ یہ فیصلے کینسر کی وجہ سے کم اموات کا باعث بنیں گے۔ اس چیز میں مزید درستگی لانے کے لئے طویل مدتی مطالعہ جات کی ضرورت ہے۔ میرائڈ جینیٹیکس جو یہ ٹیسٹ بیچ رہی ہے، نے ابھی تک اس حوالے سے مطالعہ جات نہیں کیے۔

یونیورسٹی آف کیرولینا، چیپل ہل کے ایک ڈاکٹر پیٹرک سلیوان(Patrick Sullivan) کو اس ٹیسٹ سے مسئلہ ہے۔ڈاکٹر پیٹرک سلیوانPsychiatric Genomics Cosortium کو لیڈ کرتے ہیں۔ گروپ کے پاس تصدیق شدہ ذہنی بیماریوںکے شکار900,000 افراد کا ڈیٹا ہے جس میں 60,000سے زائد شیزوفیرنیا والے مریض ہیں۔یہ بیماری بہت زیادہ حد تک جینز سے متاثر ہوتی ہے۔مثال کے طور پر اگر مشابہ جوڑے میں شیزوفیرنیا ہے تو اگلے جوڑے میں 50فیصد یہ بیماری ہونے کا چانس ہے۔

لیکن ڈاکٹر پیٹرک سلیوان کا کہنا ہے کہ یہ فضول بات ہو گی کہ ہم ظاہری طور پر صحت مند لوگوں کو بتائیں کہ ان کے ڈی این اے میں شیزوفیرنیا کا سکور بہت زیادہ ہے یا کم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صرف ان جڑواں افراد کا سوچیں: ان کا ڈی این اے بھی ایک ہے اور سکور بھی، لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میںشیزوفیرنیا کی پیش گوئی غلط ہو گی۔سلیوان کا کہنا ہے کسی کوخراب پیش گوئی دینا کتنا خوفناک آئیڈیا ہے۔ "آپ کو جو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اآپ کو اس چیز میں فرق کرنا پڑے گا کہ کس کوشیزوفیرنیا ہے اور کس کو نہیں ہے اور ابھی ہم اس مقام تک نہیں پہنچے کہ یہ چیز لوگوں کو بتا سکیں۔

ڈی این اے آئی کیو ٹیسٹ

بیماریوں کی پیش گوئی کے علاوہ، جینیٹکس سے ماڈل بنائے جا سکتے ہیں جس سے انسانی خصوصیات بشمول رویے کی پیمائش کی جا سکتی ہیں۔ کیا کوئی شخص جرائم کی دنیا کی طرف زندگی میں جائے گا؟ کیا کوئی شخص بہت زیادہ چالاک، مایوس یا اوسط سے زیادہ ہوشیار ہو گا؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسکورنگ ٹیکنالوجی، جلد ہی اس طرح کے سوالات پر ناقابل اعتماد روشنی ڈالے گی۔ جنوری میں، دو معروف ماہرین نفسیات نے دلیل دی کہ صارفین کے لئےبراہ راست ڈی این اے آئی کیو ٹیسٹ جلد ہی "باقاعدگی سے دستیاب" ہوں گے اور بچوں کی" سیکھنے،جاننے، دلیل دینے اور مسائل کو حل کرنے والی صلاحیتوںکی پیشین گوئی کریں گی۔ ان کا خیال ہے کہ والدین چھوٹے بچوں کا ٹیسٹ کروائیں گے اوران کے نتائج کی روشنی میں سکول میں داخلے کے حوالے سے منصوبہ بندی کریں گے۔

لیکن کچھ افراد کے لئے، نامکمل جینیاتی سکور کی روشنی میںسکول اور کالج کا فیصلہ ،برا خیال ہے۔ ورجینیا یونیورسٹی میں ایک اہم ماہر نفسیات ایرک تریریمر Eric Turkhimer))نے اپنے بلاگ گلومی پراسپیکٹ(Gloomy Prospect) میں کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ جینیاتی سکور کو غلط طور پر اتنا مستند سمجھا جائے گا کہ ان کی روشنی میں کچھ حقیقی خوفناک سماجی پالیسیوں کی سفارشات ہونے لگ جائیں گی۔ اس کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پربدترین صورت حال ہو گی۔

ایرک تریریمرکے لئے، پولیجنک اسکور "آنکھ سے ملنے سے کم "ہیں اور اتنے مستند ہیں جیسا کہ آپ کے "آئی کیو ٹیسٹ کی پیشین گوئی آپ کے کزن سےکی جا رہی ہو جس کو آپ نہیں ملے"۔

اس طرح کے خیالات جینیاتی ریسرچ کی تیز رفتاری کو نہیں روک سکتے۔ گزشتہ سال تک، کسی بھی قسم کے جین کے تغیر کو آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج سے براہ راست نہیں جوڑا گیا ۔لیکن اس وقت مختلف مطالعہ جات جس میں 000، 300 سے زائد افراد کے ڈی این اے شامل ہیں ، جین کی206متغیرات کو ذہانت سے جوڑا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جینیاتی اسکور پر ایک شخص کی آئی کیو کی کارکردگی 10 فی صد منحصر ہے۔ جیسے ہی مزید ڈیٹا جمع ہوتا ہے، یہ چند سالوں میں 25 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک امریکی کمپنی جینومک پری ڈکشن (Genomic Prediction) نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ آئی وی ایف میںایمبریوکے اوپر ذہانت کا ٹیسٹ کرنا چاہتی ہے تاکہ والدین ذہنی طور پر ان فٹ ایمبریو کو پھینک سکیں۔

کسمپرسی کی حالت،، مشتبہ ادویات ، یا روک تھام میں ایک کامیابی؟ جینیومک پیشن گوئیاں اچھی طرح سے یہ تین ہو سکتی ہیں۔ جو چیز واضح ہے وہ یہ ہے کہ ، پیشن گوئی کے لئے ضروری ڈیٹا آزادانہ طور پر آن لائن دستیاب ہوتا جا رہا ہے اور 2018 ڈی این اے کی بنیاد پر قسمت کی پیشین گوئی کے لئےایک بریک آؤٹ سال ہو گا۔

تحریر: انٹنیونیو ریگالڈو(Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top