Global Editions

فارورڈ کلینک ٹیکنالوجی کے استعمال سے مریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے

ذرا تصور کریں آپ کے ڈاکٹر کا دفتر کسی بہترین ایپل سٹور کی طرح ہے جس میں آپ کے پسندیدہ جدید اور خوبصورت ورزشی آلات ہوں، سفید لکڑی کا کام ہوا ہوجو آپ کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کرے، وہاں پر دیگر گیجٹس کے ساتھ ایک بڑی ٹچ سکرین بھی ہو اور جہاںپر آپ جتنی بار چاہیں لگی بندھی ماہانہ فیس ادا کرکے ڈاکٹر سے اپنی تشخیص کروا سکیں۔ میں گزشتہ ہفتے سان فرانسسکو میں قائم نئی کمپنی فارورڈ (Forward)کے ایسےہی ایک نئے طبی کلینک گیا۔ فارورڈ مختلف خدمات فراہم کرتا ہے آپ وہاں پر ہائی کولیسٹرول کیلئے مدد حاصل کرسکتے ہیں،خواتین کے مخصوص اعضاء کے کینسرطبی علاج اور بیرون ملک جانے کیلئے ویک23سین لے سکتے ہیں۔ آپ کو ڈاکٹر کے آفس میں صحت سے متعلق ڈیٹا بھی ملے گا، فارورڈ کی سمارٹ فون ایپلی کیشن کے ساتھ پہننے والا گیجٹ بھی ملے گا۔ کلینک کے اندر ہی فارمیسی بھی موجود ہے جہاں پر آپ کو پہلی تشخیص پر ادویات فری ملیں گی۔ اس تشخیص میں بلڈ ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔ فارورڈ کے سی ای او ایڈریان ائوون کہتے ہیں کہ مریضوں کو درپیش طبی ماحول کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اس وقت ڈاکٹر سے ملتے ہیں جب وہ بیمار ہوتے ہیں لیکن اگر آپ سال میں ایک دو بار ڈاکٹر سے ملتے رہیں تو آپ کے جسم کی دیکھ بھال ہوتی رہے گی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ فارورڈصحت کے مسائل کے تکنیکی حل تجویز کرتی ہے۔ آپ کا فارورڈ ڈاکٹر آپ کو استعمال کرنے کیلئے ایک وائرلیس بلڈ پریشر بینڈ بھی پہننے کیلئے دے سکتا ہے اس میں موجود ایپلی کیشن کبھی کبھار آپ کو اپنا بلڈ پریشر دیکھنے میں مدد دے گی۔ آپ اپلی کیشن کے ذریعے پیغام فارورڈ کے ڈاکٹر کو بھیج سکتے ہیں جہاں پر آپ کی صحت کا ڈیٹا جمع ہو جائے گا۔ ڈاکٹر اس ڈیٹا کودیکھ کر آپ کی صحت کی صورتحال تشخیص کرسکے گا۔ (کچھ ڈاکٹراس ڈیٹا میں دلچسپی نہیں رکھتے ) لیکن فارورڈ کی ڈاکٹر عالیہ یعقوب کہتی ہیں کہ اگر اگر یہ ڈیٹا مکمل طور پر درست نہ بھی ہو تو کم از کم مریض کی صحت کی صحت کے بارے میں مجموعی صورتحال کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ سافٹ وئیر نگرانی کرتا رہتا ہے کہ آپ کی صحت کے ساتھ کوئی نیا مسئلہ تو پیدا نہیں ہورہا۔ فارورڈ کے ڈاکٹر کے آفس میں جسم کی سکیننگ کیلئے ایک آلہ بھی موجود ہے۔ جب میں نے اس آلے کے پلیٹ فارم پر قدم رکھا اور اپنی دو انگلیاں اس کے سینسر پر رکھیں تو اس نے نہ صرف میرا وزن بلکہ میرے قد، جسم کے درجہ حرارت، نبض کی رفتا اور خون میں آکسیجن کی مقدار کے بارے میں بتادیا۔ یہ اعداد و شمار فارورڈ کے سافٹ ویئر پر بھیجا جاتا ہے تاکہ ڈاکٹر اسے مریض کی تشخیص کیلئے استعمال کرسکیں۔ عالیہ یعقوب مجھے دفتر میں لے گئی جہاں اس نے کچھ بٹن دبائے تو بڑی سکرین پر ورزش، غذا اور ادویات کے علاوہ بلڈ پریشر کیلئے پہلے استعمال کی گئی ادویات کا ڈیٹا بھی ظاہر ہو گیا۔ وہ میرے سینے پر ایک وائر لیس سٹیتھوسکوپ رکھتی ہے جس سے سکرین پر میرے دل کی دھڑکن صاف نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ آئوون کہتے ہیں کہ اس وقت سینکڑوں لوگ فارورڈ کی خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن جو رکنیت کی فیس کے متحمل نہیں ہیں انہیں مفت رکنیت دی جارہی ہے۔

تحریر: راشیل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top