Global Editions

سپیس ایکس کےتجرباتی راکٹ کی تباہی :خلائی سفرکامنصوبہ مشکلات کا شکار

خلاء کے سفر اور مریخ تک مسافروں کو لیجانے کے حوالے سے ایلن مسک کا خواب ابھی شرمندہ تعیبر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ خلائی سفر کے لئے تجرباتی راکٹ سپیس ایکس نائن کے فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر تباہی کے بعد سے اس راکٹ کا اگلا تجربہ ابھی تک مشکلات اور تاخیر کا شکار ہےتاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سپیس ایکس کی تباہی کی اصل وجوہات کیا تھیں تاہم ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا تھا کہ راکٹ فیولنگ سسٹم میں خرابی کے سبب تباہی کا شکار ہوا۔ تباہ شدہ راکٹ کے اجزاء کے تجزئیے سے معلوم ہوا ہے کہ آکسیجن نے کاربن کے تعامل کے ساتھ کچھ اس طرح سے ری ایکٹ کیا کہ جس بوتل میں ہیلیم سیال شکل میں موجود تھی فلوریڈا لانچ پیڈ پر راکٹ کی تباہی کا سبب بن گئی۔ راکٹ کی اس تباہی کے باوجود ایلن مسک کی کمپنی نے رواں مہینے اس راکٹ کے ازسرنو تجربے کا اعلان کیا تھا تاہم چند روز قبل انہوں نے اس امر کا اعلان کیا کہ چند وجوہات کی بناء پر راکٹ کا یہ تجربہ اب جنوری کے اوائل میں کیا جائیگا۔ Wired کے مطابق ایلن مسک کی خواہشات اپنی جگہ لیکن آئندہ تجربے کے لئے بھی انہیں امریکی محکمہ ایوی ایشن کی منظوری درکار ہو گی۔ سپیس ایکس کو اپنے آئندہ تجربے کے لئے نیا لائنسس لینا ہو گا تاکہ وہ راکٹ کو فضا میں چھوڑ سکے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا کہ جب تک راکٹ کی تباہی کی تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں اور ان تحقیقات سے امریکی محکمہ ایوی ایشن مطمئن نہ ہو جائے۔ ایلن مسک کے لئے پریشانی کا دوسرا سبب یہ ہے کہ برطانوی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی Inmarsat نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب سپیس ایکس کے ذریعے اپنا اگلا خلائی سیارہ لانچ نہیں کرے گی اب Inmarsat سپیس ایکس کی جگہ اس کے یورپین حریف Arianespace کو استعمال کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے کی بنیادی وجہ سپیس ایکس کو خلاء میں چھوڑے جانے کے ضمن میں ہونے والی تاخیر ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ کمپنی سپیس ایکس کو آئندہ برس کے درمیان اپنے اگلے سیٹلائیٹ کے لئے استعمال میں لا سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ ایلن مسک کے لئے ایک بری خبر ضرور ہے۔ Fortune کے مطابق اس سب کے باوجود کمپنی لانچ میں ہونے والی تاخیر سے دس بلین ڈالر کی بلاکج کو مینج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سپیس ایکس کے لئے ضروری ہے کہ وہ درپیش مسائل کو جلدازجلد حل کرے اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ اس کے لئے اور اس کے صارفین کے ساتھ ساتھ اس کی ساکھ اور ریونیو کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا اور کمپنی اسے برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ ایلن مسک کی جانب سے مریخ پر جانے کی ٹکٹ کا دارومدار اسی پر ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top