Global Editions

اڑنے والی کار۔۔۔۔ ایک خواب حقیقت بننے کو ہے

ٹیکنالوجی کی دنیا میں کام کرنے والے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ آپ نے بچپن میں اڑن کھٹولے کی کہانیاں تو ضرور پڑھی ہوں گی۔ پھرآپ نے جیمز بونڈ سیریز میں اڑنے والی کار بھی دیکھی ہوگی لیکن ماضی میں یہ سب قصے کہانیاں تھے۔ اب یہ کہانیاں حقیقت کا روپ دھارنے والی ہیں۔ اب انٹرنیٹ سے وابستہ معروف ادارہ گوگل خاموشی کے ساتھ ایک منصوبے پر کام کررہا ہے اور یہ منصوبہ ہے ایسی گاڑیوں کی تیاری کا جو شاہراہوں پر عام گاڑیوں کی طرح سفر کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔ اس ضمن میں گوگل دو اور کمپنیوں جن میں Zee Aero اور Kitty Hawk شامل ہیں کے ساتھ مل کر اس پراجیکٹ پر کام کررہا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں ہوا بازی کی صنعت سے منسلک ہیں اور یہ کمپنیاں کئی دوسری چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی گاڑیوں کے پروٹوٹائپ تیارکررہی ہیں جو ایک یا اس سے زائد افراد کو لے کر پرواز بھی کر سکیں۔ اس ضمن میں یہ تمام کمپنیاں ڈرون ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایک ایسا ڈرون بھی تیار کیا جا چکا ہے جو ایک شخص کو لے کرپرواز کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں اڑنے والی گاڑی تیارکرنے کے لئے اس کا ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ نیوی گیشن اور آٹو میٹک Mapping پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس طرح کے جہازوں کی تیاری کے لئے ایک اہم رکاوٹ طیارے کے لئے درکار توانائی ہے جو اسے زمین سے فضا میں لے جا سکے کیونکہ ایسی گاڑی یا طیارے کو فضا میں لے جانے کے لئے بڑی، طاقتور اور مہنگی بیٹریاں درکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی سواری کو فضا میں لے جانے کے لئے موثر نیوی گیشن سسٹم اور سینسر بھی درکار ہیں جو اس گاڑی یا طیارے کو فضا میں کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوں کیونکہ ہر گاڑی چلانے والا شخص ایک ماہر پائلٹ نہیں ہو سکتا جو اس طرح کی گاڑیوں کو کسی ہنگامی صورتحال میں فضا میں کنٹرول کر سکے۔ اسی طرح ایک اور کمپنی بھی ایسی ہی گاڑی تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کمپنی کا نام TERRAFU 61A ہے۔ یہ کمپنی گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے میں کام کررہی ہے اور اس نے ایسی گاڑی کا پروٹو ٹائپ بھی تیارکیا ہے جس کی قیمت 279000 ڈالرز ہے۔ اس حوالے سے کمپنی نے جدید ترین پروٹوٹائپ کا ویڈیو بھی جاری کیا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کو مارکیٹ میں لانچ کرنے کے لئے ابھی دس سے بارہ سال لگیں گے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے گوگل کی جانب سے حالیہ کاوش بھی ابھی مستقبل کی بات ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ اس شعبے میں بھی سنجیدہ کاوشوں کا آغاز ہو گیا ہے۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

flyingcar2

Read in English

Authors
Top