Global Editions

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کا مستقبل خطرے میں

 ڈینگی اور زیکا امراض کا سبب بننے والے مچھروں کو تلف کرنے کے لئے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو فضا میں چھوڑنے کے حوالے سے امریکی ریاست فلوریڈا کی کاؤنٹیز میں ہونے والے ریفرنڈم میں اس منصوبے کے بارے میں اختلافی رائے سامنے آئی ہے جس کے بعد اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔ کے ہیون نامی شہر میں جہاں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کی افزائش کی جارہی ہے وہاں کے 65 فیصد عوام نے اس منصوبے کے خلاف رائے دی ہے۔ جس کے بعد توقع ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد روک دیا جائیگا جبکہ مونرو کاؤنٹی کے 58 فیصد عوام نے اس تجربے کے حق میں رائے دی ہے۔ امریکی محکمہ خوارک و ادویات ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ایک برطانوی کمپنی Oxitec نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو مونرو کاؤنٹی میں چھوڑنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ ڈینگی اور زیکا کے پھیلاؤ کا سبب بننے والے مچھروں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی خصوصیات کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم مقامی ڈسٹرکٹ بورڈ نے اس منصوبے کے بارے میں اختلافی عوامی رائے کے سامنے آنے کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد عام انتخابات میں عوامی رائے کے سامنے آنے تک روک دیا تھا۔ اس حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج پر عمل درآمد کے لئے کوئی قانونی پابندی موجود نہیں ہے۔ اختلافی رائے سامنے آنے کے باوجود ایجنسی رواں مہینے میں ہی اس تجربے کو آگے بڑھانے کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کر سکتی ہے اور Oxitec کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیڈن پیری اس حوالے سے کافی پرامید بھی ہیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیڈن پیری کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی جانب سے تیار کی جانیوالی ٹیکنالوجی عوامی مفاد میں ہے اور اس کا مقصد وبائی امراض جن میں ڈینگی اور زیکا بخار شامل ہے کا تدارک کرنا ہے۔ ہم اپنے تجربے کے ضمن میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ہم اپنے پلان کے مطابق کے ہیون میں تجربے کا آغاز طے شدہ پروگرام کے تحت کرینگے۔ پیری کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مخصوص مقام پر ہونا تھا لہذا Oxitec ایف ڈی اے سے دوبارہ رجوع کریگی اور اگر اس تجربے کو ہیون سے باہر منتقل کرنا پڑا تو ہم کسی اور مقام پر یہ تجربہ کرینگے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس تجربے کے لئے ابھی مزید وقت درکار ہو گا ہو سکتا ہے کہ اس میں کئی مہینے بھی لگ جائیں۔ دوسری جانب ایف ڈی اے نے رواں سال اگست میں ایک جائزہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو فضا میں چھوڑے جانے سے ماحولیات پر کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہونگے۔ Oxitec کمپنی کی جانب سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ تمام مچھر نر ہیں اور ان میں Self Limiting gene کو انجینئرڈ کیا گیا ہے۔ جب ان مچھروں کو فضا میں چھوڑا جائیگا تو مادہ مچھروں سے ملاپ کے نتیجے میں یہ نر مچھر مادہ مچھروں میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جین منتقل کر دینگے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مچھر بلوغت تک پہنچنے سے قبل ہی مر جائینگے اس طرح مقامی سطح پر مچھروں کی افزائش کا سلسلہ رک جائیگا۔ یہ کمپنی اب تک کے مین آئرلینڈ، برازیل اور پاناما سمیت پانچ مقامات پر ان مچھروں کے تجربات کر چکی ہے اور اس تجربے کے نتیجے میں ان مقامات پر جہاں یہ تجربات کئے گئے مچھروں کی تعداد میں نوے فیصد کمی واقع ہوئی۔ دوسری جانب امریکی ریاست فلوریڈا میں مقامی انتظامیہ ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سالانہ 1.1 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتیجے میں مچھروں کی تعداد میں سالانہ تیس سے پچاس فیصدکمی واقع ہوتی ہے۔ فلوریڈا میں Oxitec کے منصوبے کی قیادت کرنے والے ڈیرک نیمو کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر اتنی ہی لاگت آئیگی جتنی فلوریڈا کی انتظامیہ سالانہ خرچ کرتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت تک امریکہ میں رپورٹ ہونے والے زیکا وائرس کے تمام 139 کیسز فلوریڈا میں ہی رپورٹ ہوئے ہیں۔ Oxitec کی جانب سے وضع کی جانیوالی ٹیکنالوجی مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے اہم ہے۔ امریکہ میں کئی دیگر ادارے جن میں گوگل بھی شامل ہے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کی تیاری کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

تحریر: ایملی مولن (Emily Mullin)

Read in English

Authors

*

Top