Global Editions

ہم 2021ء میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور فائدہ کس طرح حاصل کرسکتے ہيں؟

ایک غبارے کو اس کے بوجھ سے علیحدہ کرنے کے لیے قینچی کا استعمال کیا گيا ہے۔
کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے مصنوعی ذہانت پر پہلے سے زيادہ توجہ دی جارہی ہے۔ کیوں نہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے؟

2019ء کے آخری ایام میں، میں نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی کمیونٹی ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ 2018ء میں خودکار گاڑیوں اور انسانی وسائل بھرتی کرنے کے سسٹمز سمیت کئی ”شاندار ناکامیاں “ سامنے آئيں۔ اگلے سال، یعنی 2019ء میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ اخلاقیات پر بہت بات ہوئی۔ تاہم میں نے اس وقت کہا تھا کہ اب باتوں کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ اب اقدام کرنے کا وقت آگیا ہے۔ دو مہینے بعد کرونا وائرس کے باعث پوری دنیا مکمل طور پر تبدیل ہوگئی۔

جب ہم نے سماجی دوری اختیار کرنا شروع کی اور ہر کام ریموٹ طریقے سے ہونا شروع ہوا، تو مصنوعی ذہانت کے الگارتھمز کی خامیاں بھی کھل کر واضح ہونے لگیں۔ چہرے کی سکیننگ کے سسٹمز اور جائے کار میں نگرانی کے ٹولز عام ہوگئے۔ امتحانات کے دوران یونیورسٹی کے طلباء پر نظر رکھنے کے لیے بھی ٹیکنالوجی پر انحصار کیا جانے لگا۔ ان الگارتھمز کی خامیوں کی بہترین مثال اگست 2020ء میں اس وقت سامنے آئی جب برطانوی حکومت نے او اور اے لیول امتحانات منعقد کروانے کے بجائے یونیورسٹی میں داخلے کے متعلق فیصلے کرنے کے لیے ایک الگارتھم متعارف کیا۔ جب طلباء کے امتحانات کے نتائج ان کے توقعات کے خلاف نکلے تو لندن میں بھرپور احتجاج شروع ہوا۔ ہر طرف ”الگارتھم جائے بھاڑ میں “ کے نعرے لگائے جانے لگے۔ کچھ مہینے بعد جب ایک دوسرا الگارتھم بری طرح ناکام ہوا تو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے یہی فقرہ دہرایا۔ مصنوعی ذہانت کی جوابدہی کی ریسرچر ڈیب راجی (Deb Raji) نے اس کے جواب میں ٹوئٹر پر لکھا کہ ”ایسا لگ رہا ہے کہ یہ فقرہ 2020ء کا تکیہ کلام ہے۔ “

ہم یہ نہيں کہہ سکتے کہ اس حوالے سے اقدام نہيں کیے گئے۔ ریسرچرز پچھلے دو سال سے ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے سسٹمز کی نسل پرستی اور امتیاز کے متعلق آواز اٹھا رہے تھے۔ آخر کار، جارج فلوئيڈ (George Floyd) کے بے رحمانہ قتل کے نتیجے میں دنیا بھر میں امریکی پولیس کے خلاف احتجاجات شروع ہونے کے بعد ایمزان، مائیکروسافٹ، اور آئی بی ایم نے پولیس کو اپنے چہرے کی شناخت کے سسٹمز فروخت کرنے سے انکار کردیا۔ دنیا کی نمایاں ترین مصنوعی ذہانت کی ریسرچ کی کانفرنس نیور آئی پی ایس (NeurIPS) میں اب کانفرنس کے لیے پیپرز کے ساتھ ضابطہ اخلاق جمع کروانا بھی ضروری ہوگیا ہے۔

آج ہم 2021ء کی ابتداء میں کھڑے ہیں، اور اب مصنوعی ذہانت کی اثرات کو پہلے سے کہیں زيادہ توجہ مل رہی ہے۔ کیوں نہ اس کا فائدہ اٹھایا جائے؟ میں اس سال مصنوعی ذہانت سے کونسی امیدیں باندھی ہوئی ہوں؟

ریسرچ میں کارپوریشنز کے عمل دخل میں کمی

اس وقت بڑی ٹیک کی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کی ریسرچ پر ضرورت سے زيادہ اختیار حاصل ہے۔ اس کے نتیجے میں بگ ڈیٹا جیسی ٹیکنالوجیز کو زيادہ توجہ مل رہی ہے، جس کے کئی منفی نتائج سامنے آرہے ہيں۔ مصنوعی ذہانت کی پیش رفت کے باعث ماحول پر اثرات کو نظرانداز کیا جارہا ہے، کم وسائل رکھنے والے لیبز کے تجربات میں کمی ہورہی ہے، اور سائنس سے زيادہ منافع کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ گوگل جیسی بڑی کمپنیاں اخلاقیات کو نظرانداز کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

کارپوریشنز کے عمل دخل کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس پیسہ ہے، اور ریسرچرز کو دوسرے ذرائع سے رقم حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ اوپن اے آئی (OpenAI) نامی ایک لیب کی مثال لے لیں۔ شروع میں تو انہوں نے کوشش کی کہ کارپوریشنز کے بجائے صرف امیر افراد سے سپانسرشپس حاصل کی جائيں۔ تاہم وہ ایسا نہیں کر پائے، اور چار سال بعد انہيں مائیکروسافٹ کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا۔ میں امید کرتی ہوں کہ زيادہ حکومتیں اس میدان میں اتریں گی، اور مصنوعی ذہانت کے ریسرچرز کو دفاعی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی رقم فراہم کریں گی۔ حکومتیں عوام کے مفاد کو ترجیح دیتی ہیں، نفع و نقصان کو نہيں۔

عام سمجھ بوجھ پر دوبارہ توجہ

”جدید ترین “، ”سب سے بڑے “ اور ”سب سے شاندار “ سسٹمز بنانے کے چکر میں ہم بھول گئے ہيں کہ مصنوعی ذہانت کا اصل مقصد کیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول محض پیٹرن میچنگ نہيں بلکہ سمجھ بوجھ رکھنے والے ذہین سسٹمز بنانا تھا۔ اس کے پیچھے کارپوریشنز کا تو ہاتھ ہے ہی، لیکن ساتھ ہی دوسری وجوہات کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا۔ ریسرچ کانفرنسز اور پیئر ریویوز پر چلنے والی اشاعتوں میں ”جدید ترین “ اور ”شاندار “ نتائج کو ہی اجاگر کیا جاتا ہے۔ تاہم ضروری نہيں ہے کہ جو سسٹم جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنایا گیا ہو، اس کی کارکردگی بھی سب سے اچھی ہو۔

ایسا نہيں ہے کہ یہ سسٹمز ذہین نہيں ہوسکتے، یا سمجھ بوجھ کا مظاہرہ نہيں کر سکتے۔ بات یہ ہے کہ ریسرچ کے اور بھی کئی سسٹمز ہيں جن کے بارے میں نہ تو کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی ان میں زيادہ سرمایہ کاری کی جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماہرین ڈیپ لرننگ کو دوسری تکنیکوں کے ساتھ ملانے کی کوشش کررہے ہيں۔ کچھ ریسرچرز انسانی بچوں کی بہت کم ڈيٹا کی بنیاد پر درست نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت سے متاثر ہونے والی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔

میں امید کرتی ہوں کہ 2021ء میں پیشگوئی کے بجائے سمجھ بوجھ کو زيادہ ترجیح دی جائے۔ اس سے سسٹمز تکنیکی اعتبار سے زيادہ پائیدار تو ہوں گے ہی، لیکن ساتھ ہی معاشرے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مثال کے طور پر، اس وقت ڈیپ لرننگ سسٹمز کو بہت آسانی سے دھوکا دیا جاسکتا ہے، اور جب تک یہ مسئلہ حل نہيں ہوجاتا، خودکار گاڑیوں اور خودکار اسلحہ جیسی ایجادات کو محفوظ نہيں سمجھا جاسکتا۔

سفید فام مرد ریسرچرز کے علاوہ دوسرے ریسرچرز کو مواقع دینا

اگر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الگارتھمز اپنے تخلیق کاروں کی اقدار اور نظریات کے عکاس ہیں، تو ان سسٹمز کی تخلیق کاری کے دوران زيادہ لوگوں کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔ 2019ء کی نیور آئی پی ایس کی کانفرنس میں اس کی بہت اچھی مثال سامنے آئی۔ اس کانفرنس میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی تھی، اور مجھے اس کانفرنس میں اور ماضی میں منعقد ہونے والے دوسرے سیشنز کے درمیان واضح فرق محسوس ہوا۔ اس بار ہمارے معاشرے پر مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کے اثرات کے متعلق پہلے سے کہیں زيادہ تفصیلی بات ہوئی۔

اس وقت تو میں بہت خوش ہوئی تھی۔ تاہم اس کے کچھ عرصے بعد، گوگل نے اپنی اخلاقیات کی ریسرچر ٹمنٹ گیبرو (Timnit Gebru) کے ساتھ جو کیا، اسے دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ابھی اس حوالے سے بہت کام پڑا ہے۔ اگر ہم لوگوں کو اپنے منفی تجربات کھل کر بیان کرنے کا موقع نہیں دیتے، تو ”ڈائیورسٹی “ کے متعلق بات کرنا بے کار ہے۔ ٹمنٹ گیبرو نے ایک ریسرچ پیپر میں اس بات کو اجاگر کیا کہ چہرے کی شناخت کے سسٹمز کے باعث ان تمام افراد کو امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو سفید فام نہيں ہیں۔ کچھ عرصے بعد گوگل نے انہيں نوکری سے فارغ کردیا۔ پس پردہ جو بھی ہوا ہو، اس واقعے سے یہ ضرور ہوا کہ لوگ کم از کم اس مسئلے پر بات تو کرنے لگے۔ اس سے چھوٹی ہی سہی، امید کی ایک کرن نظر تو آتی ہے۔ اگر یہ کرن مستقبل میں پائیدار انقلاب کی وجہ نہ بنے تو یہ پوری صنعت کے لیے شرمندگی کا باعث ہوگا۔

متاثرہ کمیونٹیز کے نظریات پر توجہ

پچھلے سال ”شرکت پر مبنی “ مشین لرننگ کا رجحان سامنے آیا، اور میں امید کرتی ہوں کہ اس نئے سال میں اس پر مزيد کام ہوگا۔ یہ مشین لرننگ کا ایک ایسا ماڈل ہے جس میں مصنوعی ذہانت کی ترقی میں ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے جن پر آگے چل کر ان الگارتھمز کا اطلاق ہوگا۔

جولائی میں شرکت پر مبنی مشین لرننگ کی پہلی کانفرنس ورک شاپ منعقد ہوئی، جس میں لوگوں کے آئيڈیاز حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ نمایاں ترین تجاویز میں کمیونٹی فیڈبیک حاصل کرنے کے لیے قواعد و ضوابط؛ آڈٹنگ کے نئے طریقے؛ اور مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی نئے سرے سے ڈیزائننگ شامل تھے۔

میں امید کرتی ہوں کہ 2021ء میں ان آئيڈیاز پر مزيد کام کیا جائے گا۔ فیس بک نے اس سلسلے میں کچھ کوششیں کی ہیں، اور اگر وہ اپنی ماڈریشن پالیسیوں میں مثبت تبدیلیاں متعارف کر لے، تو وہ پوری صنعت کے لیے ایک بہت اچھی مثال قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔

حفاظتی تدابیر کو ضوابط کی شکل دینا

الگارتھمز کے نقصانات کم کرنے اور ٹیک کی بڑی کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرانے کی بنیادی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی ضابطہ کار قدم اٹھائيں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے قانون ساز صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے ضوابط پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کے امتیاز، اور ڈیپ فیکس کے متعلق قوانین متعارف ہونا شروع ہوگئے ہيں۔ گوگل کو مستقبل میں ان ضوابط کے نفاذ کے متعلق مطلع بھی کیا جا چکا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ 2021ء میں اس قسم کے مزيد قوانین متعارف کیے جائيں۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

تصویر: گیٹی (Getty)

Read in English

Authors

*

Top