Global Editions

انسانی جنین میں ترمیم پر کام کیا جارہا ہے

ریسرچرز نے ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی جنین کے ڈی این اے میں موثر طور پر تبدیلی لاسکتے ہیں۔

ایک ویڈیو میں سائنسدانوں کو نطفے (sperm) میں ڈی این اے کے نقص کی اصلاح کے لیے فرٹیلائزيشن کے دوران انسانی انڈے میں جین کی ترمیم کے لیے کیمیکلز ڈالتے ہوئے دکھایا جارہا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو معلوم ہوا ہے کہ اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں ریسرچرز کی ایک ٹیم نے امریکہ کے سب سے پہلے جینیائی طور پر ترمیم شدہ انسانی جنین تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس تحقیق سے واقفیت رکھنے والے افراد کے مطابق اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی (Oregon Health and Science University) کے شوخریٹ میٹالیپو (Shoukhrat Mitalipov) کی سربراہی میں اس ٹیم نے CRISPR نامی جین میں ترمیم کی تکنیک کے ذریعے بڑی تعداد میں ایک سیل پر مشتمل جنین کے ڈی این اے میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی تھی۔

اب تک امریکی سائنسدان دنیا بھر کے سائنسدانوں کی کوششوں کو رشک بھی کررہے ہیں، حسد بھی کررہے تھے اور پریشان بھی ہورہے تھے۔ اس سے پہلے انسانی جنین میں ترمیم کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئی تھیں، انھیں چین میں رہائش پذیر سائنسدانوں نے شائع کیا تھا۔

میٹالیپو نے تجربے میں استعمال ہونے والے جنین کی تعداد کے علاوہ موروثی امراض کی وجہ بننے والے خراب جینز کی بحفاظت اور موثر اصلاح کا مظاہرہ کرکے ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ان میں سے کسی جنین کو چند دن سے زيادہ تک نشونما حاصل کرنے نہیں کیا گیا تھا، اور نہ ہی انھیں کسی بچہ دانی کے اندر امپلانٹ کیا جانے والا تھا۔ اس کے باوجود یہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ انسانوں کی پیدائش کی جانب پہلا قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔

سائنسدان انسانی جنین کا ڈی این اے کوڈ تبدیل کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ بیٹا تھیلیسیمیا جیسی موروثی امراض کی وجہ بننے والے جینز کی اصلاح یا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ اس عمل کو "جرم لائن انجنیئرنگ" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ کسی بھی بچے کی جینیائی تبدیلیاں جرم سیلز، یعنی انڈے اور نطفے کے ذریعے آنے والی نسلوں میں بھی نظر آئيں گے۔

جرم لائن کے تجربات کی تنقید کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سےڈیزائنر بچوں" کا رجحان پیدا ہوگا، جس کی وجہ سے مذہبی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے گروپس اور بائیوٹیک کمپنیاں اس تکنیک کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔

پچھلے سال امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی نے CRISPR کو "وسیع تباہی کا ہتھیار" کا نام دیا تھا۔

ہم نے میٹالیپوو سے سکائپ کے ذریعے بات کرنے کی کوشش کی، اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ نتائج کو شا‏ئع کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور وہ اس وقت ان کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکتے ہیں۔ تاہم دوسرے سائنسدانوں نے CRISPR کی مدد سے جنین میں ترمیم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ کیلیفورنیا کے شہر لاجولا میں سیلک انسٹی ٹیوٹ (Salk Institute) میں کام کرنے والے جن وو (Jun Wu)، جنھوں نے اس پراجیکٹ پر کام کیا ہے، بتاتے ہیں کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ امریکہ کی اس ٹیکنالوجی پر پہلی تحقیق ہے۔

ایک بہتر قسم کی تکنیک

سابقہ چینی اشاعتوں کا دائرہ کار محدود تھا، لیکن ان میں یہ ضرور ثابت گیا تھا کہ CRISPR کی ترمیم میں غلطیاں پیدا ہورہی تھیں، اور مطلوبہ ڈی این اے کی تبدیلیاں کسی جنین کے تمام سیلز کے بجائے صرف چند سیلز میں نظر آرہی تھیں۔ اس نتیجے کو mosaicism کا نام دیا گیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جرم لائن کی ترمیم انسانوں کو پیدا کرنے کا غیرمحفوظ طریقہ ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق میٹالیپوو اور ان کے رفقاء کار نے ثابت کیا ہے کہ mosaicism اور غیرمطلوبہ اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔

اس ریسرچ سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اس تجربے کے لیے موروثی بیماریوں کے شکار افراد کے نطفے کی مدد سے کئی انسانی آئی وی ایف کے جنین تخلیق کیے گئے تھے۔ اس مرحلے میں جنین کی شکل سیلز کے چھوٹے مجموعوں کی طرح تھی جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے ہیں۔ ترمیم کے لیے کس مرض کے جینز کا تعین کیا گیا؟ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو یہ متعین کرنے سے قاصر تھے۔

اس پراجیکٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سائنسدان کہت ہیں "اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تکنیک نتیجہ خیر ثابت ہوگی۔ ‏Mosaicism میں کمی صاف واضح تھی۔ اس وقت کلینیکل ٹرائلز شروع نہیں ہوں گے، لیکن اب تک کسی اور کی اس قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔"

میٹالیپوو کے گروپ نے اسی وقت جب انڈوں کو نطفے سے فرٹلائز کیا جارہا تھا، CRISPR ڈال کر ماضی میں پیش آنے والی مشکلات کو بظاہر حل کرلیا ہے۔

باتھ یونیورسٹی (Bath University) کے ٹونی پیری (Tony Perry) نے ماضی میں چوہوں پر اسی قسم کے تجربے کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ چوہوں کے بال کے رنگ کے جینز تبدیل کرنے میں کامیاب رہے، جس کے بعد آنے والی نسلوں میں بھورے کے بجائے سفید بال نظر آئے۔

پیری نے 2014ء میں شائع ہونے والی ریسرچ میں پیشگوئی کی تھی کہ آگے چل کر ان تکنیکوں کا انسانی جینوم یا جینز کی ترمیم میں استعمال کیا جانے کا امکان تھا۔

جینیائی بہتری

قازقستان میں پیدا ہونے والے میٹالیپوو کئی سالوں سے سائنس کے میدان میں انقلاب لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 2007ء میں انھوں نے دنیا کے سب سے پہلے کلون شدہ بندروں کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے 2013ء میں ہر کسی کے لیے مخصوص سٹیم سیلز کی تخلیق کے لیے کلوننگ کے ذریعے انسانی جنین تحلیق کیے۔

ان کی ٹیم نے جس وقت جنین میں ترمیم شروع کی تھی، اسی دوران امریکی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (National Academy of Sciences) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں جرم لائن ترمیم پر ریسرچ کو منظوری حاصل ہوئی تھی۔

رپورٹ میں صرف سنجیدہ بیماریوں کے خاتمے کے لیے جین کی ترمیم میں CRISPR کی مدد سے بچے پیدا کرنے کی حمایت کی گئی تھی۔

مشاورتی کمیٹی نے ذہانت میں اضافے جیسے خصوصیات کے لیے جینیائی بہتریوں کی کوششوں سے گریز کرنے کی تجویز کی تھی۔ NAS کی تحقیق کی کمیٹی کی مشترکہ چیئر اور یونیورسٹی آف وسکانسن میڈيسن (University of Wisconsin–Madison) میں قانون اور بائیوایتھکس کی پروفیسر ایلٹو چیرو (Alta Charo) کا کہنا ہے "بیماریوں کے علاج کے علاوہ کسی بھی مقصد کے لیے جینوم کی ترمیم سے کئی سوال اٹھتے ہیں۔ سب سے پہلے، کیا اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں گے؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ تکنیک صرف چند ہی لوگوں کو دستیاب ہوگی، اس میں انصاف کہاں ہے؟"

امریکی کانگریس نے ترمیم شدہ آئی وی ایف جنین سے بچے پیدا کرنے کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کی ہے، اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینیسرٹیشن (Food & Drug Administration) کی فنڈنگ کی بل کو اس طرح ترمیم کیا ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کو منظوری نہیں مل سکے گی۔

ان رکاوٹوں کے باوجود جین میں ترمیم کے ذریعے انسانوں کو پیدا کرنے کی کوشش کسی بھی وقت ممکن ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں واقع آئی وی ایف کے کلینکس میں جہاں اس قسم کی قانونی پابندیاں نہیں ہیں۔

تحریر: سٹیو کونر (Steve Connor)

Read in English

Authors
Top