Global Editions

اداریہ

2009ء میں ایک مائیکروفنانس بینک نے ٹیلی کام کی صنعت سے تعلق رکھنے والی ایک نامور کمپنی کے ساتھ پاکستان میں بینکنگ کی سہولیات سے محروم لاکھوں افراد میں مالی شمولیت کے فروغ کے لیے معاہدہ کیا، اور اس کے نتیجے میں رقوم کی فوری منتقلی کی ایک ایسی سہولت متعارف ہوئی جس کے ذریعے موبائل فون کے صارفین کے لیے ملک کے کسی بھی کونے سے، جہاں موبائل فون کی سہولت موجود ہو، رقم بھیجنا اور موصول کرنا ممکن ہوگیا۔ اس سے نہ صرف بینکوں کی قطار میں کھڑے رہنے کی ضرورت ختم ہوگئی، بلکہ لمبی چوڑی کاغذی کارروائی سے بھی جان چھوٹ گئی۔ یہ سہولت راتوں رات کامیاب ثابت ہوگئی، اور 30 جون 2016ء تک اس کے ذریعے بھیجی اور موصول کی جانے والی مجموعی رقم 4.4 کھرب روپے تک پہنچ چکی تھی۔

اس سہولت کا نام ایزی پیسہ ہے، اور یہ ٹیلی نار پاکستان اور تعمیر مائیکروفنانس بینک (جو اب ٹیلی نار گروپ کا زیرملکیت ادارہ ہے) کے تعاون کے ساتھ متعارف کی گئی تھی۔

دنیا بھر میں آسان اور تیز ٹیکنالوجی کی مدد سے مالی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں، یعنی فِن ٹیک کی کمپنیاں، اپنے قدم جما رہی ہیں۔ پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کی 2017ء کی عالمی فِن ٹیک رپورٹ کے لیےایک سروے کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ مالی صنعت سے تعلق رکھنے والی 88 فیصد کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ انوویٹرز کی وجہ سے ان کی آمدنی میں کمی واقع ہوگی، جبکہ 82 فیصد کمپنیاں توقع کرتی ہیں کہ اگلے تین سے پانچ سالوں کے دوران ان کی فِن ٹیک کی پارٹنرشپز میں اضافہ ہوگا۔

ایکسنچر کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق 2016ء میں مالی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیوں میں عالمی سرمایہ کاری 10 فیصد اضافے کے بعد 23.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اس دوران صرف چین ہی میں فِن ٹیک کے شعبے میں سرمایہ کاری تین گنا اضافے کے بعد 10 ارب ڈالر رہی۔

ایزی پیسہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے مالی سہولیات میں انقلاب لانے والی کمپنیوں کی صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ پاکستان کی معیشت میں شروع ہی سے کیش کا راج رہا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ملک میں 10 کروڑ افراد کو بینکنگ کی سہولیات میسر نہیں ہیں، یعنی دنیا بھر میں بینکنگ کی سہولیات سے محروم افراد میں سے پانچ فیصد افراد پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے ڈیجٹل فنانس میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں سب سے آگے ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں چھ فیصد افراد کے پاس موبائل اکاؤنٹس ہیں، جبکہ جنوبی ایشیاء میں موبائل اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کی مجموعی اوسط شرح دو فیصد سے بھی کم ہے۔

پاکستان کی آبادی میں سے 60 فیصد سے زائد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے، اور 18 فیصد سے زائد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں، جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نیز، 3G، 4G اور LTE ٹیکنالوجیز کے علاوہ مفت پبلک وائی فائی کے ہاٹ سپاٹس اور نوجوانوں کو لیپ ٹاپس کی مفت فراہمی جیسے حکومتی اقدام کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

اس تیزی سے تبدیل ہونے والے منظرنامے کی وجہ سے پاکستان بھر کے مالی ادارے ٹیکنالوجی پر مشتمل بزنس ماڈلز متعارف کرکے مارکیٹ میں نیا مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

عمیر رشید کے مضمون میں پاکستان کے تیزی سے تبدیل ہونے والے فِن ٹیک کے منظرنامے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دیگر سٹارٹ اپ کمپنیوں کے علاوہ انھوں نے فِنجا نامی کمپنی کا بھی تذکرہ کیا ہے، جو کاغذی کرنسی کے استعمال میں کمی لانے والے ڈیجٹل والٹ کو مارکیٹ میں متعارف کرنے کے لیے 10 لاکھ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ثابت ہوچکی ہے۔ Inov8 نامی ایک اور فِن ٹیک کمپنی سوپر ایپ فون پے لانچ کرنے والی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے سمارٹ فونز کی مدد سے اس کمپنی کے پینل میں موجود کمرشل بینکس میں ڈپوزٹ کردہ رقم استعمال کرکے لین دین کرسکتے ہیں۔

قاصف شاہد اور لبنیٰ رزاق ایک مشترکہ مضمون میں نئے مواقع سے بہتر طور پر فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں بینکس اور فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کے درمیان پارٹنرشپس، یعنی فِنٹیگریشن، کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

پلانیٹ این گروپ آف کمپنیز کے بانی اور کوچ ندیم حسین بتاتے ہیں کہ پاکستان کی مائیکروفنانس صنعت کس طرح بگ ڈیٹا اور مشین لرننگ سے فائدہ اٹھا کر تین کروڑ افراد پر مشتمل مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بناسکتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors
Top