Global Editions

میرا بیٹا زندگی کی بازی ہار گیا، لیکن امید ابھی باقی ہے

کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج زيادہ جان لیوہ ثابت ہوسکتا ہے۔

جب میرا سب سے بڑا بیٹا زیک پانچ سال کا تھا، ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ایک جارحانہ قسم کے کینسر کا شکار ہے جس کا نام اکیوٹ مائی لائڈ لیوکیمیا (acute myeloid leukemia) ہے۔

یہ سن کر ہمارے ہوش اڑ گئے، اور اس کے بعد جو ہوا وہ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہيں تھا۔

تشخیص کے بعد زیک کے صبروبرداشت کا کٹھن امتحان لینے والی کیموتھراپی شروع ہوگئی۔ اسے درجنوں دوائيں کھلائی گئيں، سوئیاں چبھوئی گئيں، لاتعداد سکینز کروائے گئے، ہڈیوں کے گودے میں آکسیجن گزارا گیا، اور اس کی ریڑھ کی ہڈی سے متعدد بار پانی نکالا گیا۔ اسے مستقل 105 ڈگری بخار رہتا تھا، جس پر کسی طرح قابو پانا ناممکن تھا، متلی میں کسی طرح بہتری نہيں آتی تھی، اور اس کی ناک سے کئی گھنٹے خون بہتا رہتا تھا۔ یہ سب اس علاج کا نتیجہ تھا جو ہمیں مل رہا تھا، اور جس کے لیے ہم تہہ دل سے شکر گزار تھے۔ زیک کی جلد اندر سے جل رہی تھی۔ کیموتھراپی کینسرزدہ سیلز کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند سیلز بھی ختم کررہی تھی۔ زیک کے بال گر رہے تھے، اس کے خون میں کمی ہورہی تھی اور قوت مدافعت ختم ہورہی تھی، جس کی وجہ سے اس کے جسم میں خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہورہی تھیں۔

وہ روتا ہوا اپنی زندگی بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا اور سب کچھ برداشت کرتا رہا۔

زیک کا تین بڑے ہسپتالوں میں ہر قسم کا علاج کروایا گيا۔ اس کے باوجود نو سال کی عمر میں ایک ہسپتال کے آئی سی یو میں اس نے دم توڑ دیا۔ اس کی موت کینسر سے نہيں ہوئی تھی، بلکہ ہڈیوں کے گودے کے تیسرے ٹرانس پلانٹ کے بعد جسم میں زہر پھیلنے سے ہوئی تھی، جو اس کے کیموتھراپی سے چھلنی جگر سے خون بہنے کی وجہ بن رہا تھا۔

میرے گھر میں میرے علاوہ زیک کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کسی نے نہیں پڑھی۔ میں بتا نہيں سکتی کہ مجھے یہ رپورٹ پڑھ کر کتنی تکلیف ہوئی، لیکن جسم کے اعضاء پر کینسر کے موجودہ علاج کے نقصانات کے متعلق پڑھ کر میری آنکھیں بھی کھل گئيں۔ مجھے یقین تھا کہ کینسر کا اس سے بہتر علاج موجود ہے، اور یہ خیال مجھے چین سے جینے نہيں دیتا ہے۔

میں ایسی کئی ماؤں کو جانتی ہوں جو اپنے بچوں کی موت کے بعد سکتے میں چلی گئی ہيں۔ بعض دفعہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ زيک سے اس قدر محبت کرنے اور اس کی جان بچانے کے لیے دن رات ایک کرنے کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد میں سکتے میں کیوں نہيں گئی؟ اس کے بجائے مجھ پر اس کی بیماری کا علاج ڈھونڈ کر دوسروں کو اس اذیت سے بچانے کی دھن سوار ہے۔

آج کل نظام مدافعت کا فائدہ اٹھانے والے ری انجنیئرڈ ٹی سیلز (re-engineered T cells) اور اینٹی باڈی استعمال کرنے والی تھراپی کے ذریعے علاج کی تلاش جاری ہے، تاکہ نقصان دہ ذیلی اثرات کے بغیر کینسر کا علاج ممکن ہوسکے۔ اگر یہ زیک کو دستیاب ہوتے تو شاید اس کی زندگی بچ سکتی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو بچپن میں لیوکیمیا کا مریض رہ چکا تھا۔ اس کے مرض کا تو علاج کامیاب ہوگیا، لیکن اس علاج کی وجہ سے اس کے کولہوں میں خرابی پیدا ہوگئی، اور وہ آج دن تک بھاگ نہیں سکتا ہے۔ سیٹل کے چلڈرنز ہسپتال (Children’s Hospital) میں ایک پانچ سالہ بچی کی جان بچانے کے لیے ہڈی کے گودے کے انتقال کی ضرورت ہے، لیکن کیموتھراپی کے بعد اس کا دل اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ اب اس کے لیے یہ ناممکن ہے۔

جب ہم زیک کے علاج کے سلسلے میں سیٹل میں واقع فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سنٹر (Fred Hutchinson Cancer Research Center) جایا کرتے تھے، ہمیں وہاں ٹی سیل ریسیپٹر ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے نئے علاج کے متعلق بتایا گیا، جو اے ایم ایل کے کلینکل ٹرائلز اور پھیپھڑوں، لبلبے اور بیضہ دانی کے کینسر کے پری کلینیکل ٹرائلز میں امیدافزا ثابت ہوا ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی سیل ریسپٹر کا علاج صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتا ہے، صحت مند سیلز کو نہيں۔ میں اس دن کا خواب دیکھ رہی ہوں جب کیموتھراپی، ریڈيشن، اور ہڈی کے گودے کے انتقال کی ضرورت کم ہوجائے گی یا بالکل ختم ہوجائے گی، اور زندگی بچانے کے لیے زیادہ محفوظ اور آسان علاج عام ہوجائيں گے۔ اب میں اپنا وقت فریڈ ہچنسن سنٹر میں ڈاکٹر فل گرین برگ (Dr. Phil Greenberg) کے لیب میں ری انجنیئرڈ ٹی سیلز کی ترقی کے لیے چندہ اکھٹا کرنے میں گزارتی ہوں۔ میں نے کینسر کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اور میں اس بیماری کے خلاف ہتھیار نہیں ڈالنے والی ہوں۔ میں یہ جنگ زیک اور اس جیسے تمام بچوں کے لیے لڑ رہی ہوں۔

جولی گیلوٹ ایک سابقہ آئی ٹی کنسلٹنٹ اور ایگزیکٹو ہیں، جو اب اپنے باقی دو بچوں کی تربیت اور کینسر کے لیے کم زہریلی تھراپیوں کی ترقی کے لیے کام کررہی ہيں۔

Authors
Top