Global Editions

مصنوعی ذہانت پر بہترین ٹی وی پروگرامز اور کتابیں

آپ کو روبوٹس کے بارے میں کونسی کتابیں پڑھنی چاہیے اور کونسے ٹی وی پروگرام دیکھنے چاہیے؟

مصنوعی ذہانت کتنی ہی آگے کیوں نہ نکل جائے، یا تو آپ اس کے بارے میں فلمیں دیکھتے آرہے ہیں یا آپ نے اس کے بارے میں کوئی نہ کوئی کتاب ضرور پڑھی ہے، جس کی وجہ سے آپ کو یہ ٹیکنالوجی بہت جانی پہچانی لگے گی۔ آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں مصنوعی ذہانت کو مختلف شکلوں میں دیکھا ہےThe Terminator یا 2001: A Space Odyssey میں دہشت پھیلاتے ہوئے، WarGames میں دنیا کو تہس نہس کرتے ہوئے، The Matrix میں دنیا پر حکومت کرتے ہوئے، اور Her اور سٹینلی کوبرک اور سٹیون سپیلبرگ کی مشترکہ فلم A.I. Artificial Intelligence میں ایک بہت اچھے ساتھی کا کردار نبھاتے ہوئے۔ تاہم ان مشہور فلموں کے علاوہ، ایسے کئی ناٹک، ٹی وی پروگرامز، فلمیں اور کتابیں موجود ہیں جنہوں نے زیادہ نام تو نہیں کمایا، لیکن انسانی زندگی پر پیچیدہ مصنوعی ذہانت کے متعلق اپنی خوبصورت اور باشعور تحریر کی وجہ سے انھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کی ایک محتصر فہرست نیچے درج ہے۔

The Machine Stops, by E.M. Forster, 1909

Humanity, in its desire for comfort, had over-reached itself. It had exploited the riches of nature too far. Quietly and complacently, it was sinking into decadence, and progress had come to mean the progress of the Machine.

یہ مختصر تحریر Ray Kurzweil کی کتابSingularity سے ملتی جلتی ایک مستقبل کی کہانی ہے، جس میں کمپیوٹر سے معاونت پر مشتمل روشن خیالی کی مثال کی ہی نہیں بلکہ دنیا کے اختتام کی منظرکشی کی گئی ہے۔ اس کہانی کا ہر کردار ایک زیر زمین کمرے میں تنہا بیٹھ کر یا تو دوسروں کو لیکچرز سناتا ہے، یا دوسروں کے لیکچرز سنتا ہے۔ دور دراز بیٹھے انسان ایک دوسرے کو حقیقی شکل کے بجائے بلکہ صرف ہولوگرامز کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ زندگی کا مقصد اب صرف خیالات کا تبادلہ ہے، اور خود سے دنیا کا تجربہ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ایک مشین ان کی دیگر تمام ضروریات پورا کرتی ہے، لیکن یہ محض ایک عارضی حل ہے۔

R.U.R. (Rossum’s Universal Robots), by Karel Capek, 1920

“Robots of the world! We, the first union at Rossum’s Universal Robots, declare that man is our enemy and the blight of the universe.’ Who the hell taught them to use phrases like that?”

"روبوٹ" چیک زبان کے لفظ "روبوٹا" سے نکلا ہے، جس کے معنی "جبری مشقت" کے ہیں، اور اگر ہم آج اس لفظ سے بخوبی واقف ہیں، تو اس کا سہرا اس ناٹک کے سر جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے مغرور فیکٹری کے مالک کی کہانی ہے، جس نے ہر ممکنہ حد تک انسانی مزدوروں کی جگہ روبوٹس استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک وقت ایسا آیا جب اس کے تخلیق کردہ "مصنوعی انسان" اسی کے خلاف ہوگئے۔

There Will Come Soft Rains, by Ray Bradbury, 1950

“Mrs. McClellan, which poem would you like this evening?” The house was silent. The voice said at last, “Since you express no preference, I shall select a poem at random.”

2026ءء میں دنیا کے سارے انسان تو ختم ہوگئے ہیں، لیکن ایک سمارٹ ہوم کی خدمت کی عادت ختم نہیں ہوسکی ہے، اور وہ ابھی بھی اپنے مالکان کے گھر کے سارے کام کرتا ہے، اور انھیں روزمرہ زندگیوں میں مدد کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

Humans, debuted in 2015

Hobb: “Robert, these machines are conscious.”
Robert: “How do you know they don’t just simulate it?”
Hobb: “How do we know you don’t?”

اس ٹی وی پروگرام میں سنتھز (Synths) نامی مصنوعی انسانوں کو فیکٹریوں، کھیتوں اور گھروں میں انسانوں کی جگہ مزدوری اور مشقت کرتے ہوئے دکھا کر کئی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، روبوٹس سے سارا کام کروا کر انسانوں کی زندگی کا مقصد اور آگے بڑھنے کی خواہشات پر کیا منفی اثرات ہوتے ہیں؟ اور اگر یہ سنتھز آزادانہ طور پر سوچنے لگ جائیں گے تو کیا ہوگا؟ یہ ٹی وی پروگرام R. U. R. سے کافی ملتا جلتا ہے، بلکہ اس میں روبوٹس کو غیرقانونی طور پر ہیک کرنے والے ایک کردار کا نام Capek بھی ہے۔

Chappie, 2015

“Chappie, in life, lots of people will tell you what you can’t do. And you know what, you must never listen.”

روبوٹس کو Isaac Asimov کی کہانیوں میں تین بنیادی اصول سکھائے گئے تھے، لیکن اس فلم میں Chappie نامی ایک پولیس ڈرائیڈ (انسانی صورت کا روبوٹ) کو ایسا کچھ بھی نہیں سکھایا گیا ہے۔  بلکہ وہ دنیا کو دیکھ کر خود صحیح اور غلط کی پہچان سیکھتا ہے۔ بچوں کی طرح معصوم سا یہ روبوٹ بالآخر چند غنڈوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، جو اس کی مدد سے چوری چکاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات اور مصنوعی ذہانت کا کاروبار قائم کرنے والے گیری مارکس (Gary Marcus) کی نیو یارکر (New Yorker) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک مضمون کے مطابق چیپی (Chappie) نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ مستقبل میں نظر آنے والی مشینوں کے لیے بھی ایک اہم اخلاقی درس ہے۔

Speak, by Louisa Hall, 2015

Ramona learned for the sake of her doll. She ran with her doll so her doll could feel movement. The two of them never fought. They were perfect for each other. My daughter’s doll was a softly blurred mirror that I held up to her face.

انسانی اور کمپیوٹر کی ذہانت، یادداشت اور اظہار خیال کس حد تک ملتے جلتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے ایک 1633ء سے لے کر 2040ء کے درمیان زندگی گزانے والے ایک مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی گڑیا کے تخلیق کار کے علاوہ دیگر چار کرداروں کی یادوں سے ایک بڑی دلفریب کہانی بنی ہے۔

تحریر: برائن برگ سٹائن (Brian Bergstein)

Read in English

Authors
Top