Global Editions

اب کینسر کے علاج کے لیے جین تھراپی استعمال ہونے والی ہے

اس تھراپی کی قیمت 4.75 لاکھ ڈالر ہوگی۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration) نے کینسر کے علاج کے لیے امیون سیلز کی جینیائی طور پر تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کی وجہ سے کینسر کے علاج میں انقلاب کی توقع کی جاسکتی ہے۔

ایف ڈی اے کے مطابق یہ امریکہ کی "پہلی جین تھراپی" ہوگی، اور اسے نووارٹس نامی کمپنی مارکیٹ کررہی ہے۔ یہ تھراپی بچوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والی خون اور ہڈی کے نلی کے کینسر کے علاج کے لیے تیار گئی ہے، جو اکثر جان لیوہ ثابت ہوتا ہے۔ اس تھراپی کا نام CAR-T ہے، اور اب تک اس کے نتائج کافی امیدافزا ہیں۔ اس کی قیمت 4.75 لاکھ امریکی ڈالر ہوگی، لیکن نووارٹس کہتے ہیں کہ اگر ایک مہینے میں مثبت نتائج سامنے نہیں آئے تو مریض کو اس کی ادائیگی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ایف ڈی اے کے کمیشنر سکاٹ گوٹ لیب (Scott Gottlieb) کہتے ہیں "ہم موذی کینسر کے علاج کے لیے مریضوں کے جسم کے سیلز کو تبدیل کررہے ہیں، جو کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔"

یہ تھراپی، جسے نووارٹس نے کمریا (Kymriah) کا نام دیا ہے، کسی بھی مریض کے ٹی سیلز استعمال کرتے ہوئے کسٹمائزڈ علاج فراہم کرتی ہے۔ ٹی سیلز امیون سیلز کی ایک قسم ہیں، جنھیں ایسکٹراکٹ کرکے منجمد کرنے کے بعد نیو جرسی میں واقع نووارٹس کے تخلیقی مرکز بھیجا جاتا ہے۔ یہاں ان سیلز کو جینیائی طور پر تبدیل کرکے ان میں ایک نیا جین متعارف کروایا جاتا ہے، جس میں کائیمیرک انٹی جین ریسیپٹر (chimeric antigen receptor) یعنی CAR کی کوڈنگ کرنے والا ایک پروٹین شامل کیا جاتا ہے۔ یہ پروٹین ٹی سیلز کو ان لیوکیمیا کے سیلز ختم کرنے کی ہدایات دیتا ہے جن کی سطح پر ایک مخصوص اینٹی جن موجود ہے۔ اس کے بعد ان جینیائی طور پر تبدیل شدہ سیلز کو واپس مریض کے جسم میں ڈالا جاتا ہے۔

اکیوٹ لمفو بلاسٹک لیوکیمیا (acute lymphoblastic leukemia) کے شکار 63 بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل کلینیکل ٹرائلز میں CAR-T تھراپی حاصل کرنے والے 83 فیصد افراد میں تین ماہ کے اندر کینسر میں افاقہ ہوا۔ چھ ماہ بعد 89 فیصد مریض زندہ تھے، جبکہ 12 ماہ کے بعد 79 فیصد زندہ تھے۔

نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ (National Cancer Institute) کے مطابق امریکہ میں ہر سال تین ہزار سے زائد 20 سال سے کم عمر افراد اکیوٹ لمفوبلاسٹک لیوکیمیا کا شکار ہوتے ہیں، جو بچوں میں سب سے عام کینسر ہے۔ اس وقت علاج کیموتھراپی اور سٹیم سیل کے مریضوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، لیکن ہر سال تقریباََ 600 بچوں اور نوجوانوں میں یہ کینسر دوبارہ آجاتا ہے، جبکہ کئی مریضوں کا علاج ناممکن ہے۔

حمایتی گروپ Patients for Affordable Drugs کے بانی ڈیوڈ مچل (David Mitchell) کہتے ہیں کہ اس علاج کی کل لاگت 4.75 لاکھ امریکی ڈالر ہے، جو "بہت زیادہ" ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت CAR-T تھراپی کی ابتدائی تحقیق پر 20 کروڑ ڈالر خرچ کر چکی تھی، جس کے بعد نووارٹس نے اس کے حقوق خرید لیے۔ ان کے گروپ نے تھراپی کے اخراجات کو "مناسب" حد تک کم کرنے کے لیے کمپنی سے ایک میٹنگ کی تھی، اور مچل کے مطابق اس میٹنگ سے پہلے اس تھراپی کی لاگت 6 لاکھ سے 7.25 لاکھ کے درمیان تھی۔

یہ منظوری CAR-T تھراپیوں پر کام کرنے والے نووارٹس کے کاروباری حریف کائٹ فارما (Kite Pharma) اور جونو تھراپیوٹیکلز (Juno Therapeutics) کے لیے خوش آئين ہے۔ چند روز پہلے گیلیڈ (Gilead) نامی کمپنی نے کائٹ فارما کو، جو بالغ افراد میں خون کے کینسر کے علاج کے لیے CAR-T تھراپی کے لیے ایف ڈی اے کی منظوری کی منتظر ہے، 11.9 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔

نووارٹس کی تھراپی کے نتائج امید افزا ہیں، لیکن یہ کمپنی اپنے مریضوں کے لیے کتنی جلدی پرسنلائزڈ تھراپیاں تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگی؟ یہ اب تک ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ نووارٹس کے مطابق اس وقت مریض کے سیلز نکالنے کے بعد انھیں تبدیل کر کے واپس ڈالنے میں 22 روز لگتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ماہ کے اندر اندر کمریا امریکہ کے 20 ہسپتالوں میں دستیاب ہوجائے گی۔ آگے چل کر یہ تھراپی 32 سائٹس پر دستیاب ہوگی۔

CAR-T تھراپی کے ممکنہ طور پر جان لیوہ اثرات سامنے آئے ہیں، جن میں اعصابی امراض اور سائیٹوکن کا اجراء شامل ہیں۔ اس سال جونو تھراپیوٹکس کو مریضوں کے دماغ میں سوجن پیدا ہونے کی وجہ سے موت واقع ہونے کے بعد CAR-T کی تحقیق روکنی پڑی۔ تاہم نووارٹس کے مطابق، ان کے کسی مریض کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

ایف ڈی اے کے مطابق جین تھراپی سے مراد ایسی کوئی بھی تھراپی ہے جس میں کسی بیماری کے علاج کے لیے کسی شخص کے ڈی این اے میں جینیائی مواد متعارف کروایا جائے۔ یہ امریکہ کی پہلی جین تھراپی ہے۔ اس سے قبل یورپ میں نایاب اور موروثی امراض کے لیے دو مختلف قسم کی جین تھراپیوں کو منظوری حاصل ہوچکی ہے۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top