Global Editions

جینوم ٹھیک کرنے کی تیز رفتارتکنیک شدید علیل بچوں کی جان بچا رہی ہے

تیز رفتار ڈی این اے ٹیسٹ ڈاکٹروں کو شدید بیمار بچوں کا ہفتوں کے بجائے دنوں میں علاج کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

رئیلی سپل(Rylee Supple) ایک بالکل صحت مند بچے کی طرح لگ رہی تھی جب وہ اگست2016ء پیدا ہوئی۔ لیکن چند ماہ کے بعد، اس کے والدین، ایمی جے گر اور رابرٹ سپل نے محسوس کیا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے:رئیل سپل کا جسم عام بچوں کی طرح اچھل کود کرنے کی بجائے ،ہلنے والا اور سست تھا۔

یمی جے گر اور رابرٹ سپل فکر مند تھے۔ وہ رئیلی کو ایک ڈاکٹر کے پاس بہت سارے ٹیسٹ کرانے لے گئے جو سب منفی آئے اور اگلے کچھ مہینوں میں رئیلی سپل کی حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ رئیلی اپنا سر اوپر نہیں اٹھاسکتی تھی یا اپنے ہم عمر بچوں کی طرح بیٹھ نہیں سکتی تھی اور اسے بے پناہ پسینہ چھوٹنا شروع ہو گیا۔

رئیلی کے بہت زیادہ پریشان والدین اسے نیورولوجیسٹ جینفر فرائیڈ مین کو دکھانے سان ڈیاگو میں ریڈی چلڈرن ہسپتال لے آئے۔ انہوں نے پورے جینوم آرڈر کے وسیع پیمانے پر طبی ٹیسٹ تجویز کیے۔ ا ن ٹیسٹ کو جینز کی پوری ترتیب کہا جاتا ہے اور اس تکنیک کے ذریعےایک شخص کے ڈی این اے کے تمام تمام چھ ارب جینز کو چیک کیا جاتا ہے اور ان میں خلاف معمول چیزوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ غلط کیاہے۔

عموما پورے جینوم کی ترتیب چیک کرنے کے لئے سائنسدانوں کو ہفتے لگتے ہیں لیکن جینفر فرائیڈ مین اور اس کے ساتھیوں نےریڈی چلڈرن ہسپتال میں اس عمل کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تیز ی سے مکمل کر دیا ۔ جین میں خرابی کی جلد نشاندہی سے شدید علیل بچوں کے لئے علاج حاصل کرنے میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے۔

جینیاتی بیماریاں شمالی امریکہ میں شیر خوار بچوں میں اموات کا اہم سبب ہیں اور یہ تقریباً 4 فی صد نوزائیدہ بچوں کو متاثر کرتی ہیں۔جینوم کی ترتیب میں نقص ڈھونڈنے کا کام ریڈی چلڈرن ہسپتال میں ابھی تک تحقیقاتی مرحلے میں ہے اور ہر بچے پر 6,000ڈالر لاگت آ رہی ہے ۔ امید یہ ہےجینوم کی ترتیب میں نقص ڈھونڈنے کا ایک سٹینڈرڈ طبی معائنہ ہزاروں زند گیاں بچائے گا۔

جینفر فرائیڈ مین نے گزشتہ سال اگست میں منگل کے روز رئیلی کے ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا؛ ریڈی ہسپتال کی اندورنی لیبارٹری میں میں ٹیکنیشن نے بچے کے خون سے ڈی این اے لیا اور اس کی ترتیب میں نقص ڈھونڈنا شروع کردیا۔اگلے منگل لیبارٹری نے اپنی تشخیص فراہم کر دی جس کے مطابق رئیلی کو ایک نایاب ا ور وراثتی نیورولوجی کی بیماری ہے جسے انفائنٹائیل پارکنسوازم( Infantile (Parkinsonism کہا جاتا ہے۔ یہ چلنے پھرنے میں دشواری کی بیماری ہے جس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو جان لیواہو سکتی ہے۔

تشخیص کے چند دن بعد رئیلی کے والد ین نے اسےنے لیووڈوپا دوا دینا شروع کردی۔

رئیلی کے والد سپل کا کہنا ہے ، "دوا دینے کے فوراً بعد ہم نے ڈرامائی تبدیلیاں دیکھیں۔ اب رئیلی کا ہلناکنٹرول میں ہے۔ وہ اپنے سہارے بیٹھ سکتی ہے اور 18 ماہ کی عمر میں چلنا سیکھ رہی ہے۔"

رئیلی کی جین کی ترتیب کو ٹھیک کرنے کے بعد ریڈی چلڈرن ہسپتال کی لیب میں ٹیسٹ کے لئے مزیدتیز ہو گئی ہے۔ جینوم کی مجموعی ترتیب پر ٹیسٹ کے لئے وقت چار دن سے بھی کم ہو گیا ہے۔

ریڈی چلڈرن ہسپتال میں انسٹی ٹیوٹ برائے جینومک میڈیسن کے صدر اور سی ای اوسٹیفن کنگز مور کا کہنا ہے ، "یہ ٹھیک دوائی سے متعلق نئی لہر کا حصہ ہے۔" بچے کی علامات کے پیچھے جینیاتی ترتیب سیکھنے کے بعد، ڈاکٹروں کو بہتر اندازہ ہوتا ہے کہ کونسی ادویات کام کر سکتی ہیں اور کونسی نہیں اور آخر میں کامیابی بچے کی جان بچانے میں ہوتی ہے۔

رئیلی اور اس جیسے دیگر بچوں کی جلد از جلد مدد کرنے کےلئے ریڈی ہسپتال میں ٹیکنشنز نے ساری جینوم کی ترتیب کی ٹیکنالوجی کو یکجا کرکےاس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سب سے پہلے وہ ڈی این اے کے ٹکڑے چھوٹے گلاس سلائڈ میں ڈالتے ہیں جن کو لیزر کے ذریعے جینوم ترتیب دینے والی مشین سے گزارا جاتا ہے۔ مشین ڈی این اے لیٹرز کو پڑھتی ہے تاکہ جینیاتی کوڈ کو اکٹھا کیا جا سکے اور اس کا کمپیوٹر پر تجزیہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد لیبارٹری کے کارکن ڈیٹا کو چھاننے والی کمپیوٹر چپ لگاتے ہیںاور مختلف سافٹ ویئر ز کے مجموعہ سےجینیاتی تبدیلیوں کو روکنے اور بیماری کا سبب بننے والے جینز کی شناخت کی جاتی ہے۔

ابھی تک ریڈی چلڈرن ہسپتال میں محققین نے تیز ٹکنیک کا استعمال کرتے ہوئے 340 بچوں کی جینز کی ترتیب کو ٹھیک کیا ہے جن میں اکثر نوزائیدہ بچے اور شیر خوار ہیں۔ یہ تکنیک ایک تہائی بچوں میں تشخیص بن گیا اور اس گروپ کے اندر، نتائج نے ڈاکٹروں کو دو تہائی بچوں کے علاج کے طریقہ کار میں تبدیلی کی اجازت دی۔ کبھی کبھار یہ تکنیک بچوںکو آپریشن اور دوا سے بچانے میں کامیاب ہوئی جو ان کو نقصان پہنچانے کا باعث ہو سکتا تھا۔ کنگز مور کا کہنا ہے کہ بہت سارے کیسوں میں ان تبدیلیوں نے بچوں کے جلد صحت یاب ہونے میں مدد کی اور وہ ہسپتال جلد ہی چھوڑ گئے اور بعض کیسز میں اس تکنیک نے بچوں کی جان بھی بچائی۔

نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، جو کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا حصہ ہے، میں تعنیات ما ہر وبائیات اینٹسیا وائز(Anatasia Wise ) کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ جینوم آرڈر میں تیزی لانے کی تکنیک ایک زیادہ عملی آپشن ہے جس کے ذریعے آپ شدید اور جان لیو امراض میں مبتلا مریضوں کا تیزی سے علاج کر سکتے ہیں۔

اورریڈی ہسپتال کے محققین اس سے بھی زیادہ تیز ہو رہے ہیں۔ فروری میں کنگزمور اوران کی ٹیم نے انسانی جینوم کی ترتیب ٹھیک کر نے میں تیزی کا ریکارڈ توڑ دیا اور اسے 19.5گھنٹوں میں مکمل کر دیا (اس پر غور کریں کہ پہلے انسانی جینوم کی ترتیب ٹھیک کرنے میں 1990 سے 2003 تک 13 سال لگے)۔

کنگز مور اور ان کی ٹیم چاہتے ہیں کہ جینوم کی ترتیب ٹھیک کرنے کا وقت اتنامزید کم ہو کہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کام کرنے فزیشن کی شفٹ کے ساتھ میچ کر جائے جو کہ 24 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس طرح سے ٹیسٹ تجویز کرنے والا ڈاکٹر اس کے نتائج بھی دیکھ لے گا۔
اب تک 19.5گھنٹوں کا معیار سیٹ نہیں ہوا ہے۔ کنگز موراور ان کی ٹیم نے کچھ جینوم کمپنیوں بشمول ایلومیمینا کی مدد حاصل کی ؛ مستقبل کے کیسز میں اسے استعمال کرنے کے لئےاس عمل کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔

اگرچہ ریڈی چلڈرن ہسپتال جینوم کی ترتیب ٹھیک کرنے میں توسیع کی کوشش کر رہاہے۔ ابھی تک تحقیق کے مرحلے میں ہو نے کے باوجود،ریڈی ہسپتال ا ب یہ ٹیسٹ مینیسوٹا، کولوراڈو، فلوریڈا اور کیلی فورنیا میں واقع چار بچوں کے ہسپتالوں میں پیش کرر ہا ہے۔ اگلے چند سالوں میں ریڈی ہسپتال تیز رفتار طریقہ سے5000 جینوم کی ترتیب ٹھیک کرنے کی امید رکھتا ہے۔

بعض دفعہ جینوم کی ترتیب بتاتی ہے کہ یہ حالت لاعلاج ہے یا بچہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وفات پا جاتا ہے۔ اس کے باوجو بھی کنگزمور کا کہنا ہے آپ والدین کو بتانے کے قابل ہوتے ہیں کہ آپ کا بچہ کیوں وفات پا گیا۔

ان کا کہنا ہے، " بچے کی بیماری کو نام دینا اور دوسرے والدین کے ساتھ ملنے کے قابل بنانا و الدین کے غم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔"

تحریر: ایملی مولن(Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top