Global Editions

عوام کے تحفظ کے لیے چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے

ایک ریسرچ کی تنظیم کے مطابق چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی معاشرے اور پالیسی سازوں کے لیے بہت اہم چیلنج ہے، لیکن کیا اب بہت دیر ہوچکی ہے؟

پچھلے چند سالوں میں مصنوعی ذہانت میں بہت ترقی ہوئی ہے، لیکن اس پیش رفت کے نتیجے میں کئی اخلاقی مسائل سامنے آرہے ہیں۔

ان میں سب سے بڑے مسئلے کا تعلق مشین لرننگ کی مدد سے تصویروں اور ویڈيوز میں لوگوں کے چہروں کی پہچان کی درستی سے ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے آپ مسکرا کر اپنے فون کو ان لاک تو کرسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومتوں اور بڑی کمپنیوں کو آپ کی نگرانی کے لیے ایک اور طریقہ کار مل گیا ہے۔

نیو یارک میں واقع اے آئی ناؤ انسٹی ٹیوٹ (AI Now Institute) نامی تحقیقی ادارے کے مطابق چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی معاشرے اور پالیسی سازوں کے لیے بہت اہم چیلنج ثابت ہورہی ہے۔

چہرے کے پہچان کی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی سب سے بڑی وجہ مشین لرننگ کی ایک قسم ہے جسے ڈیپ لرننگ کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ڈیٹا میں موجود پیٹرنز کی نشاندہی کے لیے انسانی دماغ کی وائرنگ سے ملتی جلتی کیلکولیشنز کی جاتی ہیں، اور اب یہ حیران کن حد تک درست ہوچکی ہے۔

ڈیپ لرننگ کی ٹیکنالوجی کی خراب معیار کی تصویروں اور ویڈیوز میں بھی اشیاء اور چہروں کی شناخت کی صلاحیت میں بہت بہتری آئی ہے، اور کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے دوڑ لگادی ہے۔

ان رپورٹ میں پرائیویسی کے مضمرات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی حکومت کو اس ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ “مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی عملدرآمدگی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لیکن اس پر نہ تو نظر رکھی جارہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جواب دہی ہے۔”

اس رپورٹ میں چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی جیسی مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن کے لیے موجودہ حکومتی اداروں کے دائرہ کار کو زیادہ وسیع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے: “صحت، تعلیم، جرائم اور فلاح و بہبود سب ہی کی اپنی تاریخ، ضابطہ کار فریم ورکز اور خطرات ہیں۔”

اس کے علاوہ، اس رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کے متعلق دعووں کے خلاف صارفین کو زیادہ تحفظات فراہم کرنے، مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی جواب دہی کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارتی راز کے دعووں کو مستثنی کرنے، اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران زيادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اس دستاویز میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ عوام کو اس صورت میں مطلع کرنا چاہیے جب چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی کو ان کی ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہو۔ اس کے علاوہ، عوام کے پاس اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو رد کرنے کا حق موجود ہونا چاہیے۔

تاہم ان تجاویز کو عملدرآمد کرنا بہت مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی بڑی تیزی سے اپنائی جارہی ہے۔ اسے ایپل کے نئے آئی فونز کو ان لاک کرنے اور ادائيگیوں کو ممکن بنانے کے علاوہ فیس بک کی کئی لاکھ تصاویر میں صارفین کی شناخت کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں ڈیلٹا ایئرلائنز نے ایٹلینٹا ایئرپورٹ میں چہرے کی سکیننگ پر مشتمل چیک ان سسٹم متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے، اور یو سی ایل اے کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس بھی وہائٹ ہاؤس کے لیے چہرے کی پہچان سے فائدہ اٹھانے والے سیکورٹی سسٹم پر کام کررہی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے “امریکہ، چین، اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں نگرانی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔”

چین میں اس ٹیکنالوجی کو بہت وسیع پیمانے پر اپنایا جاچکا ہے، جس کے لیے اکثر اوقات نجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے درمیان اشتراک قائم کیا جاتا ہے۔ پولیس مصنوعی ذہانت کی مدد سے جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کرتی ہے، اور متعدد رپورٹس کے مطابق حکومت اس ٹیکنالوجی کو اختلاف رکھنے والوں کی ٹریکنگ کے لیے بھی استعمال کررہی ہے۔

چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی کو مشکوک مقاصد کے لیے استعمال نہ بھی کیا جارہا ہو، اس کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر، چند سسٹمز میں اندرونی ساختہ تعصب پایا جاتا ہے۔ اے سی ایل یو کے محققین نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ایمزان کے کلاؤڈ پروگرام کے دستیاب ٹول کا اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مجرم قرار دینے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

اس رپورٹ میں چہرے اور آواز کی پہچان کے سسٹمز میں جذبات کی ٹریکنگ کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے متعلق بھی تنبیہات موجود ہیں۔ اس وقت جذبات کی ٹریکنگ کے نتائج سو فیصد درست نہيں ہیں، لیکن اسے ابھی سے ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جن میں تعصب ممکن ہے۔

اے آئی ناؤ کی شریک بانی اور اس رپورٹ کی شریک مصنف کیٹ کرافورڈ کہتی ہیں “اب چہرے کی پہچان کو ریگولیٹ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ لوگوں کے اندرونی حالت دیکھنے کے دعوے کرنا نہ تو سائنسی اعتبار سے صحیح ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے۔”

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top