Global Editions

بچوں کے لئے فیس بک کی ایپلی کیشن والدین کو پاگل کر رہی ہے

فیس بک کے میسنجر کڈز، جو 13 سال سے کم عمر بچوں کے لئے بنایا گیا ہے، پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔بہر حال، سب جانتے ہیں کمپنی بالغوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔

کیا آپ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے فیس بک پر اعتماد کرتے ہیں؟
یہی وہ چیز ہے جو کہ دنیا کا سب سے بڑا سماجی نیٹ ورک والدین سے بچوں کے لئے اپنی پہلی اپلی کیشن میسنجر کڈزمتعارف کرانے کے بعد پوچھ رہا ہے۔ یہ فیس بک کے چیٹ ایپ میسنجر ( فیس بک ہی کی طرح کاصرف 13سال اور اس سے کم عمر کے بچوں کے لئے ہے) کا پرنٹ ورژن ہے۔ میسنجر  زمتعارف کرانے کے بعد فیس بک سب سے پہلا سماجی نیٹ ورک بن جاتا ہے جس نےخاص طور پر 13 سال سے کم عمر کے بچوں کےلئے ایپ بنائی ہے۔

فیس بک کا بچوں کے لئے ایپ بنانے کی کچھ سمجھ آتی ہے چیٹ ایپس ہر جگہ ہیں، لہذ انہیں بچوں کے ہاتھوں سےدور کیوں رکھیں؟ یہ یہاں تک کہ والدین کو بچوںکو آن لائن آداب کے متعلق بھی سکھا سکتے ہیں۔

بچوں کے لئے ایپ بنا کر یہ فیس بک نے کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے کیونکہ اس کے نوجوان صارفین مقابلے کی دوسری ایپس جیسا کہ سنیپ چیٹ، ٹویٹر، اور کک جیسی ایپلی کیشنز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ میسنجر کڈزمتعار ف کرانے کے بعدشاید فیس بک اپنے نوجوان صارفین کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ ایپ بڑی تعداد میں لوگوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے جواب کا حصہ ہے جو کہ اس کےابتدائی سرمایہ کاروں جیسے سین پارکر اور اس کے ساتھ ساتھ سابق ایگزیکٹوز نے اس کی جوڑ توڑ کے بارے میں اٹھائے تھے۔ متنازعہ تجربات میں، اس نے ثابت کیا ہے کہ یہ لوگوں کے موڈ یا اس کی خبروں کی فیڈ، ووٹنگ کا پیٹرن تبدیل کر سکتی ہے۔ اور حالیہ امریکی امریکی صدارتی انتخابی مہم کے دوران کمپنی نے تسلیم کیا کہ روسی سیاسی مواد 126 ملین امریکی فیس بک صارفین تک پہنچا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پلیٹ فارم کو کتنا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جعلی خبروں کے بارے میں خدشات کو کم کرنے کے لئے ، فیس بک نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ یہ کمپنیوں اور نیوز میڈیا کی خبریںصارفین کو کم از کم دکھائے گا اور اپنے دوستوں کے پیغامات زیادہ سے زیادہ دکھائے گی۔ نئی ایپ کے ساتھ، یہ بچوں کے لئے محفوظ جگہ بن رہی ہے۔میسنجر کڈز والدین سے منظور شدہ دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ بچوں کی ٹیکسٹنگ اور ویڈیو چیٹ کے لیے خاص طور پر بنایا گیا ہے اور اس میں ڈیجیٹل اسٹیکرز اور اینیمیڈڈ ماسک جیسی تفریحی خصوصیات شامل ہیں۔

لیکن میں کیوں چاہوں گا کہ میرا نوجوان بچہ میسنجر کڈز کو استعمال کرے؟ جواب یہ ہے جیسے فیس بک پر بعض لوگ اپنے تعلقات کی حیثیت دیتے ہیں: یہ پیچیدہ ہے۔ یہ اچھا ہے کہ بچوں کو آہستہ آہستہ سماجی ایپس میں بڑھنے کا موقع ملے لیکن مجھے لازمی طور پر فیس بک کرناکو استاد نہیں بنانا ہے۔

بچے اورایپس

ایک طویل عرصے تک، ایک امریکی وفاقی قانون سے بچنے کے لئے، سب سے بڑے سوشل نیٹ ورکس نے یہ اصول وضع کیا تھا کہ13 سال سے کم عمر افراد سائن اپ نہ ہوں۔ چلڈرن آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن رول یا کوپا کہلوایا جانے والاقانون کمپنیوںکو بچوں کاآن لائن ڈیٹا اکٹھا کرنے، استعمال کرنے اور شئیر کرنے سے روکتا ہے اور والدین کو اس ڈیٹا پر کنٹرول دیتا ہے۔

لیکن کوپاقانون واضح طور پر غیر مؤثر ہے۔ 2017 ء میں فیس بک اور نیشنل پی ٹی اے( بہت سارے گروپس میں سے ایک گروپ جن کو فیس بک نے میسنجر کڈز بناتے ہوئے مشورہ کیا تھا) کی جانب سے کرائے گئے سروے کے مطابق پانچ میں سے تین امریکی والدین نے بتایا کہ 13 سال سے کم عمر کے بچے ایپس یا سوشل میڈیا، یا دونوں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا کے لئے پر جوش بچوں اور والدین کو بھی شامل کر لیں تو حقیقی اعداد و شمار مزید بڑھ جاتے ہیں۔ یہ مزید آپ کو یہ بھی بتائے گا کہ جس شخص کو آپ نے پیغام بھیجا ہے اس نے اس پیغام کو دیکھ بھی لیا ہے اور اگر دیکھ لیا ہے تو اس نے آخری پیغام کب بھیجا تھا۔

میسنجر کڈز کا ڈیزائن واضح طور والدین کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے۔ اس پر والدین کا مکمل کنٹرول ہے؛ سائن اپ کرنے اور ہر نئے رابطے کو شامل کرنے کیلئے بچوں کو والدین کی اجازت حاصل ہوتی ہے (والدین کے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے)۔

تاہم میسنجر کڈزایپ پر بھی کچھ بہت بڑی خصوصیات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ میسنجر کڈز پر کسی کو پیغام بھیجتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ مطلوبہ شخص آن لائن ہے یا اس کی مسینجر پر آخری سرگرمی کب تھی جب وہ شخص آن لائن تھا۔

اس قسم کی معلومات بالغوں میں بھی بے چینی پیدا کرتی ہیں باوجود اس کے کہ وہ کئی سالوں سے اپیس کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ٹریسٹن ہارس(Tristan Harris) ،جو کہ پہلے گوگل میں ڈیزائن کے اخلاقی ماہر کے طور پر کام کر رہے تھے اور اب سنٹر برائے ہیومن ٹیکنالوجی کو چلا رہے ہیں ،کا کہنا ہے کہ میسنجر کڈز میں اپیس کے عادی بچوں کے لئے تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں، "یہ ایسے ہی ہے جیسے کوکا کولا کا بچوں کے لئےسوڈا کی مصنوعات کی تخلیق کرنا۔ اس کو چینی فروخت کرنا پڑتی ہے؛ یہ واقعی بچوں کی خوشحالی سے متعلق نہیں ہے۔ "

سماجی اشارےاور ٹیک بلیوز

سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے حال ہی میں پتا چلایا ہے کہ جو نوجوان اسمارٹ فونزسوشل میڈیا کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان میں مایو سی زیادہ پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ کام، جو 2010 سے امریکہ میں نوجوانوںمیں خودکشی کے رحجان اور ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی شرح پر کیا گیا ہے،سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملات پورے ملک میں اسمارٹ فون کی بڑھتی ہوئی ملکیت میں تیزی سے منسلک ہیں۔ نوجوان بچوں کے لئے موزوں پیغام رسانی کی ایپ میسنجر کے منی ورژن کے سوا کچھ نہیں۔

اس طرح کی تحقیق نے دوسرے صحت اور تعلیم کے ماہرین کو پریشان کر دیا ہے۔19گروپس اور تقریبا 100 افراد (بشمول ہریس ) نےجنوری میں ایک درخواست پر دستخط کئے جس میں انہوں نے فیس بک کو میسنجر کڈز ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔ گروپ نے لکھا، " بچوں کی آن لائن دوستی کی حوصلہ افزائی ا ن کی زندگی میں مداخلت کریگی اور ان کے حقیقی رابطے اور کھیل کے شوق کو ختم کرے گی جو کہ صحت مند ماحول اور مہارتوں کے حصول کے لئے اہم ہیں بشمول انسانی جذبات کو سمجھنا، شکریہ ادا کرنا اور حقیقی دنیا کے ساتھ مشغول ہونا۔"

لیری روسن، ایک نفسیات کے پروفیسر اور کتاب The Distrcated Mind:Ancient Brains in High Tech World کے مصنف کا کہنا ہے کہ میسنجر کڈز میں ہم عمر بچوں کے گروپس میں روابط بڑھانے کی تیز صلاحیت ہوتی ہے اور وہ لفظی،غیر لفظی اور جسمانی اشارے کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے،"میں فکر مندہوں کہ ہم بچوں کے لیے ایسا کچھ متعارف کررہے ہیں جس کی واقعی ان کو ضرورت نہیں ہے اورمیرا خیال ہے کہ اس چیز کا بنیادی مقصد ہی غلط ہے، جو انہیںجلدجوان بنا دے گا۔"

والدین کا نقطہ نظر

سارےوالدین متفق نہیں ہیں۔سی جے کناش( (CJ Kanash ایری، پنسلوانیا میں ایک انشورنس ایجنٹ ہیں اور پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ کناش کے چار بچے ،چھ اور اور سال کی عمر کے درمیان میں ہیں اور ان سب بچوں کے پاس ایمیزون کا ٹیبلائیڈ ہے جس پر میسنجرکڈز ہے۔

کناش اپنے بچوں کو یاد دہانیوں کا پیغام بھیجنے کے لئے میسنجر کڈز کااستعمال کرتا ہے. پچھلی شادی سے ان کا نو سالہ بیٹا اپنی ماں کو ویڈیو چیٹ کے ذریعہ شب بخیر کہتا ہے۔ انہوں نے کہا ،" دنیا مستقل بدل رہی ہےاور یہ کہ ہمیں مستقبل میں ایک ددسرے سے زیادہ سے زیادہ روابط رکھنے کا یہ طریقہ کار ہے۔" "انہیں یہ جاننا چاہئے کہ یہ ان روابط کو کس طرح ذمہ دار طریقے سے رکھنا چاہیے"۔

بچے کو ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنےکی ضرورت ہے، اور والدین پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انہیں سکھا ئیں کہ وہ اسے کس طرح استعمال کریں۔ اور 13اسال سے کم عمر کے بچے سوشل ایپس کا استعمال کرتے ہیں، چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہیں۔ لیکن فیس بک کو ڈیفالٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم اس سے واقف ہیں۔ نوجوان بچوں کے لئے موزوں پیغام رسانی ایپ شاید میسنجر کے منی ایڈیشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مثال کے طور پر،ڈیزائنرز کے ایک گروپ ، محققین، اور بچوں اور تعلیمی ماہرین نے بچوں کی ڈیزائن گائیڈ جنوری میں جاری کی۔ اس گائید کے مطابق بچوں کی ایسی ڈیجیٹل مصنوعات بنائی جانی چاہیں جو ان کو اعتدال پسندی کی تر غیب دیںاور انہیں ممکنہ طور پر نقصان دہ معلومات کے حصول سے رو کیں۔
دریں اثنا، ہارس اور باقی خط لکھنے والوں نے اس بات سفارش کی ہے کہ بچے دور دارز خاندان سے رابطے کے لئے اپنے والدین کا فیس بک یا اسکائپ اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

تھوڑی مشکل تحقیق ہے تاہم یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے لئے صحت مند سوشل میڈیا ایپ کس طرح نظر آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، ہم اپنے بچوں کے ساتھ بہت بڑا تجربہ کررہے ہیں۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ بچوں کی ایک پوری نسل کی آن لائن پلیٹ فارم کے ساتھ پرورش کریںاور بعد میں پتا چلائیں کہ یہ طرح متاثر ہوئے تھے۔ ہم سب کو اس چیز سے گزارہ کرنا پڑے گا جو ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں: فیس بک نے اپنے بالغ صارفین کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا کہ وہ اب بچوں پر غور کرے ۔اس سے کوئی فرق نہیں ہوتا کہ یہ اپلی کیشن کتنی پیاری اور مزہ دار لگ رہی ہو۔

تحریر: ریچل میٹز(Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top