Global Editions

فیس بک کرونا وائرس کے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں ناکام

اپنی حالیہ رپورٹ میں فیس بک نے نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کی نشاندہی کے لیے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نئے سسٹمز کے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ ان رپورٹس کے مطابق پچھلے تین مہینے کے دوران یہ سسٹمز 88.8 فیصد نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے جبکہ پچھلی سہ ماہی میں صرف 80.2 فیصد نفرت انگیز مواد کی نشاندہی ہو سکی تھی۔ تاہم اس درستی کے باوجود ابھی بھی بیشتر مواد کی چیکنگ انسانوں سے ہی کروائی جاتی ہے۔

تفصیلات: فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے سسٹم میں دو بنیادی ترامیم کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے ایسے ماڈلز کا استعمال کیا جارہا ہے جو کسی بھی پوسٹ کے پیچھے پوشیدہ معنی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ان ماڈلز میں مصنوعی ذہانت کے متعلق پچھلے دو سال کے دوران  سامنے آنے والی مصنوعی ذہانت کی ریسرچ کا فائدہ اٹھایا گیا ہے جس کے ذریعے نیورل نیٹ ورکس کو انسانی مدد کے بغیر مختلف زبانیں سکھانا ممکن ہوا ہے۔

دوسری ترمیم کے بعد اب فیس بک کے لیے ایسی مشمولات کا تجزیہ ممکن ہوا ہے جس میں تصویریں اور ٹیکسٹ دونوں شامل ہوں۔ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز ابھی بھی سو فیصد درستی کے ساتھ اس قسم کی مشمولات کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم فیس بک نے وافر مقدار میں نفرت انگیز مواد جاری کیا ہے تاکہ اپنے صارفین سے مدد حاصل کر کے  ان الگارتھمز کی درستی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

سسٹم کی ناکامی: ان ترامیم کے باوجود، کرونا وائرس کے متعلق غلط معلومات پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ابھی بھی فیس بک پر متعدد سازشی تھیوریز اور الٹے سیدھے علاج کے متعلق پوسٹس نظر آتی ہیں۔ فیس بک ابھی بھی 60 مختلف تنظیموں سے وابستہ انسانی ریویرز پر انحصار کر رہا ہے۔ ان ریورز کی غلط معلومات کی نشاندہی کرنے کے بعد ہی مصنوعی ذہانت کے سسٹمز حرکت میں آتے ہیں اور ملتے جلتے مواد کو حذف کرنا شروع کرتے ہیں۔ فیس بک کی ٹیم اب تک ان سسٹمز کو خود سے نفرت انگیز مواد کی نشاندہی کرنے کی تربیت فراہم کرنے سے قاصر رہی ہے۔ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر مائک  شروپفر (Mike Schroepfer) کہتے ہیں کہ ”کسی بھی سسٹم کو اس قسم کی مشمولات پر تربیت فراہم کرنا، جو اس نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہ ہو، بہت مشکل ہے. اس میں بہت وقت لگتا ہے اور وافرمقدارمیں ڈیٹا درکار ہوتا ہے. “

 مسئلہ اس قدر اہم کیوں ہے؟ فیس بک کے ان سسٹمز کی ناکامی سے مصنوعی ذہانت کی خامیاں کھل کر واضح ہو جاتی ہیں۔ یہ سسٹمز ایسی مشمولات کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں جن سے ان کا پہلے پالا پڑ چکا ہو، لیکن اگر انہیں نئی معلومات پیش کی جائیں تو وہ بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں فیس بک نے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز تیار کرنے کے لیے بہت رقم خرچ کی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی بھی یہ ٹیکنالوجی سو فیصد درست نہیں ہے۔

تحریر: کیرن ہاو (Karen Hao)

Read in English

Authors

*

Top