Global Editions

فیس بک کورونا وائرس کے متعلق غلط معلومات پھیلانے والی پوسٹس کے خلاف اقدام کررہا ہے

فیس بک نے کورونا وائرس کے متعلق غلط معلومات رکھنے والی پوسٹس حذف کرنا شروع کردی ہيں۔ اس میں خاص طور پر ایسی پوسٹس کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں ہیلتھ کیئر سے وابستہ وسائل اور علاج کے متعلق غلط اور بعض دفعہ جان لیوہ معلومات شیئر کی گئیں ہو (مثال کے طور پر بلیچ پینے سے وائرس کے خاتمے کے متعلق افواہیں)۔

یہ فیصلہ اس قدر اہم کیوں ہے؟ اس پالیسی کے متعلق ایک بلاگ پوسٹ میں اعلان کیا گيا اور یہ بات نہایت خوش آئین ہے کہ ماضی میں خاصی تنقید کا سامنا کرنے کے بعد فیس بک نے آخرکار غلط معلومات کے خلاف اقدام کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ پہلے غلط معلومات کو نیوز فیڈز میں صرف دبا دیا جاتا تھا، لیکن اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ یہ معلومات فیس بک سرچ میں نظر آتی رہتی تھیں۔ پچھلے ہفتے فیس بک نے کورونا وائرس کے متعلق معلومات کے ساتھ یہی کرنے کی کوشش کی، لیکن نجی گروپس میں اس وائرس کے متعلق معلومات شیئر ہوتی رہی۔ ممکن ہے کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، فیس بک نے غلط معلومات پر مشتمل پوسٹس مکمل طور پر حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔

سماجی ذمہ داری: کئی افراد کا خیال ہے کہ اس پالیسی کا اطلاق سیاسی اشتہارات اور کینسر کے مشکوک علاج جیسے موضوعات پر بھی ہونا چاہیے، لیکن اب تک فیس بک نے اس حوالے سے کوئی قدم نہيں اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر اور یوٹیوب پر بھی کورونا وائرس کے متعلق غلط معلومات پھیلی ہوئی ہیں۔ ٹوئٹر کے ایک بیان کے مطابق، ان کی ویب سائٹ پر پچھلے چار ہفتوں میں اس وائرس کے متعلق 1.5 کروڑ کے قریب ٹوئیٹس کی جاچکی ہيں۔ خوش آئین بات یہ ہے کہ جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی کسی ہم آہنگ کوشش کے متعلق اب تک کسی قسم کا ثبوت نہيں ملا ہے۔

دوسری ویب سائٹس بھی اقدام کررہی ہیں: ٹوئٹر اپنی ویب سائٹ پر کورونا وائرس کے متعلق سرچ کرنے والے افراد کو سینٹر فار ڈزایس کنٹرول اینڈ پریوینشن (Centers for Disease Control and Prevention) کی جانب بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح گوگل بھی ایسے افراد کو عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ پر متعلقہ لنکس پیش کرتا ہے۔

تحریر: ڈگلس ہیون (Douglas Heaven)

تصویر: اے پی (AP)

Read in English

Authors

*

Top