Global Editions

فیس بک کا دنیا کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا منصوبہ۔۔۔

یہ ضروری نہیں کہ آپ کی جانب سے کی جانیوالی ہر منصوبہ بندی درست ہو اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔ ایسا ہی کچھ فیس بک کے اس منصوبے کے ساتھ ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے جو اس نے دنیا کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔ فیس بک اب دنیا کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے لئے تیار کئے جانیوالے پروٹوٹائپس کے نتائج کا تجزیہ کر رہا ہے جنہیں اسی مقصد کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے فیس بک کی جانب سے پہلا تجربہ رواں برس جولائی میں کیا گیا کہ جب فیس بک کی جانب سے تیار کئے جانیوالے نظام کو لے کر ایک ڈرون طیارے کو فضا میں بھیجا گیا اور اس ڈرون نے طے شدہ وقت سے تین گنا زیادہ دیر فضا میں پرواز کی تاہم اس تجربے کا اختتام زیادہ بہتر انداز میں نہیں ہوا۔ اس وقت فیس بک کے انجینئرز کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ پرواز کے دوران “Structural Failure” کا شکار ہوا ہے۔ تاہم بلوم برگ کے مطابق نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ اس حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو حقیقی معنوں میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فیس بک کو دوسرا بڑا دھچکہ ستمبر میں برداشت کرنا پڑا کہ جب فیس بک کی جانب سے تیار کردہ نئے سسٹم Amos 6 سیٹلائیٹ کو خلاء میں لیجانے والا سپیس ایکس راکٹ لانچ پیڈ پر ہی پھٹ گیا۔ فیس بک نے پھٹنے والے راکٹ کے ٹکڑے اپنے قبضے میں لے لئے ہیں تاکہ ان کا جائزہ لیا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ راکٹ کے تباہ ہونے کی وجہ فیولنگ پرابلم تھی۔ اس تمام صورتحال پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زیکر برگ کا کہنا تھا کہ پیسے مسئلہ نہیں ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ اب لوگوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے میں زیادہ وقت درکار ہو گا۔ اس بیان سے مارک زیکربرگ کی فرسٹریشن صاف ظاہر ہو رہی تھی جو جدید ترین نظام کے تجربات میں ناکامی کی وجہ سے تھی۔ دنیا بھر کے لوگوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے لئے فیس بک کا منصوبہ ابھی تک تکنیکی مسائل کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی دینا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی پزیرائی ہونا چاہیے اور اس سے وائرلیس نیٹ ورک کی نئی اقسام دریافت ہونگی اور یہ بھی ہے کہ ضروری نہیں کہ وائرلیس انٹرنیٹ کی تمام اقسام ہوا کے دوش پر رواں ہوں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top