Global Editions

فیس بک پوسٹس کی ماڈریشن کے لیے 30,000 افراد کی ضرورت ہے

فرض کریں کہ فیس بک پر کسی قسم کی ماڈریشن نہیں ہوتی اور کوئی کچھ بھی لکھ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں فیس بک پر ہراس پھیلانے والے اور نسل پرست مواد کی بھرمار نظر آتی۔ کئی صارفین تنگ آ کر ویب سائٹ کا استعمال ترک کر دیتے اور پھر کمپنیاں فیس بک پر اشتہارات بھی لگانا چھوڑ دیتیں۔

اس کے باوجود ماڈریشن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس وقت 15,000 کے قریب افراد یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں لیکن وہ فیس بک کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں 20 ممالک میں واقع تھرڈ پارٹی کمپنیوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں اکثر اچھی تنخواہ نہیں ملتی اور ان کے سامنے روزانہ سینکڑوں پوسٹس آتی ہیں، جن سے بعض دفعہ انہیں شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ اس کام میں آسانی کی لیے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن فیس بک اعتراف کرتا ہے کہ ابھی بھی غلطی کی شرح 10 فیصد ہے۔ ریویورز روزانہ تیس لاکھ کے قریب پوسٹس کی ماڈریشن کرتے ہيں، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ تین لاکھ کے قریب غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، جو بعض دفعہ جان لیوہ بھی ثابت ہوسکتی ہيں۔ مثال کے طور پر، 2016ء اور 2017ء میں میانمار کی افواج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کے لیے فیس بک سے فائدہ اٹھایا تھا، جس کے بعد فیس بک کو نفرت انگیز مواد کے متعلق اپنی پالیسی کے نفاذ کی ناکامی تسلیم کرنی پڑی۔

نیو یارک یونیورسٹی کے سٹیرن سینٹر فار بزنس اور ہیومن رائٹس (Stern Center for Business and Human Rights) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، نفرت انگیز مواد کو کم کرنے کے لیے فیس بک کو ماڈریشن کے فنکشن کی آؤٹ سورسنگ ختم کرکے ماڈریٹرز کی تعداد میں دو گنا اضافہ کرنا ہوگا۔

سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر پال ایم بیریٹ (Paul M. Barrett) کہتے ہيں کہ ”مشمولات کی ماڈریشن کسی بھی سوشل میڈیا کی کمپنی کے لیے بہت اہم کام ہے اور یہ ان دوسرے فنکشنز کی طرح نہيں ہے جنہيں بڑی آسانی سے آؤٹ سورس کردیا جاتا ہے۔ اسے کسی دوسری کمپنی کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داری سے ہاتھ دھو بیٹھنا بڑی عجیب بات ہے۔“

لیکن اگر ایسا ہے تو فیس بک مشمولات کے ماڈریشن کے حوالے سے سنجیدہ کیوں نہيں دکھائی دے رہا؟ بیریٹ کہتے ہيں کہ اس کی ایک وجہ کا تعلق تو اخراجات سے ہے۔ بیریٹ کی تجاویز عملدرآمد کرنے سے فیس بک کے سالانہ اخراجات میں کئی لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوگا (لیکن یہ کمپنی ہر سال اربوں ڈالر منافع بھی کماتی ہے)۔ تاہم بیریٹ کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ فیس بک اپنا ”امیج“ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”جب ہم سیلیکون ویلی کی بات کرتے ہيں تو ہمارے ذہن میں اس کی چمک دمک آتی ہے۔ یہ کمپنیاں اپنی انوویشن، اپنی انجنیئرنگ، اپنی دلفریب مارکیٹنگ کی وجہ سے مشہور ہیں، اور اس پوری تصویر میں مشمولات کے ماڈریشن جیسے دماغ کھپانے والے کام کی کوئی جگہ نہيں ہے۔“

بیرٹ کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ فیس بک مشمولات کے ماڈریشن کو اپنے کاروبار کا مرکزی حصہ سمجھے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف مستقبل میں میانمار جیسے واقعات کی روک تھام ممکن ہوگی، بلکہ کمپنی کی جواب دہی میں اضافہ ہوگا اور ملازمین کو ذہنی امراض کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔

اس حقیقت سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ ماڈریشن کے دوران نازیبا مواد کا سامنا رہے گا۔ لیکن اگر یہ کام آؤٹ سورس کرنے کے بجائے فیس بک کے ملازمین سے کروایا جائے تو کمپنی ان کے لیے بہت کچھ کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی سکریننگ کر کے انہیں کام کے خطرات کے متعلق بہتر معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے لئے کونسلنگ کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔ بیریٹ کہتے ہيں کہ فیس بک کے تمام ملازمین سے کم از کم ایک سال تک ماڈریشن کا کام ضرور کروانا چاہیے تاکہ وہ بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ ان کے فیصلوں سے دوسروں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں فیس بک کے لیے آٹھ تجاویز موجود ہيں:

1-   مشمولات کی ماڈریشن آؤٹ سورس کرنا بند کرکے ماڈریشن کا کام خود کریں۔

2-   ماڈریشن کے معیار میں بہتری لانے کے لیے ماڈریٹرز کی تعداد میں دو گنا اضافہ کریں۔

3-   مشمولات کی تصدیق کی نگرانی کے لیے ایک شخص نامزد کريں جو سی ای او یا سی او او کو جواب دہ ہو۔

4-   ایشیاء، افریقہ اور دیگر علاقہ جات کے ان ممالک میں ماڈریشن کی سرگرمیاں بڑھا دیں جہاں زيادہ خطرات موجود ہیں۔

5-   تمام ماڈریٹرز کو اعلی معیار کے ماہرین نفسیات سمیت علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی فراہم کریں۔

6-   مشمولات کی ماڈریشن کے باعث ذہنی اور جسمانی صحت کو درپیش خطرات پر ریسرچ کے لیے فنڈنگ فراہم کریں۔

7-   نقصان دہ مشمولات کے حوالے سے حکومتی قواعد و ضوابط کی تحقیق کريں۔

8-   غلط معلومات کی نشاندہی کے لیے معلومات کی جانچ پڑتال کا دائرہ کار مزید وسیع کریں۔

جب ہم نے فیس بک سے یہ تجاویز عملدرآمد کرنے کے ارادوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کوئی جواب نہيں دیا۔ تاہم ان کے ایک نمائندہ نے یہ ضرور کہا کہ ”ہمارے موجودہ طریقہ کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہم اپنی افرادی قوت میں حسب ضرورت تبدیلیاں لا سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، ہم ایسے افراد کو بھی ماڈریشن کی ذمہ داری سونپ سکتے ہيں جو انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں سے واقف ہیں اور جو مختلف ٹائم زونز میں رہتے ہيں۔“

تاہم بیرٹ کا خیال ہے کہ ایک حالیہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب ممکن ہے۔ فیس بک کے چند مشمولات کے ماڈریٹرز کرونا وائرس کے باعث اپنے دفاتر نہيں جا پارہے تھے، جس کے نتیجے میں کمپنی نے کچھ حساس مشمولات کی ماڈریشن کی ذمہ داری عارضی طور پر اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

بیرٹ کہتے ہيں کہ ”یہ بات نوٹ کریں کہ جب سر پر پڑی تو زکربرگ نے کسی اور کے بجائے اپنے فل ٹائم ملازمین پر انحصار کیا۔ ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر فیس بک اپنا لائحہ عمل تبدیل کرنے پر غور کرے۔“

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press)

Read in English

Authors

*

Top