Global Editions

فیس بک کرونا وائرس کے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کس طرح کررہا ہے؟

فیس بک اب کرونا وائرس کے متعلق غلط معلومات دیکھنے والے افراد کو عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے ایک خصوصی صفحے پر لے جائے گا، جہاں سے اس وبا کے متعلق درست معلومات حاصل کی جاسکے گی۔ فیس بک کے وی پی برائے انٹیگرٹی (VP of Integrity) گائے روزن (Guy Rosen) ایک بلاگ پوسٹ میں لکھتے ہيں کہ ”اگر کسی بھی شخص نے covid-19 کے متعلق کسی بھی قسم کی غلط معلومات کو لائک کیا ہو یا کمینٹ کیا ہو، اور ہم نے بعد میں ایسی پوسٹس کو حذف کردیا ہو، تو ہم انہيں نیوز فیڈ میں خصوصی پیغامات دکھائيں گے۔“ ان پیغامات کو نیوز فیڈ کے اوپری حصے میں موجود ایک پوسٹ میں دکھایا جائے گا جس کے اوپر لکھا ہوگا ”اپنے دوستوں اور گھر والوں کو covid-19 کے متعلق غلط معلومات سے محفوظ رکھیں۔“

پس منظر: اس وقت سوشل میڈیا پر covid-19 کے متعلق وافر مقدار میں غلط قسم کی معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال یورپ بھر میں نئے 5G نیٹورکس کے متعلق افواہ ہے، جن کی بنا پر برطانیہ میں موبائل فون کے ٹاورز پر متعدد حملے ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ، لوگ کرونا وائرس کے علاج کے لیے غلط اور خطرناک قسم کے گھریلو ٹوٹکوں کے علاوہ سازشی تھیوریز بھی شیئر کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپ آواز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق فیس بک پر شیئر  کی جانے والی غلط معلومات پر مشتمل 100 پوسٹس 17 لاکھ دفعہ شیئر ہوچکی ہيں اور 1.17 کروڑ افراد تک پہنچ چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں نے کرونا وائرس کے متعلق افواہ پر قابو پانے کے لیے اقدام کرنے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن یہ مسئلہ ان کے بس سے باہر ہے۔

اس سے کیا ہوگا؟ اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ فیس بک آپ کو غلط معلومات دیکھتے یا شیئر کرتے وقت مطلع کرے گا۔ فیس بک کا فلسفہ ہمیشہ ہی یہ رہا ہے کہ صارفین کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اسی لیے آپ کو صرف اپنی نیوز فیڈ میں عالمی ادارہ صحت کی لنک دکھائی جائے گی، اور آپ کی مرضی ہے کہ آپ اسے پڑھیں یا نظرانداز کردیں۔ تاہم آواز کے مطابق، اگرفیس بک فعال طور پر کسی بھی پوسٹ میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کرے تو 50 فیصد صارفین کا غلط معلومات پر بھروسہ اٹھ جائے گا۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top