Global Editions

ہوا میں تیر: کرونا ویکسین سب سے پہلے کس کے لیے؟

پوری دنیا کرونا وائرس کی ویکسین کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن حکومتیں سب سے پہلے اپنے شہریوں کے لیے انتظامات کرنا چاہیں گی۔

2004ء میں سائنوویک بائیوٹیک (Sinovac Biotech) نامی ایک چینی کمپنی نے سارز وائرس کے لیے ایک ویکسین پر تجربہ کرنا شروع کیا۔ لیکن 800 افراد کی موت کے بعد یہ مرض خودبخود غائب ہوگیا، جس کے بعد سائنسدانوں نے اس ویکسین پر مزید کام کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ تاہم اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ پچھلے جنوری جب چین میں نئے کرونا وائرس SARS CoV 2نے زور پکڑنا شروع کیا تو ان کے  پاس اس سے نمٹنے کا منصوبہ پہلے سے موجود تھا۔ چار مہینے بعد انہوں نے ثابت کردیا کہ مردہ وائرس سے تیار کردہ ایک غیرپیچیدہ ویکسین کے ذریعے بندروں کو اس مرض سے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اُس وقت چین میں ایک مختلف نوعیت کا مسئلہ سامنے آنا شروع ہوگیا۔ وہاں covid-19 پر قابو پانے کی کوششیں اس قدر موثر ثابت ہوئيں کہ ڈاکٹروں کے پاس ٹیسٹنگ کے لیے مریض نہيں بچے۔ امریکہ میں متاثرہ افراد کی تعداد کافی زیادہ تھی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس قدر خراب تھے کہ کسی بھی چینی کمپنی کی ویکسین کو امریکہ میں ٹیسٹنگ کے لیے اجازت ملنے کا سوال ہی نہيں پیدا ہوتا تھا۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سائنوویک نے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نو ہزار افراد پر ٹرائلز کرنے کے لیے برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں واقع بیوٹینٹن انسٹی ٹیوٹ (Butantan Institute) نامی ویکسین کے مرکز کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ برازیل کو کرونا وائرس کے باعث اس قدر نقصان پہنچا تھا کہ انہیں اس شراکت داری میں فائدہ ہی فائدہ نظر آیا۔ معاہدے کے تحت، بیوٹینٹن ٹرائل کے لیے رقم فراہم کرے گا اور رضاکار تلاش کرے گا، اور اس کے عوض انہيں سائنوویک سے اس ویکسین کی چھ کروڑ خوراکوں کے علاوہ مزید ادویات اور سامان تخلیق کرنے کی بھی اجازت ملے گی۔

برازیل کے لیے یہ سب اس وجہ سے ممکن ہے کیونکہ وہ 1980ء کی دہائی سے بیوٹینٹن کے علاوہ ریو ڈی جنیئرو میں واقع ایک دوسرے مرکز میں ویکسین کا مطالعہ، تخلیق، اور پیکیجنگ کی صلاحیت کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ سائنوویک کے مطالعے کے ذمہ دار وبائی امراض کے ڈاکٹر ریکارڈو پیلاشیوس (Ricardo Palacios) کہتے ہيں کہ ”برازیل کے قومی ویکسینیشن کے پروگرام کی اولین ترجیح خودمختاری ہے۔“

وہ وقت دور نہيں ہے جب دنیا کا ہر ملک ہاتھ دھو کر covid-19 کے ویکسینز کے پیچھے پڑ جائے گا۔ امریکی حکومت آپریشن وارپ سپیڈ (Operation Warp Speed) نامی منصوبے کے تحت دواساز کمپنیوں کو امریکہ میں رہتے ہوئے ویکسینز بنانے پر آمادہ کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرچکی ہے۔ چین نے بھی ویکسین کی تیاری کے لیے چند کمپنیوں کی نشاندہی کرلی ہے اور بائیوتخلیق کاری میں سرمایہ کاری میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ تاہم کئی دوسرے ممالک میں، خاص طور پر یورپی ممالک میں ،حکومتی تخلیق کاری کے مراکز بند کردیے گئے یا فروخت کردیے گئے ہيں، قومی صلاحیتوں پر زنگ لگ چکا ہے، دلچسپی ختم ہوگئی ہے، یا ویکسینز بنانے کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کیا جارہا ہے۔

آج تیل کے ذخائر اور جوہری اسلحہ رکھنے والے ممالک کا پلڑا بھاری ہے، لیکن ممکن ہے کہ مستقبل میں ان ممالک کو زيادہ اہمیت حاصل ہوگی جن کے پاس وافر مقدار میں covid کی ویکسینز موجود ہوں گی۔ یہ معییشتوں کی بحالی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہتھیار ثابت ہوگا۔ یہ بات ابھی سے واضح ہورہی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی آرہی ہے۔ ان ممالک کو زیادہ اہمیت حاصل ہورہی ہے جو ویکسینز بنانے، ان کی ٹیسٹنگ کرنے، بڑی تعداد میں اجزا تیار کرنے، اور پیکیجنگ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ دوسرے ممالک کے پاس ہاتھ باندھ کر تماشہ دیکھنے اور اس وبا کے خلاف تحفظ سے محروم رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے۔

سب سے پہلے امریکہ

کرونا وائرس کی ویکسینز کی دوڑ نے اچانک زور پکڑ لیا ہے۔ جولائی کے بعد سے، سائنوویک سمیت کئی کمپنیوں کی ویکسینز بندروں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوچکی تھیں اور انسانوں پر کیے جانے والے ابتدائی ٹرائلز میں بھی محفوظ ثابت ہوئیں۔ اب اگلے مرحلے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ یہ ویکسینز قوت مدافعت میں اضافہ کرنے میں کس حد تک کامیاب ثابت ہوتی ہيں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ہمیں ایک نہیں، متعدد ویکسینز کی ضرورت پیش آئی گی اور شروع میں ان کی تعداد کافی کم ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ممالک ان ویکسینز کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہيں۔

کرونا وائرس کی ویکسینز بنانے والی دوسری چینی کمپنی کین سائنو (CanSino) کے ساتھ کام کرنے والے بائیوٹیک کنسلٹنٹ پئیر مورگوں (Pierre Morgon) بتاتے ہيں کہ پردے کے پیچھے، ویکسینز تک رسائی کے لیے مذاکرات شروع ہوچکے ہيں۔ ان کے مطابق ”اب مذاکرات گندے ہونا شروع ہوجائيں گے۔“ مورگوں مزید بتاتے ہيں کہ 2009ء میں، جب وہ H1N1 کی وبا کے دوران سنوفی (Sanofi) نامی فرانسیسی دوا ساز کمپنی کے ساتھ کام کررہے تھے، اس وقت پیرس میں رہائش پذیر سفیروں نے ان ممالک کی نشاندہی کی جنہیں سب سے پہلے ویکسین فراہم کیا جانے والا تھا، اور اس فہرست میں وہ ممالک شامل تھے جو فرانس کی گیس، تیل، اور یورینیم جیسی ضروریات پوری کررہے تھے۔ مورگوں کہتے ہيں کہ ”کسی نے یہ بات چھپانے کی بھی زحمت گوارا نہيں کی۔“

صرف ممالک اور ریاستیں ہی ویکسین حاصل کرنے کی کوششیں نہيں کریں گے۔ کمپنیاں، افراد، یہاں تک کہ جرائم پیشہ افراد بھی ان تک رسائی کے لیے نت نئے حربوں سے کام لینا شروع کريں گے۔ H1N1 کی وبا کے دوران فرانس کو سنوفی کی فیکٹری کے سامنے فوجیوں کو کھڑا کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ مورگوں کہتے ہيں کہ ”جب کسی بھی چیز کی مانگ بہت زیادہ ہو لیکن اس کی تعداد کم ہو، تو اس چیز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہيں۔ ماسکس ہی کی مثال لے لیں، جنہيں بلیک مارکیٹ میں کئی گنا زیادہ مہنگی قیمتوں میں فروخت کیا جارہا تھا۔“ مغربی انٹیلی جینس سروسز روس پر امریکی اور برطانوی سروروں سے ویکسینز کے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کوزی بیئر (Cozy Bear) نامی ہیکرز کی ٹیم کی سہولیات حاصل کرنے کا الزام لگا رہی ہيں۔

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے”پیشگی خریداری“کے معاہدوں کی مدد سے جنوری تک ایک محفوظ اور موثر ویکسین کی 30 کروڑ خوراکیں حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ جب حکومت نے نووا ویکس (Novavax) نامی بائیوٹیک کمپنی کو (جس نے اب تک مارکیٹ میں کوئی ویکسینز متعارف نہيں کی ہیں) ایک نئی ویکسین بنانے کے لیے 1.6 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تو ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز (Department of Health and

Human Services) نے یہ بات واضح کی کہ وفاقی حکومت کو ان معاہدوں کے تحت بنائے جانے والی ویکسینز میں سے 10 کروڑ خوراکوں کا حق حاصل ہوگا۔

اس کا مطلب واضح ہے: یہ ویکسین سب سے پہلے امریکی شہریوں کو ملے گی۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دوا ساز کمپنی سنوفی کے ساتھ اسی قسم کے ایک معاہدے کے باعث فرانسیسی حکام طیش میں آگئے تھے۔ سنوفی کے سی ای او پال ہڈسن (Paul Hudson) نے اس فیصلے کا

دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خطرہ مولنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اسی لیے انہيں سب سے پہلے ویکسین حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم فرانسیسی افسران نے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ویکسین پوری دنیا کے لیے ہونا چاہیے،“ اور ”ہر کسی کو اس تک مساوی رسائی فراہم کرنے کے علاوہ کوئی بھی دوسری صورت قابل قبول نہيں ہوگی۔” بین الاقوامی غیرسرکاری طبی گروپ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (Doctors Without Borders) نے جون میں ایک انتہائی اشتعال انگیز بیان میں “قومی ذخیرہ اندوزی“ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ “عالمی اتحاد کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔”

جینیوا میں واقع غیرمنافع بخش ویکسین الائنس گیوی (Gavi) غریب ممالک کے لیے ویکسینز خریدتا ہے۔ یہ ادارہ ہر کسی کو بیک وقت ادویات فراہم کرنے کے لیے covid-19 کے ٹیکوں کی پیشگی خریداری کے لیے دو ارب ڈالر جمع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گیوی کے سی ای کو سیتھ برکلے (Seth Berkeley) کہتے ہيں کہ

”ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ امیر ممالک ساری ویکسینز حاصل کرلیں گے اور دوسرے ممالک کے لیے کچھ نہيں بچے گا۔“

وہ مزيد کہتے ہيں کہ ”ہر حکومت اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے، یہ ایک قدرتی فعل ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کسی ایک ملک کو اس وقت تک مکمل تحفظ نہيں فراہم کیا جاسکتا جب تک پوری دنیا محفوظ نہ ہو۔ اگر پوری دنیا میں ایک وبا پھیلی ہوئی ہو تو سب کچھ پہلے کی طرح نہيں ہوسکتا۔ آپ دوسرے ممالک تک سفر نہيں کرسکتے، سیاحت ختم ہوجائے گی، جس کے باعث معیشت بھی بحال نہيں ہوسکتی۔“

برکلے کہتے ہيں کہ صرف چند ممالک میں ہر کسی کو ٹیکے لگانے کے بجائے بہتر یہ ہوگا کہ پہلے ہر ملک میں تھوڑے تھوڑے افراد کو ٹیکے لگوائے جائیں۔ اگر ان کے اندازے صحیح ثابت ہوں اور 2021ء تک دو ارب خوراکیں دستیاب ہو جائيں تو ہر ملک میں 20 فیصد افراد کی ویکسینیشن ممکن ہوگی، جس میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد، اور ایک دوسرے کے زيادہ قریب رہنے والے افراد (جیسے کہ قیدی، پناہ گزین کیمپس میں رہنے والے افراد، اور فیکٹریوں کے ملازمین) کو ترجیح دی جائے گی۔

ویکسین ٹرائلز میں خصوصی مہارت رکھنے والے ادارے بیس، بیری اور سمز (Bass, Barry & Sims) کے وکیل کلنٹ ہرمز (Clint Hermes) کے مطابق حقیقی صورتحال بہت مختلف ہوگی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ بہت ناانصافی کی بات ہے کہ کچھ ممالک کو سب سے پہلے ویکسینز مل جائيں گی، لیکن ایسا ہی ہوگا۔ یہ سب کی توقعات کے خلاف ہوگا کہ امریکہ اپنی ضروریات پوری کیے بغیر مثال کے طور پر افریقی ممالک کو ویکسین فراہم کرے گا۔ منصفانہ رسائی سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ عملدرآمد کا ہے۔ ایک بند کمرے میں اخلاقیات کے متعلق کتنی ہی بات کرلی جائے، حقیقت یہی ہے کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف پیسے کا کھیل ہے۔“

ایک جوا یہ بھی

اب تک اس بات کا کوئی بھی ثبوت نہيں ہے کہ کوئی بھی ویکسین کرونا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، اسی لیے ہر داؤ کا ناکام ہونے کا امکان موجود ہے۔ جب کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا، امریکہ اور غیرمنافع بخش اداروں نے ایسی کئی ٹیکنالوجیز کے لیے بھاری بھرکم رقم فراہم کی جن کا کرونا وائرس کے خلاف موثر ہونے کا امکان تھا۔ تاہم ان میں سے کسی بھی ٹیکنالوجی نے نہ تو کسی منظور شدہ ویکسین کی شکل اختیار کی اور نہ ہی انہيں وسیع پیمانے پر تخلیق کرنا ممکن ہوا۔ ان ادویات میں ماڈرنا فارماسیوٹکلز (Moderna Pharmaceuticals)  کی آر این اے ویکسین، اور انوویو فارماسیوٹیکلز (Inovio Pharmaceuticals) کا ڈی این اے ٹیکہ شامل تھے، جو دونوں انسانی سیلز میں کرونا وائرس کے متعلق جینیاتی معلومات پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس کے بعد، امریکہ نے روایتی طریقہ کار استعمال کرنے والی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن (Johnson & Johnson) کو بھی فنڈنگ فراہم کی۔

مورگوں اس صورتحال کو ایسی دوڑ سے تشبیہہ دیتے ہیں جس میں مختلف اقسام کے جانور حصے لے رہے ہوں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”آپ کو معلوم نہيں ہوتا کہ کونسا جانور جیتے گا، اور اسی لیے آپ سب پر ہی داؤ لگاتے ہیں۔“

برازیل کے رجعت پسند صدر جیئر بولسونارو (Jair Bolsonaro)، (جنہيں اکثر ”برازیل کا ڈونلڈ ٹرمپ“ کہا جاتا ہے) کرونا وائرس کی سنجیدگی کو مذاق سمجھ کر ٹالتے رہے۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ”زکام“ ہے، پھر انہوں نے اپنے وزیر صحت کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب وہ جولائی 2019ء میں covid-19 کا شکار ہوئے تھے تو انہيں ملیریا کی دوا کلوروکوئین (choloroquine) سے افاقہ ہوا تھا۔ برازيل میں چینی ویکسینز کے ٹرائلز کے لیے رقم صدر بولسونارو نہيں بلکہ ملک کی امیر ترین ریاست ساؤ پاؤلو کے گورنر جوآؤ ڈوریا (Joao Doria) فراہم کررہے ہیں، جو مستقبل میں صدر کی کرسی پر بیٹھنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

سائنوویک کی ویکسین میں ایک کیمیائی طور پر غیرفعال یا مردہ وائرس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عرصہ دراز سے کامیاب ثابت ہوتا آرہا ہے اور بیلیشیوس کہتے ہيں کہ کارخانے کی ردوبدل کے بعد برازیل اسے بنا سکے گا۔ برکلے کے مطابق ہمارے سامنے ایک ایسی صورتحال ہے جس میں روایتی تکنیکیں سب سے پہلے مارکیٹ میں متعارف ہوں گی اور عام ہوں گی۔

تاہم کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت ویکسین اولین ترجیح نہيں ہے۔ ماضی میں ایچ آئی وی پر ریسرچ کرنے والے بائیوٹیک اینٹراپرنیور ولیم ہیسل ٹائن (William Haseltine) کا خیال ہے کہ ویکسین کے بجائے اینٹی وائرل ادویات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ایڈز پر بھی اسی طرح قابو پایا گيا تھا اور ہیسل ٹائن کا خیال ہے کہ اس طرح ہمیں ایک ایسی ویکسین بنانے کے لیے وقت مل جائے گا جسے اربوں افراد پر بحفاظت استعمال کیا جاسکے گا۔

وہ کہتے ہيں کہ ”یہ کوئی عام صورتحال نہيں ہے۔ اس وقت ہر کسی پر کرونا وائرس کا حل نکالنے کے لیے بہت زيادہ سیاسی اور مالی دباؤ ہے۔ اگر ہم ایک ویکسین متعارف کردیں لیکن اس کی پوری طرح ٹیسٹنگ نہ ہوسکے اور اس سے انسانوں کو بہت نقصان پہنچے، تو ہمیں کئی سالوں تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور کروڑوں جانیں ضائع ہوں گی۔“

سائنس کا امتحان

اس سال کمپنیوں اور ریسرچرز کو یہ متعین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن ویکسینز پر کام کیا جارہا ہے، وہ کس حد تک لوگوں کو کرونا وائرس اور اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہتی ہيں۔

امریکہ نے سیٹل میں واقع فریڈ ہچنسن کینسر ریسرچ سینٹر (Fred Hutchinson Cancer Research Center) میں ایک وفاقی فنڈنگ پر چلنے والے نیٹورک کو، جو ماضی میں ایچ آئی وی ویکسینز کی ٹیسٹنگ کررہا تھا، 30,000 افراد پر مشتمل ٹرائلز کے دوران پانچ covid-19 ویکسینز کی ٹیسٹنگ پر لگادیا ہے۔ چینی کمپنیاں اپنے ملک میں متاثرہ افراد کی عدم دستیابی کے باعث کینیڈا، برازيل، اور دوسرے ممالک میں ٹیسٹنگ کررہی ہيں۔

جولائی میں وارپ سپیڈ نے امریکہ میں ٹرائلز کی سربراہی کی ذمہ داری فریڈ ہچنسن کے وائرولوجسٹ لارنس کوری (Lawrence Corey) کو سونپی۔ کوری

کے مطابق ویکسین کی تلاش اس وجہ سے زور پکڑ رہی ہے کیونکہ ”سائنسدانوں کی منزل کامیابی ہے۔“ کمپنیاں اب کسی بھی ویکسین کے موثر ہونے کے ثبوت سامنے آنے تک انتظار نہيں کررہی ہیں، بلکہ امریکی حکومت کی فنڈنگ استعمال کرتے ہوئے تخلیق کاری میں اضافے پر توجہ دے رہی ہيں۔ ہارورڈ کے ڈاکٹر بارس جویئلگ (Boris Juelg)، جو اب covid-19 کے ٹرائلز پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، کہتے ہيں کہ ”ان مطالعہ جات کی شرح میں بہت زيادہ اضافہ ہوا ہے۔ میں نے ماضی میں کسی بھی ٹرائل میں اس قدر پھرتی نہيں دیکھی۔“

اس کا ایک خطرہ تو یہ ہے کہ حکومتیں ویکسینز کی افادیت ثابت ہونے سے پہلے انہيں متعارف کرنے کی کوشش کریں گی۔ مثال کے طور پر، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration) نے covid-19 کے علاج کے لیے کلوروکوئین کی منظوری دے دی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ دوا زيادہ کارآمد نہيں تھی، جس کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو اپنا فیصلہ بدلنا بڑا۔ اس وقت تک بھارت خام مواد کے برآمدات پر پابندی عائد کرچکا تھا، امریکہ میں اس دوا کے ذخائر میں اضافے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جاچکے تھے، اور برازیل کے صدر نے فوج کو وافر مقدار میں یہ بنانے کی ہدایات جاری کردی تھیں۔ ویکسین کے وکیل ہرمیز کہتے ہيں کہ ”میرا خیال ہے کہ ویکسینز کے سلسلے میں اتنا تماشہ تو نہیں ہوگا، لیکن مقابلہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔“

دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کسی بھی وائرس کے فوائد اور نقصانات کے متعلق ثبوت کو توڑ موڑ کر پیش کیا جائے گا۔ ایک بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہيں جو ویکسینیشن کو ”سازش“ سمجھتے ہيں۔ اس سال امریکہ میں منعقد ہونے والے ایک سروے کے 25 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ اگر کرونا وائرس کا ویکسین دریافت ہوجائے تو وہ اسے لینے سے انکار کردیں گے۔

اس کے علاوہ، اس بات کا بھی خطرہ موجود ہے کہ یہ کوششیں سیاست کی بھینٹ چڑھ جائيں۔ جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت سے خارج ہوجائے گا۔ یہ وہ بین الاقوامی ادارہ ہے جو ویکسین کی ٹیسٹنگ کے لیے جانوروں کے انتخاب جیسے معیارات کے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وائٹ ہاؤس نے اپنے ہی ماہر وائرولوجسٹ اینتھونی فاؤچی (Anthony Fauci) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جن کا ادارہ ویکسین کی ٹیسٹنگ کے لیے فنڈنگ فراہم کرتا ہے۔

جب سے یہ وائرس سامنے آیا ہے، معلومات کی بروقت فراہمی اس کے خلاف تحفظ کا سب سے اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ سائنسدانوں نے جنوری میں اس کی جینیاتی سیکوئینس کے متعلق تفصیلات جاری کی تھیں، جو ویکسین کے دوڑ کی بنیاد بن گئيں۔ اس کے بعد، متعدد یورپی ڈاکٹروں نے سنگین امراض کے انتظام کے لیے ٹوٹکوں اور کیسز کی تفصیلات سے تعلیمی جرنلوں کے صفحات بھر دیے۔ چاہے کرونا وائرس کی ویکسین چین میں ایجاد ہو، یا امریکہ یا برطانیہ میں، ڈيٹا کی شیئرنگ ریسرچرز کی مزید تحقیق کے لیے بہت اہم ثابت ہوگی۔

مثال کے طور پر، وہ خون میں موجود اینٹی باڈیز یا قوت مدافعت کے سیلز کی پیمائش کرکے معلوم کرسکتے ہيں کہ کسی شخص میں وائرس کے خلاف کس حد تک مدافعت پیدا ہوچکی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائيں تو ممکن ہے کہ مارکیٹ میں متعارف ہونے والی تیسری یا چوتھی ویکسینز کو صرف حیاتیاتی ظاہر کنندگان کی بنیاد پر ہی منظوری مل جائے۔ اس طرح انہیں یہ جاننے کے لیے ایک سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہيں ہوگی کہ کسی بھی ویکسین استعمال کرنے کے بعد کتنے افراد بیماری کا شکار ہوتے ہيں۔

فریڈ ہچنسن کے لارنس کوری کا خیال ہے کہ اگر ایسٹرا زینیکا (AstraZeneca) اور مرک (Merck) جیسی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیاں اس میدان میں اتر جائيں گی تو ویکسین کی ریسرچ کو سیاسی رنگ دینے سے روکا جاسکتا ہے۔ ایبولا کے بحران کے نتیجے میں کامیاب ترین ویکسین امریکی فنڈنگ کی مدد سے کینیڈا میں ایجاد ہوئی تھی، جس کے بعد اسے مرک کو فروخت کیا گيا، اور پھر عالمی ادارہ صحت کی نگرانی کے تحت اس کی گینی میں ٹیسٹنگ کی گئی۔ اب اسے جرمنی میں بنایا جاتا ہے۔ برکلے کہتے ہيں کہ ”آپ خود ہی بتائيں، اسے قومیت کے رنگ میں کس طرح ڈھالا جاسکتا ہے؟“


اینٹونیو ریگالیڈو ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے بائیومیڈیسن ایڈیٹر ہيں۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read more on technologyreview.com.

Authors

*

Top