Global Editions

موسم کی خرابی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے قابل تجدید توانائی عروج پر ہے

مملکت متحدہ، جرمنی اور ڈنمارک میں صاف توانائی حیاتیاتی ایندھن کو بہت پیچھے چھوڑ رہی ہے۔

یورپ کافی عرصے سے موسم کی خرابی کا شکار ہے۔ دھوپ زیادہ نہیں نکلی ہے، اور بارش اور تیز ہوائیں نے وہاں رہنے والوں کی ناک میں دم کردیا ہے۔ یورپی شہریوں کو کتنی بھی تکلیف ہورہی ہو، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس خراب موسم سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جون کے مہینے میں ایک روز ایسا آیا تھا جب موسم کی خرابی کے باعث مملکت متحدہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ قابل تجدید توانائی کے ذرا‏ئع سے گیس اور کوئلے کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا کی گئی تھی۔ انھوں نے ہوائی توانائی میں کافی زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اور اگر آپ ان اعداد میں شمسی توانائی، ہائیڈرو توانائی اور بائیوماس کی توانائی بھی شامل کریں تو یہ کل ملا کر ملکی توانائی کی پیداوار کا 50.7 فیصد حصہ بن جاتا ہے۔ اس میں جوہری توانائی شامل کرنے سے یہ اعداد 72.1 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

نیز، بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایک روز مجموعی توانائی کا دو تہائی حصہ قابل تجدید ذرا‏ئع سے حاصل کیا گیا تھا، جبکہ اپریل میں یہ شرح 85 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ایک روز ہوائی توانائی سے جرمنی کی مجموعی مانگ کا 137 فیصد پورا کیا گیا تھا۔

یہ اعداد و شمار قابل تجدید توانائی کے سب سے بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کا حل اب تک دنیا کے کسی بھی ٹربائن کے پاس نہیں ہے۔ جب ہوا چلتی ہے تو وافر مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے، لیکن جب ہوا نہیں چلتی ہے، تو توانائی بالکل بھی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ اب تک توانائی کی وسیع پیمانے پر سٹوریج کی ایسی ڈیوائسز موجود نہیں ہیں جن کی مدد سے بجلی کی ضرورت سے زیادہ پیداوار کو ذخیرہ کیا جاسکے، جس کی وجہ سے اس غیرمسلسل پیداوار کا مسئلہ حل نہیں ہوپایا ہے۔ (ورچول پاور پلانٹس سے فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن وہ اب تک ابتدائی مراحل ہی میں ہیں۔)

تاہم اس رجحان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ قابل تجدید توانائی کا یورپ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بہت بڑا ہاتھ ہے، اور ایسا لگ رہا ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی۔ ہوائی توانائی میں وسیع سرمایہ کاری کی وجہ سے بحیرہ شمال میں مزيد ہوائی ٹربائنز کھڑے کیے جائیں گے، اور شمسی توانائی کی قیمتوں میں کمی کے باعث اس کے استعمال میں اضافہ نظر آئے گا۔ آگے چل کر ہمیں مزید کئی ریکارڈز دیکھنے کو ملیں گے۔

امریکہ بھی اسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم اس سلسلے میں ان کی پیش رفت کافی سست ہے۔ ابھی فی الحال انھیں گرڈ بیٹریوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top