Global Editions

یورپ میں عوام کی نگرانی کے لیے بنائی گئی ٹیکنالوجی سے وابستہ ضوابط مزید سخت

کلوڈیو روسلون کی ”سموکنگ گن“ سی سی بذریعہ 4.0 کے تحت لائسنس یافتہ ہے۔
یورپی اتحاد نے اس سلسلے میں نئے قواعد و ضوابط متعارف کیے ہيں جن کا مقصد پہلے یورپ اور پھر پوری دنیا میں سپائی ویئر اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے مزيد شفافیت متعارف کرنا ہے۔

یورپی اتحاد نے چہرے کی شناخت اور سپائی ویئر جیسی سائبرنگرانی کی ٹیکنالوجیز کے فروخت اور درآمد سے وابستہ قواعد و ضوابط مزيد سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برسلز میں کئی سال لمبے مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے ان نئے ضوابط کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔

ان نئے قواعد کے تحت کمپنیوں کے لیے فوجی ٹیکنالوجی فروخت کرنے سے پہلے حکومت کی طرف سے لائسنس کا حصول اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مزید تحقیق، اور حکومتوں کے لیے تمام لائسنسز کی تفصیلات عوامی طور پر جاری کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ عام طور پر اس قسم کے معاہدوں کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی جاتی تھیں، جس کے نتیجے میں عوام کو کئی ارب ڈالر کی لاگت رکھنے والی ٹیکنالوجی پر سوال اٹھانے کا موقع نہيں ملتا تھا۔

نئے قواعد کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والی یورپی پارلیمان کی رکن مارکیٹا گریگورووا (Markéta Gregorová) کہتی ہیں کہ ”یہ عالمی انسانی حقوق کی جیت ہے۔ ہم نے دنیا بھر کی دوسری جہوری حکومتوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ آمرانہ حکومتوں کے لیے یورپی سائبر نگرانی کی ٹیکنالوجی تک خفیہ رسائی اب ممکن نہيں رہی۔“

انسانی حقوق کے گروپس ایک لمبے عرصے سے نگرانی کے لیے زیر استعمال ٹیکنالوجی کے قوانین کو مزید سخت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہيں۔ 2011ء کی عرب بہار کے دوران آمرانہ حکومتوں نے عوام کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے یورپ میں بنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا شروع کیا۔ آمرانہ اور جمہوری حکومتیں آج بھی اپنے شہریوں کی نگرانی کرنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی خریدتی ہيں اور استعمال کرتی ہیں۔ میڈیا پر تنقید اور سیاسی دباؤ کے باوجود بھی اس رجحان میں کوئی تبدیلی نہيں آئی۔

ان نئے ضوابط کے حامیوں کے مطابق ان میں زيادہ شفافیت کا عنصر شامل ہوگا۔ ان کے تحت حکومتوں کو سائبر نگرانی کے ٹولز کے برآمدات کے متعلق خریدنے والے ملک، اشیاء، قیمت، اور لائسنسنگ کی تفصیلات جاری کرنی ہوں گی۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو حکومت کے لیے عوام کو یہ بتانا ضروری ہوگا کہ انہوں نے یہ تفصیلات جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ضوابط کا مقصد آمرانہ حکومتوں کو نگرانی کے ٹولز فروخت کرنے والی حکومتوں کی نشاندہی کرکے انہیں سب کے سامنے شرمندہ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

ان ضوابط میں یورپی اتحاد کے رکن ممالک کو ”بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزیوں کے علاوہ شہریوں پر جبر کے حوالے سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کرنے“ کی تجویز بھی کی گئی ہے۔ تاہم یہ محض ایک مشورہ ہے، اور اس شرط کو اس وقت ضروری نہيں ٹھہرایا گیا ہے۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئے قواعد سے کتنا فائدہ ہوگا۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور آزادانہ ماہرین انہیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہيں۔ اس کے علاوہ ان نئے قواعد کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے کچھ افراد نے بھی گمنامی کی شرط رکھتے ہوئے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

یورپی اتحاد کے ممالک انفرادی طور پر ان نئے ضوابط کے عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے اور ان کی اثراندازی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ حکومتیں انہيں کس حد تک عملدرآمد کرپاتی ہیں۔ اس وقت یورپی یونین کی صدارت جرمنی کے ہاتھ میں ہے اور جرمن حکومت نے دسمبر میں اپنا اقتدار ختم ہونے سے پہلے ان نئے ضوابط کو منظور کروانے کے لیے بہت تگ و دو کی ہے۔ جرمنی نے اکتوبر میں مبینہ طور پر آمرانہ حکومتوں کو نگرانی کے ٹولز فروخت کرنے والی سپائی ویئر کمپنی فن فشر (FinFisher) کے دفاتر پر چھاپا مار کر ان ضوابط کے نفاذ کی مثال بھی پیش کی ہے۔

ان نئے قواعد کو اس طرح تشکیل کیا گيا ہے کہ نگرانی کی کسی بھی ٹیکنالوجی کا واضح طور پر تذکرہ موجود نہ ہونے کے باوجود بھی ان ٹولز کا احاطہ کرنا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، ان ضوابط میں چہرے کی شناخت کا نام نہيں لیا گیا ہے، لیکن مذاکرات کے ذمہ دار افراد کے مطابق یہ ٹیکنالوجی واضح طور پر ان ضوابط کے تحت شامل ہے۔ یہ قواعد کس حد تک کامیاب ہوں گے؟ اس وقت اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہيں کہا جاسکتا۔

دوسرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان نئے ضوابط کا اطلاق صرف یورپی اتحاد کے رکن ممالک پر ہوتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ یورپی اتحاد میں برطانیہ کے گیما گروپ (Gamma Group) اور اٹلی کے میمینٹو لیبس (Memento Labs) جیسی نامور کمپنیاں موجود ہیں۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں بھی ٹیک کے ذریعے شہریوں کی نگرانی کی صنعت بہت بڑی ہے۔

ان نئے قواعد و ضوابط پر کام کرنے والے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری ممالک کا ایک عالمی اتحاد بنانا چاہتے ہیں جو نگرانی کی ٹیکنالوجیز کے درآمدات پر کڑی نظر رکھنے کے لیے تیار ہو۔ سپائی ویئر کی صنعت سے وابستہ افراد اعتراف کرتے ہيں کہ اس وقت اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، اور ان نئے قواعد و ضوابط کے ذریعے صرف پہلا قدم ہی اٹھایا گیا ہے۔

تحریر: پیٹرک ہاورڈ او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top