Global Editions

امریکہ کا نصف صدی کا خواب چین میں پورا ہو رہا ہے

سستی اور شفاف جوہری توانائی والے پلانٹ کا خواب بالآخر حقیقت میں بدلنے والا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ حقیقت امریکہ میں وجود میں نہیں آئے گی جہاں پر 50سال پہلے سے اس پر کام ہورہا ہے بلکہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے والا ملک چین ہوگا۔ مضمون کے مصنف کہتے ہیں کہ اس کا ادراک مجھے اس وقت ہوا جب میں نے فروری میں شنگھائی کے دورے پر گیا جہاں پر شنگھائی انسٹیٹیوٹ میں ایک مشین کے ذریعے میں نے مستقبل کے جوہری بجلی گھر کا ورچوئل سفر کیا۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ نے اگلے چند سالوں میں ایک تجرباتی ری ایکٹر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جو یورینیم کی بجائے تھوریم پر چلایا جائے گا اور جس میں کاربن کا اخراج زیرو ہوگا۔ ورچوئل دورے میں مجھے دکھایا گیا کہ اس پلانٹ کے بالائی حصے کا شدید حدت میں پگھلنے کا بہت کم امکان ہے۔ اس کے بالکل درمیان میں بہت زیادہ حدت اور شدید تابکاری اثرات کا حامل مقام موجود ہے جہاں پر آج تک کوئی انسان داخل نہیں ہوا۔ ورچوئل دورے میں پاور پلانٹ کی ایک ایک پرت مجھ پر کھلنا شروع ہو گئی۔ اس کے اوپر کا حصہ سٹین لیس سٹیل کا بنا ہوا تھا جبکہ اندرونی حصہ میں ہزاروںکی تعداد میں بلئیرڈ کی گیندوں کے حجم کے تابکاری مواد پر مشتمل گولے پڑے ہوئے تھے۔ چین کے بے مثال جدید ترین نیوکلئیر آر اینڈ ڈی پروگرام کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ چین میں نئی جوہری ٹیکنالوجی پیدا ہو رہی ہے۔

ورچوئل ریکٹر میں پائپوں کا پیچیدہ نظام دکھائی دے رہا تھا جو سیال مادے کو لے جانے کیلئے استعمال ہوتے تھے۔ اس میں پگھلا ہوا نمک ری ایکٹر کو ٹھنڈا کرتا اور حدت کو ٹربائن میں لے جاتا ہے جس سے بجلی بنتی ہے۔ کم از کم تھیوری کی حد تک اس قسم کے ری ایکٹر تباہ کن ناکامی سے دوچار نہیں ہوتا جیسا کہ چرنوبل یا فیوکوشیما کے ری ایکٹر ہوئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے زیادہ بھی کچھ ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ جی ہاں نئے پلانٹس کو نیوکلیئر فضلہ بہت کم پیدا کرنا چاہئے بلکہ موجود جوہری فضلہ کو بھی استعمال کیا جائے گا ۔فی الحال انہیں یورینیم پر چلایا جائے گا جسے دنیا کے پاور پلانٹس میں 99فیصد استعمال کرتے ہیں بعد میں انہیں بتدریج تھوریم پر بدل دیا جائے گا۔ جس سے ماحولیاتی آلودگی نہیں ہوتی۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ کا حتمی مقصد پگھلے ہوئے نمک کا ری ایکٹر (Molten Salt Reactor)بنانا ہے جوموجودہ جوہری ری ایکٹرز میں چلائی جانے والی 1970ءکے دور کی ٹیکنالوجی کی جگہ لے سکے ۔اس سے چین کو کوئلے سے توانائی کے حصول کی وجہ سے شنگھائی اور بیجنگ کی آلودہ ہوا کو کم کرنے میں مددملے گی اور چین کو زیرو کاربن توانائی حاصل ہوگی۔

اگلی دو دہائیوں کے دوران چین دنیا کی سب سے بڑی جوہری توانائی کی صنعت تعمیر کرنے کی امید رکھتا ہے۔ وہ 30نئے روائتی جوہری پلانٹس بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے (34جوہری ری ایکٹر پہلے ہی کام کررہے ہیں) اس کے علاوہ چین اگلی نسلوں کیلئے بہت سے ری ایکٹرز بھی تعمیر کرے گا جن میں پگھلے ہوئے نمک کا ری ایکٹر، اعلیٰ درجہ کا گیس کُول ری ایکٹر (یہ بھی پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر کی طرح ہوتا ہے اور دونوں ری ایکٹرز اعلیٰ کارکردگی کے حامل اور محفوظ ہوتے ہیں)اور روائتی ری ایکٹرز سے استعمال شدہ ایندھن لے کر بجلی بنانے والاسوڈیم کُول فاسٹ ری ایکٹر شامل ہیں۔ چین کے منصوبہ ساز نہ صرف ملک کی جوہری توانائی کی صلاحیت میں ڈرامائی اضافہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ دنیا میں جوہری ری ایکٹروں اور اس کے پرزوں کے فروخت کنندہ بھی بنناچاہتے ہیں جس پر مغربی مبصرین کو تشویش ہے۔ اس سے چین کے جوہری عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے شنگھائی انسٹیٹیوٹ پگھلے ہوئے نمک کا ری ایکٹر تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے ، یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جسے امریکہ میں کئی دہائیوں پہلے شروع کیا تھا پھر اسے بھول گیا۔ حکومت پہلے ہی گزشتہ پانچ سالوں میں پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر کی تحقیق وترقیپر 300ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکی ہے ۔ جبکہ حقیقی پلانٹ کی تعمیر ابھی شروع نہیںہوئی جسے شروع کرنے کیلئے مزید سرمائےکی ضرورت ہے۔

جیسا کہ اختراعی ٹیکنالوجیز پر پوری دنیا میں تحقیق و ترقی ہو رہی ہےلیکن کچھ ہی ٹیکنالوجیز کے بارے میں وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ درست ہیں۔ اگرچہ لوگ چھوٹے پیمانے پر پگھلے ہوئے نمک کا ری ایکٹر تجرباتی طور پر چلا رہے ہیں لیکن اسے گھریلو سطح پر نہیں چلایا گیا۔ چینی حکومت اگلے پندرہ سال میں تجارتی بنیادوں پر پگھلے ہوئے نمک کابڑا ری ایکٹر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر کا پہلا تجربہ 1950ء میں ڈائریکٹر ایلون وینبرگ (Alvin Weinberg)کی نگرانی میں امریکی ریاست ٹینیسی کی اوکرج نیشنل لیبارٹری میں کیا گیا۔ آج چین میں اوکرج اور شنگھائی انسٹیٹیوٹ کے باہمی اشتراک سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ اس بارے میں امریکی تحقیقی پروگرام ایک دہائی تک چلتا رہا لیکن ایٹمی بجلی گھروں کی کثرت کی وجہ سے یہ پروگرام بتدریج بند ہوگیا۔ ماضی میں اس فیصلے سے جوہری ٹیکنالوجی کی صنعت بھی جمود کا شکار ہو گئی۔ آج اگر ہمیں تیزتر ماحولیاتی تبدیلی کو روکنا ہے تو دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ جوہری توانائی کی ضرورت ہے ۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اگر ہمیں عالمی حدت 2سینٹی گریڈ تک رکھنی ہے تو ہمیں اس صدی کے وسط تک جوہری صلاحیت کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں اس کا امکان نہیں لگتا۔ چین اور بھارت سمیت بہت سے ممالک بڑے پیمانے پر ایٹمی بجلی گھر بنا رہے ہیں لیکن یہ روائتی ٹیکنالوجی پر مبنی اور باقی دنیا کیلئے بہت مہنگے ری ایکٹر ہیں۔ حتیٰ کہ جرمنی جیسے ممالک بھی جو ایٹمی ری ایکٹر کی لاگت برداشت کررہے ہیں وہ بھی اسے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ کسی نئی آفت سے ڈرتے ہیں۔ اسی وجہ سے شنگھائی انسٹیٹیوٹ اسے تیار کرنے میں جلدی کررہی ہے۔

میرے ورچوئل دورے کے بعد انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدان کُون چِن (Kun Chen)مجھے اندر انتظامی عمارت میں لے گئے۔ آڈیٹوریم میں پگھلے نمک والے ری ایکٹر پروگرام کے ڈائریکٹر ژو ہونگجی (Xu Hongjie)سے بات کرنے کیلئے ملازمین کی ایک چھوٹی سی بھیڑجمع ہوئی تھی۔ ژو نے دو گھنٹے تک انہیں پگھلے نمک کے ری ایکٹر کی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پگھلے نمک کاری ایکٹر نصف سنچری سے چین کا خواب رہا ہے۔ ماضی میںاس خواب کو حقیقت بنانے کیلئے ہمارے پاس ضروری علم اور مہارت کا فقدان تھا۔ اب ہمارے پاس وسائل ، ٹیکنالوجی اور مہارت ہے، اب ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔

مسلسل ردعمل

ایلون وینبرگ 1945ء میں اوکرج لیبارٹری میں ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی یورینیم اور پلوٹونیم بنانے کیلئے اس وقت آئے جب یہ لیبارٹری ٹینیسی ہلز میں نئی تعمیر ہوئی تھی۔ وینبرگ 1955ء میں لیبارٹری کے ڈائریکٹر بن گئے۔ ان کے پاس یہ عہدہ 1973ء تک رہا۔ وہ بانی فزسٹ اور نیوکلیئر پاورہیں جنہوں نے صنعتی معاشرے کی توانائی کیلئے بےچینی اور جوہری توانائی کیلئے انتہائی دیکھ بھال پر فاسٹین بارگین (Faustian Bargain)کے الفاظ استعمال کئے۔ وینبرگ کی قیادت میں نوجوان اور پرجوش کیمیادان، ماہرین فزکس اور انجینئروں نے 1965ء سے 1969ء تک چھوٹے پیمانے پر ایک پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر کا تجربہ کیا۔ یہ ری ایکٹر یورنیم پر چلایا گیا تھا۔ وینبرگ کا ہدف ری ایکٹر کو تھوریم پر چلانا تھا جو یورینیم کے برعکس آسانی سے بم میں استعمال نہیں ہوتی تھی۔ لیکن پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر پر تجربات 1970ء میں ترک کردیئے گئے تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ وینبرگ نے اعلیٰ افسران کو ایٹمی بجلی گھروں کے خطرات سے اس وقت آگاہ کیا جب درجنوں ایٹمی بجلی گھر تعمیر کے مراحل میں تھے۔

صدی کے آخر میں امریکہ نے 104ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر کرلی تھی لیکن نئے ری ایکٹروں کی تعمیر روک دی گئی جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی بھی رک گئی۔ روائتی ری ایکٹروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بہت بڑے اور مہنگے تیار ہوتے ہیں اور انتہائی حدت میں ان کے پھٹنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ ان کو ٹھوس ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے شدید ٹھنڈک چاہئےہوتی ہے اس لئے ان ری ایکٹروں پر زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں۔ جارجیا میں جو دو نئے ری ایکٹرز تعمیر کئے جارہے ہیں ان پر40سال پہلے کی پرانی ٹیکنالوجی کے سبب 14ارب ڈالر کی بجائے 21ارب ڈالر لاگت آئے گی ۔

آج، موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب سرکاری حکام اور سائنسدان چاہتے ہیں کہ سستی جوہری ٹیکنالوجی حاصل کی جائے جس کی وجہ سے ایٹمی بجلی گھروں کا روائتی ورژن رک گیا ہے۔اور پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹر کی طرف دوبارہ سے توجہ دی جارہی ہے۔ ٹیرسٹریل انرجی (Terrestrial Energy)، ٹرانس ایٹامک (Transatomic)، مولٹیکس (Moltex)اور فلائیب انرجی (Flibe Energy)جیسی کمپنیاں نئے پگھلے ہوئے نمک کے ری ایکٹروں کو ترقی دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ کے علاوہ بھی جاپان، فرانس، روس اور امریکہ میں ٹیکنالوجی کی مختلف شکلوں پر تحقیقی پروگرام جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ٹھوس ایندھن ری ایکٹروں پر بھی کام ہورہا ہے جسے پگھلا ہوا نمک ٹھنڈا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ری ایکٹروں کیلئے اور بھی بہت سے ڈیزائن ہیں جو نمک میں تحلیل ہونے والے تابکار مادوں کو استعمال کرتے ہیں جیسا کہ وینبرگ کے تجربے میں کیا گیا۔ تمام جوہری پلانٹس کی طرح پگھلے ہوئے نمک ری ایکٹروں تابکار مادے سے ایٹم حاصل کرتے ہیں تاکہ تسلسل کے ساتھ پیدا ہونے والے ردعمل کوکنٹرول کیا جائے۔ یہ رد عمل حدت کے ذریعے پانی کو گرم کرکے اس سے بھاپ پیدا کرتا ہے جو ٹربائن چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے۔ ٹھوس ایندھن کےری ایکٹر ز کو پگھلے ہوئے نمک سے ٹھنڈا کیاجاتا ہے انہیں روائتی ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت زیادہ درجہ حرارت پر چلایا جاسکتا ہے۔ جس سے ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں ماحولیاتی دبائو میں چلایا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چرنوبل کی طرح تعمیر کرکے چلانے کی ضرورت نہیں جو پھٹ گیا تھا۔

مائع ایندھن سے چلنے والے پگھلے ہوئےنمک ری ایکٹروں کااس سے بھی زیادہ فائدہ ہے۔ اس میں جب کور میں درجہ حرارت ایک حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو مائع ایندھن پھیل جاتا ہے اور جوہری ردعمل کو سست کردیتا ہے اور کور کو ٹھنڈا ہونے دیتا ہے۔ اس کی ایسی خاصیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ری ایکٹر کو باتھ ٹب کی طرح بنایا جاتا ہے۔ جس کے نیچے ایک ڈرین پلگ لگا ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت بہت زیادہ ہو جائے تو کور کو پگھلا دیتا ہے اور ایندھن ایک ٹینک میں چلا جاتا ہےجو زیرزمین تعمیر کیا جاتا ہےجہاں اس کو محفوظ طریقے سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ ری ایکٹر اس قابل ہونے چاہئیں کہ روائتی ری ایکٹروں کے مقابلے میں تابکار مادے سے زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کرسکیں ۔ اس سے جوہری فضلہ بہت کم ہو جائے گا جسے محفوظ کیا جاسکے گا۔ کیونکہ ان ری ایکٹروں کو بہت بڑے تعمیراتی ڈھانچے کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ یہ کم ایندھن میں اتنی ہی مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں اس لئے یہ ری ایکٹرز پرانے جوہری پلانٹس سے زیادہ موثر انداز میں کام کرتے ہیں۔انہیں فیکٹریوں میں بڑے پیمانے پر تیا رکیا جاسکتا ہے اور مختلف حصوں کو جوڑ کر پلانٹس تیار کئے جاسکتے ہیں۔

شمسی اور ہوا کی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں جوہری توانائی کے پلانٹس بہت زیادہ مہنگےہو گئے ہیں جبکہ شمسی اور ہوا کی بجلی وقت گزرنے کے ساتھ اب بہت سستی پڑتی ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے مطابق 1960ء میں ایک جوہری پلانٹ کی بجلی 15سو ڈالر فی کلو واٹ پڑتی تھی ، یہ لاگت 1970ء میں بڑھ کر 4000ڈالر فی کلو واٹ ہو گئی جبکہ 2013ء میں اس کی لاگت 5500ڈالر فی کلوواٹ ہوگئی۔ یہ قیمت شمسی، ہوا کی توانائی اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ای آئی اے کے مطابق بڑے سائز کے ایک گیگا واٹ پلانٹ کی تعمیر پر 5.5ارب ڈالر لاگت آتی ہے۔ ای آئی اے کے اندازے کے مطابق نئے پلانٹس میں 95ڈالر فی میگا واٹ پڑتی ہے۔ یہ قیمت کوئلے اور شمسی توانائی کے پلانٹس سے سستی ہے جو 125ڈالر میگاواٹ فی گھنٹہ پڑتی ہے۔ ان کے مقابلے میں قدرتی گیس کا پلانٹ تعمیر کرنا بہت سستا رہتا ہے جس سے 75ڈالر میگاواٹ فی گھنٹہ بجلی حاصل ہوتی ہے۔ جوہری پلانٹ سے کاربن کا اخراج بھی نہیں ہوتا جس سے یہ اور زیادہ پرکشش ہو گیا ہے۔ لیکن زیروکاربن جوہری بجلی حاصل کرنے کیلئے اس کی لاگت کو کم سے کم کرنا ہوگا۔ کم قیمت پلانٹ وہ ہدف ہے جو نئی کمپنیاں جوہری پلانٹس تعمیر کرنے کیلئے حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ایم آئی ٹی کے پی ایچ ڈی لیسلی دیوان اور مارک میسی نے 520میگا واٹ کا پلانٹ ڈیزائن کیا، ان کا خیال ہے کہ اس کی تعمیر پر 2ارب ڈالر لاگت آئے گی ۔

کچھ بڑا سوچنا چاہئے

چین اس وقت روائتی جوہری توانائی کے پلانٹس پر انحصار کررہا ہے لیکن چین میں چونکہ یورینیم کی پیداوار بہت کم ہے اس لئے چینی حکام کا خیال ہے کہ تھوریم کے ایندھن والا پلانٹ اس کے ملکی حالات اور ماحول کیلئے مناسب ترین رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چینی سائنسدان تھوریم پلانٹ پر انتہائی توجہ دے رہے ہیں کیونکہ اس کے پاس تھوریم کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ میں سائنسدان کُون چن (Kun Chen)کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کا خیال ہے کہ ہمیں کچھ نیا کرنے، نیا سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چین کو جوہری پلانٹس بنانے میں ایسی مدد دینا غلط ہے جس سے وہ جوہری پلانٹس میں دنیا کی قیادت کرے۔ شنگھائی انسٹیٹیوٹ کا خیال ہے کہ وہ تجارتی بنیادوں پر جامد ایندھن کا تھوریم پلانٹ 2030ء میں تیار کرنا شروع کردے گی جبکہ پگھلے ہوئے نمک کا لیکوئڈ فیول پلانٹ 2035ء سے شروع کیا جائے گا۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ امریکی سائنسدانوں نے نصف صدی قبل جو خواب دیکھا تھا وہ ہزاروں میل دور چین میں حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors

*

Top