Global Editions

انسانی عمل دخل کا خاتمہ

ہم ایپس اور آلات میں اس قدر گھرے ہوئے رہتے ہیں کہ آہستہ آہستہ دوسروں کے ساتھ بامقصد باہمی روابط کم ہوتے جارہے ہيں۔

میرا خیال ہے کہ پچھلی دہائی کی ٹیکنالوجی میں سامنے آنے والی ترقی اور جدت طرازی کے پیچھےایک پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ اس تمام ترقی کا مقصد ایک ایسی دنیا کی تخلیق ہے جس میں انسانوں کے آپس میں تعلقات کم سے کم ہو کر رہ جائيں۔ مجھے شک ہے کہ یہ رجحان نقص نہيں، بلکہ ایک مستقل خصوصیت ہے۔ ہمیں شاید یہ لگے کہ ایمزان ہمیں ایسی کتابیں فراہم کرنے کے لیے بنایا گيا تھا جو مقامی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ اس کا بنیادی کام تو یہی تھی، اور یہ ایک بہت اچھا خیال بھی تھا، لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کا بھی پوشیدہ مقصد انسانی روابط کا خاتمہ ہی ہو۔

میں جس ٹیکنالوجی کی بات کررہا ہوں، وہ اس بات کا نہ تو دعویٰ کرتی ہے اور نہ ہی اعتراف کرتی ہے کہ اس کا براہ راست بنیادی مقصد انسانوں کے میل جول کا خاتمہ ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر بے شمار صورتوں میں نتیجہ یہی نکلا ہے۔ میں سوچنے لگا ہوں کہ شاید یہی بنیادی مقصد ہے، غیردانستہ طور پر ہی سہی۔ ثبوت کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ ناگزیر لگتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہی نیا معیار ہے۔ ہم ٹیک کے متعلق جوخبریں سنتے ہيں، ان میں سے زيادہ تر کا تعلق الگارتھمز، مصنوعی ذہانت، روبوٹ اور خود کار گاڑیوں سے ہوتا ہے، اور یہ سب اس پیٹرن پر پوری اترتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ اس قسم کی ترقی کی وجہ سے ہماری سہولت میں اضافہ نہيں ہوتا ہے، میں ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہيں سنا رہا ہوں۔ مجھے صرف ایک پیٹرن دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے میں سوچ میں پڑگیا ہوں کہ اس پیٹرن کو دیکھ کر کیا ہمیں یہ احساس ہوگا کہ اس کے علاوہ اور بھی راستے موجود ہيں؟ ہمارے پاس کئی مختلف راستے تھے، لیکن ہم نے اسی راستے کا انتخاب (ممکن ہے کہ غیردانستہ طور پر) کیا ہے جس پر ہم اس وقت نکل پڑے ہیں۔

مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میری اس تجویز کے پیچھے کچھ مضحکہ خیز مفروضات ہیں- میں اپنا شمار ان لوگوں میں کرتا ہوں جو انسانی میل جول کو محدود کرنے کی خواہش رکھتے ہيں لیکن اس کا اعتراف نہيں کرتے ہيں۔ میں غم اور دکھوں سے آزاد بڑا ہوا ہوں، لیکن ایسے کئی سماجی روابط تھے جن سے مجھے کوفت ہوتی تھی۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ شاید کچھ قواعد ایسے تھے جو کسی نے مجھے بتائے نہيں تھے، اور اگر مجھے معلوم ہوتے تو میری زندگی بہت آسان ہوجاتی۔ ابھی بھی بعض دفعہ مجھے ‘‘بتایا جاتا ہے’’ کہ کس وقت کس کو کیا کہنا ہے۔ میں اکثر اکیلا اپنی خوشی سے کسی ریستوران میں جا کر کتاب پڑھتا ہوں۔ میں یہ نہيں چاہتا کہ میں ہر وقت یہی کرتا رہوں، لیکن اگر کرنا پڑے تو مجھے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے - مجھے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ لوگ میرے طرف دیکھ رہے ہوتے ہيں اور سوچ رہے ہوتے ہيں کہ اس بیچارے آدمی کا تو کوئی دوست ہی نہيں ہے۔ میں یہ ان کہی خواہش کچھ حد تک سمجھ سکتا ہوں۔

انجینئرز اکثر انسانی رو ابط کو پیچیدہ، غیر مؤثر، شور والے اور سست رو سمجھتے ہيں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی بھی چیز کو "ہموار" بنانا ہے تو اس میں انسانی عناصر کا خاتمہ ضروری ہوگا۔ کہنے کا مقصد یہ نہيں ہے کہ دنیا کو اس نقطہ نظر کے مطابق ڈھالنا ایک بری چیز ہے، لیکن جب کوئی شخص پوری دنیا پر اس قدر غالب آجائے جتنا کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ ان لوگوں پر غالب ہوچکا ہے جن کا نظریہ مختلف ہے، تو ایک عجیب عدم توازن کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ ٹیک کی دنیا میں مردوں کا تناسب زیادہ، بلکہ بہت زيادہ ہے۔ مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون اور ‘‘سادگی اور کارکردگی’’ کے حصول کے لیے انسانوں کے ساتھ میل جول کو ہر ممکنہ حد تک ختم کرنے کی کوشش کو سامنے رکھیں تو آپ خود اندازہ لگاسکتے ہيں کہ آپ کا مستقبل کیسا ہوگا۔

شواہد

چند عام کنزیومر ٹیکنالوجیز پر نظر ڈالتے ہيں جن کے باعث انسانی روابط میں کمی آچکی ہے۔

آن لائن آرڈرنگ اور ہوم ڈیلوری: آن لائن آرڈرنگ کی وجہ سے بہت سہولت ہوگئی ہے۔ ایمزان، فریش ڈائریکٹ (FreshDirect) اور انسٹاکارٹ (Instacart) جیسی کمپنیوں کے باعث نہ صرف کتابوں کی دکانوں اور چیک آؤٹ لائنز پر انسانی روابط ختم ہوگئے ہیں، بلکہ آن لائن تجاویز کے علاوہ (جن کے لیے اکثر معاوضہ لیا جاتا ہے) تمام ٹرانزیکشنز سے انسانی میل جول مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔

ڈیجیٹل موسیقی: ڈاؤن لوڈ اور سٹریمنگ کرنے کے لیے کسی حقیقی وجود رکھنے والی دکان کی ضرورت نہيں ہے، اور نک چڑھے کلرکس سے بھی بات کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کئی لوگ اسی وجہ سے سکون کا سانس لیتے ہیں۔ چند سہولیات میں آپ کو الگارتھمز کے ذریعے موسیقی کی تجاویز بھی پیش کی جاتی ہيں۔ ان سہولیات کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ کے دوستوں کو کس قسم کی موسیقی پسند ہے، اور آپ کو ان سے بات نہیں کرنی پڑتی۔ موسیقی جو پہلے لوگوں میں میل جول بڑھانے کی وجہ ہوا کرتی تھی، کیا اس کا یہ کام بھی ختم ہوگیا ہے؟

سواری کے لئے ایپس: لوگوں سے کم سے کم بات چیت ہوتی ہے۔ آپ کو ڈرائیور کو اپنا مطلوبہ پتہ یا راستے بتانے کی ضرورت نہيں ہے، بلکہ اگر آپ نہ چاہیں تو ڈرائیور سے بات بھی نہ کریں۔

بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں: اگر آپ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر ہیں تو گاڑی نہ چلانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک دوسرے سے بات کرنے کا یا کچھ کھانے پینے کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا۔ لیکن بغیر ڈرائیور کی ٹیکنالوجی کا مقصد کافی حد تک ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹرک ڈرائیوروں، ڈلیوری ڈرائیوروں اور دیگر کئی افراد کی ضرورت کو ختم کرنا ہے۔ انسانوں کا عمل دخل ختم کرنے کے بہت فوائد ہیں، مثال کے طور پر آپ کہہ سکتے ہيں کہ مشینیں انسانوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ طریقے سے گاڑی چلائیں گی، جس کی وجہ سے حادثات اور اموات کے امکانات کم ہو جائیں گے۔تاہم، اس کے کئی نقصانات بھی ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر بے روزگاری شامل ہے۔ لیکن یہ ایک مختلف بحث ہے۔ مجھے جو یہاں نظر آرہا ہے، وہ ایک پیٹرن ہے جس میں مسلسل انسانی عمل دخل کو ختم کیا جارہا ہے۔

خود کار چیک آؤٹ: ایٹسا (Eatsa) آٹومیٹ (Automat) کا ایک نیا ورژن ہے، جو کسی زمانے میں ایک بہت مقبول ریستوران ہوا کرتا تھا جس میں بظاہر کوئی عملہ نہیں تھا۔ میرا مقامی دوافروش اپنے عملے کو چیک آؤٹ مشینیں استعمال کرنے کی تربیت فراہم کررہا ہے جو ایک دن ان کی جگہ لے لیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے صارفین کو کیشیئر کا کام کرنے کی بھی تربیت دے رہے ہیں۔

ایمزان خودکار شاپنگ کی سہولت فراہم کرنے والی دکانوں، بلکہ اشیائے ضرورت کی بھی دکانوں کی ٹیسٹنگ کررہے ہيں، جو ایمزان گو کہلاتی ہيں۔ ان دکانوں میں نصب سینسرز کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ نے کیا اٹھایا ہے۔ آپ صرف اپنا سامان اٹھا کر دکان سےنکل جاتے ہيں، اور بغیر کسی انسانی رابطے کے آپ کے اکاؤنٹ سے رقم کی کٹوتی ہوجائے گی۔

مصنوعی ذہانت: مصنوعی ذہانت کی فیصلے لینے کی صلاحیت اکثر (لیکن ہمیشہ نہیں) انسانوں سے بہتر ہوتی ہے۔ کچھ شعبہ جات میں تو یہ متوقع ہے۔ مثال کے طور پر، مصنوعی ذہانت ٹریفک اور فاصلے کے حساب سے کسی نقشے پر تیزترین راستہ دکھا سکتی ہے، جبکہ ہم انسان پہلے سے آزمودہ راستہ ہی استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ تاہم، ایسے کئی شعبہ جات بھی سامنے آرہے ہيں جن میں مصنوعی ذہانت انسانوں سے بہتر ثابت ہورہی ہے۔ مثال کے طور پر، اس کی ڈاکٹروں کے مقابلے میں جلد کے کینسر کی نشاندہی کی صلاحیت بہتر ہوتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپیوٹر کے پروگرام جلد ہی کئی معمول کے قانونی کام کرنے لگيں گے، اور اس وقت انہیں مالی تخمینوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

روبوٹ پر مشتمل افرادی قوت: فیکٹریوں میں انسانی ملازمین کی تعداد میں کمی ہوتی جارہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مختلف قسم کی شخصیات اور ان کی بیماریوں سے نمٹنے کی اور اوورٹائم کے متعلق بحث و مباحثے کی ضرورت نہيں رہی گی۔ اس کے علاوہ، روبوٹس کے استعمال سے ملازمین کے معاوضوں، ہیلتھ کیئر، سوشل سیکورٹی، میڈی کیئر، ٹیکس اور بے روزگاری کے مراعات کی بھی جھنجھٹ ختم ہوجائے گی۔

ذاتی معاون: سپیچ کی بہتر شناخت سے اب آپ کسی انسان سے زيادہ گوگل ہوم یا ایمزان ایکو جیسے مشینوں سے بات کریں گے۔ جیسے جیسے ان کے نقائص حل ہوتے رہتے ہيں، کئی مزاحیہ کہانیاں بھی سننے کو ملتی ہيں۔ مثال کے طور پر ایک بچی الیکسا سے گڑیا کے گھر کی فرمائش کرتی ہے، اور جب والدین کی نظر اپنی ٹوکری پر پڑتی ہے، تو اس میں انہیں ایک گڑیا کا گھر نظر آتا ہے۔

بگ ڈیٹا: بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر کام کرنے کی صلاحیت میں بہتری اور جدت طرازی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمیں اپنے رویوں میں ایسے پیٹرنز نظر آرہے ہیں جو پہلے نظر نہیں آیا کرتے تھے۔ ہمیں ڈیٹا حقائق پر مبنی لگتا ہے، جس کی وجہ سے ہم اس پر اعتماد کرتے ہیں، اور ممکن ہے کہ ہم اپنے انسانی رفقاء کار اور دوستوں کے مقابلے میں ڈیٹا کی پراسیسنگ کے نتائج پر زيادہ اعتماد کرنے لگيں۔

ویڈیو گیمز (اور ورچول ریئلٹی): چند آن لائن گیمز میں میل جول ضروری ہے، لیکن زیادہ تر گیمز میں ایک شخص اکیلا ہی ایک کمرے میں کھیل رہا ہوتا ہے۔ سارا میل جول صرف ورچول ہی ہوتا ہے۔

خود کار طور پر سٹاکس کی تیزرفتار خریدو فروخت: انسانوں کے مقابلے میں ڈيٹا کی وافر مقدار کو پراسیس کرنے والی مشین زيادہ تیزی سے رجحانات کی نشاندہی کرسکتی ہے اور ان پر عمل درآمد کرسکتی ہے۔

بڑے پیمانے پر آن لائن کورسز (MOOCS): استاد کے ساتھ رابطے کے بغیر آن لائن تعلیم۔

سوشل’’ میڈیا‘‘:  یہ وہ میل جول ہے جو صحیح معنوں میں ‘‘سوشل’’ نہيں ہے۔ فیس بک اور اس جیسی دوسری سائٹس میل جول فراہم کرنے کا دعویٰ تو کرتی ہیں، اور انہیں دیکھ کر آپ کو دوسروں سے میل جول کا احساس بھی ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا انسانی میل جول کا صرف دکھاوا ہے۔

میل جول کم کرنے کے کیا اثرات ہوں گے؟
انسانی میل حول کم کرنے کے کچھ ذیلی اثرات ہیں، جن میں کچھ فوائد اور کچھ نقصانات شامل ہيں۔ آپ انہیں کارکردگی بڑھانے کے ذیلی اثرات کہہ سکتے ہيں۔

بحیثیت ایک معاشرہ، دوسروں کے ساتھ روابط اور میل جول میں کمی بظاہر برداشت اور دوسروں کے فرق کو سمجھنے کی صلاحیت میں کمی کے علاوہ حسد اور اختلافات میں اضافے کا باعث بنتے ہيں۔ جیسا کہ حال ہی میں سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا گونج کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے سماجی تقسیم میں اضافہ ہوتا ہے، اور ہم اپنے خیالات کے ایک بلبلے میں محدود رہتے ہیں۔ ہمیں صرف وہی معلومات فراہم کی جاتی ہے جو ہمیں پسند ہو یا ہماری طرح ہی سوچنے والے دوستوں کو پسند ہو (اور آج کل تو ہمیں مشمولات کی شکل میں اشتہارات دکھائے جاتے ہيں)۔ اس طرح، دوسروں کے ساتھ ہمارا میل جول ختم ہوتا جارہا ہے، علاوہ ان لوگوں کے جو پہلے سے ہی ہمارے گروپ کا حصہ ہوں۔

سوشل نیٹورکس اداسی کی بھی وجہ بن رہے ہيں۔ اس سال دو سوشل سائنسدانوں، یو سی سان ڈیگو کی ہولی شیکیا (Holly Shakya) اور ییل یونیورسٹی کے نیکولس کرسٹکاس (Nicholas ­Christakis) نے یہ ثابت کیا ہے کہ جیسے جیسے فیس بک کے استعمال میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، لوگ اتنا ہی زيادہ اپنی زندگی سے ناخوش ہوتے ہیں۔ ایک طرف یہ ٹیکنالوجیز ہمارے آپس میں میل جول بڑھانے کا دعویٰ کرتی ہيں، لیکن دوسری طرف وہ ہمیں غیرارادی طور پر ایک دوسرے سے دور بھی کرتی ہیں، اور ہمارے دکھ اور حسد میں اضافہ بھی کرتی ہيں۔

ہم سماجی مخلوق کی حیثیت سے بہت آگے نکل چکے ہيں، اور ہماری کامیابی کی ایک بہت بڑی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ہے۔ میرا یہ موقف ہے کہ ہمارے ٹولز سماجی روابط اور تعاون کے ساتھ، جو ہماری فطرت کا ایک بہت اہم حصہ ہیں، استعمال تو کیے جاسکتے ہيں لیکن ان کی جگہ نہيں لے سکتے ۔

جب ہمیں دوسروں سے روابط اور میل جول عجیب یا نامانوس لگنے لگیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری بنیادی صفات ہی میں تبدیلی آچکی ہے۔ ہم اکثر اپنی عقل پر مشتمل سوچ کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھتے ہيں کہ ہمارے زيادہ تر روابط منطق پر مشتمل فیصلوں کی کڑی ہے، لیکن ہمیں ان روابط کی مختلف نزاکتوں کا احساس ہی نہيں ہوتا ہے۔ کردارسازی کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق، ہم دراصل عقل سے کام نہيں لیتے ہيں۔ بیس (Bayes) کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم میل جول کی مدد سے کیا چل رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے، اس کے نقشے میں ردوبدل کرتے رہتے ہيں۔

میں یہ بھی کہوں گا کہ اس کی وجہ سے جمہوریت کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ دوسروں کے ساتھ میل جول میں کمی کی وجہ سے ہمارے ایک قبائلی بلبلے میں رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اور ہم سب جانتے ہيں کہ اس کے کیا نتائج نکلتے ہيں۔

کیا انسانی میل جول میں کمی سے کوئی فائدہ ہوگا؟
انسان متلون مزاج، غیرمعقول، جذباتی اور متعصب طبیعت کا مالک ہے، اور بعض دفعہ اس رویے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس سے ہمیں فائدے سے زيادہ نقصان ہی ہوگا۔ ہماری فوری سوچ اور خودغرض فطرت ہماری زوال کی وجہ بنے گی۔ بظاہر تو زندگی کے کئی پہلوؤں میں انسانوں کے عمل دخل کو ختم کرنے کے بہت فوائد ہيں۔

تاہم، پہلی نظر میں جو متلون مزاجی ہمارے نقصان کی وجہ لگتی ہے، اس میں دراصل بہت فوائد چھپے ہیں۔ ہمارے جذباتی رویے کئی ہزار سالوں کے ارتقاء کا نتیجہ ہیں، اور انہی کی مدد سے کسی مسئلے کا بہترین حل حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔

ہم کیا ہیں؟
یو ایس سی کے نیوروسائنسدان انٹونیو ڈماسیو (Antonio Damasio) اپنے مریض کے بارے میں، جس کا نام انہوں نے ایلیٹ رکھا ہے، لکھتے ہیں کہ دماغ کے اگلے حصے میں خرابی کی وجہ اس کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی۔ وہ دوسرے اعتباروں سے بالکل صحیح تھا، وہ ذہین بھی تھا اور صحت مند بھی تھا، لیکن وہ جذباتی طور پر بالکل معذور ہوچکا تھا۔ اس میں فیصلے لینے کی صلاحیت نہيں تھی، اور وہ فیصلے لینے سے پہلے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ٹال مٹول کرتا رہتاتھا۔ ڈماسیو نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہمارے فیصلوں میں عقل اور حقائق کا نہيں بلکہ ہمارے جذبات کا ہاتھ ہے۔

انسان کچھ حد تک ناقابل اعتماد ہیں (کم از کم اس وقت تک جب تک کوئی الگارتھم يہ غلط فہمی دور نہ کردے)، لیکن یہی ہماری زندگی میں حیرت، خوشی اور غیر متوقع روابط کا باعث ہے۔ دوسروں کے ساتھ میل جول، تعاون اور شراکت ان مواقع میں اضافے کی وجہ بنتے ہيں۔

ہم ایک سماجی مخلوق ہیں۔ اپنے انکشافات کو آگے بڑھانے اور دوسروں کے ساتھ تعاون میں ہی ہمارا فائدہ ہے۔ یووال ہراری (Yuval Harari) اپنی کتاب Sapiens میں دعویٰ کرتے ہيں کہ یہی ہماری کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تعاون اقوام، پیسہ، مذاہب اور قانونی اداروں پر عقیدہ رکھنے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ مشینیں اس قسم کے عقائد نہيں رکھتی ہیں۔ میں یہ نہيں کہہ رہا ہوں کہ وہ ہم سے آگے نہيں نکلیں گی ، لیکن اگر مشینوں کو مفاد پرستی کی غرض سے بنایا جائے گا تو آگے چل کر ان کے لیے کئی رکاوٹیں کھڑی ہوجائيں گی۔ اور اس دوران اگر انسانی میل جول میں کمی کے باعث ہم دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا بھول جائيں، تو ہمیں جو فائدہ حاصل ہوا ہے، ہم اس سے محروم ہوجائيں گے۔

ہمارے بے ترتیب اتفاق اور عجیب طرز عمل ہماری زندگیوں میں رنگ بھرتے ہيں۔ اگر انسانی میل جول کم ہوجائے تو ہماری زندگی میں کیا بچے گا؟ اگر انسانوں کو ختم کردیا جائے تو ہم بحیثیت افراد اور بحیثیت معاشرہ بالکل ادھورے ہیں۔

دوسروں سے الگ تھلگ رہ کر ہمارا کوئی وجود نہيں ہے۔ ہم انفرادی طور پر نیٹورکس میں رہتے ہيں، اور ہمارا وجود تعلقات کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ یہی ہماری ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔

ڈیوڈ بائرن نیو یارک شہر میں رہائش پذیر ایک موسیقار اور فن کار ہيں اور حالیہ شائع ہونے والی کتاب How Music Works کے مصنف ہیں۔ اس تحریر کا ایک ورژن ان کی ویب سائٹ davidbyrne.com پر شائع ہوا تھا۔

Read in English

Authors
Top