Global Editions

برقی گاڑیوں کا مستقبل اور ٹرمپ کی پالیسیاں۔۔۔

کار ساز ادارے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم ابھی تک بجلی سے چلنے والی ان گاڑیوں کی بھرپور طلب پیدا نہیں ہو سکی اور اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو مقبول عام بنانے کے لئے جس طرح کی پالیسیاں تیار کرنے کی ضرورت تھی وہ شائد آئندہ چند برسوں تک تشکیل نہ پا سکیں۔ تقریباً ہر کارساز ادارہ بظاہر برقی گاڑیوں کے حامی کے طور پر دیکھے جانے کے حق میں ہے۔ حال ہی میں معروف کارساز ادارے بی ایم ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹو نے ایک لاکھ برقی گاڑیاں سال 2017 ء میں فروخت کے لئے پیش کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اسی طرح Diamler-Benz کے چئیر مین نے جمرنی کی گرین پارٹی کانگریس کو آگاہ کیا کہ ان کے ادارے کا مشن کاربن کے اخراج سے پاک گاڑیوں کی تیاری ہے۔ اسی طرح یہ رحجان پیرس موٹر شو میں بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں کارساز اداروں نے کئی برقی گاڑیاں تیار کرنے کا اعلان کیا۔ رواں ہفتے لاس اینجلس میں منعقد ہونے والے موٹر شو میں بھی کار ساز اداروں ہنڈائی، مٹسوبشی، جیگوار لینڈ روور کے سربراہان نے چند نئی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی رونمائی کی۔ تاہم اس حوالے سے معروف وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی سپلائی طلب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی امریکہ سمیت کئی ممالک میں مانگ میں اضافہ ہوا ہے تاہم اس کے باوجود گاڑیوں کے حوالے سے روایتی سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مزید پانچ سے سات برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو اس میدان میں سنجیدہ پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہو گی۔ اسی طرح دنیا کے کئی ممالک میں برقی گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی توقع ہے تاہم امریکہ شائد ان ممالک کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔ اخبار کے مطابق امریکہ میں برقی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ نہ ہونے کا سبب ایک جانب تو فیول کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رحجان ہے تو دوسری جانب امریکی شہری SUV گاڑیوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح بلوم برگ نے New Energy Finance and McKinsey & Company کی جانب سے پیش کئے جانیوالے جائزے کی روشنی میں کہا ہے کہ امریکہ میں آئندہ پانچ سے سات برسوں کےدوران صارفین کی جانب سے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طلب کا رحجان دیکھنے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس حوالے سے ریگولیٹری اپروچ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا تو پھر اس طلب سے مطابقت پیدا کرنے کےلئے پالیسیوں کی ضرورت ہو گی۔ حال ہی میں اوباما انتظامیہ نے بجلی سےچلنے والی گاڑیوں کے لئے 35 الیکٹرک چارجنگ کاریڈورز کا نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا تاہم یہ منصوبہ اعلان کے ساتھ ہی پیچیدگیوں کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے طے پانے والے عالمی معاہدے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوسل فیول پر انحصار برقرار رکھنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے ایسی صورتحال میں بجلی سے چلنے والی گٓاڑیوں کے میدان میں کسی انقلابی صورتحال کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق نئی امریکی انتظامیہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے 7500 ڈالر کا فیڈرل ٹیکس بریک بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ ٹیکس بریک بجلی سے چلنے والی گاڑیاں خریدنے کے خواہشمندوں کے لئے بہت بڑی ترغیب تھی۔ اگر نئی انتظامیہ اپنے تمام تر اعلانات پر عمل کرتی ہے تو یہ بعض کارساز اداروں کو بہت متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر ٹیکس بریک واپس لیا جاتا ہے تو ٹیسلا سمیت دیگر کارساز اداروں کی جانب سے تیار کی جانیوالی گاڑیوں کی قیمت دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جائے گی۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی پالیسیوں میں تبدیلیاں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے مستقبل کا تعین کرینگی۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top