Global Editions

الیکشن کمیشن نے جی آئی ایس کا نیانظام تیار کر لیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام پولنگ سٹیشنز کے نقشے کی معلومات پر مبنی جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)کا کام مکمل کرلیا ہے۔ اب ووٹرالیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائیٹ پر جا کر میپنگ سافٹ وئیر کے ذریعے اپنے پولنگ سٹیشن کی معلومات اور آسان رسائی کیلئے نقشہ دیکھ سکے گا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان میں دیگر ٹیکنالوجیز میں تمام اہل ووٹرز کی معلومات پر مبنی انتخابی فہرستوں کی کمپیوٹرائزیشن اور نتائج پیش کرنے کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تعلقات عامہ کہ افسر ہُدیٰ گوہر کہتی ہیں کہ آئندہ انتخابات کیلئے کمپیوٹرائز انتخابی فہرستوں کے نظام (CERS)کا تقریباً آدھا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ہُدیٰ گوہر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن جلد ہی نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے موجودہ ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کرے گا۔ الیکشن کمیشن کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں پر براہ راست نئے ووٹرز کی معلومات ریکارڈ کرنےکیلئے ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی خدمات حاصل کرے گا ۔الیکشن کمیشن کو امید ہے کہ اس سےانتخابی فہرستوں میں ووٹوں کے ڈپلیکیٹ اندراج کی شکایات کا خاتمہ ہو جائے گا اس کے علاوہ ووٹوں کی رجسٹریشن اور منتقلی موثر انداز میں ہو سکے گی۔

موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن میں شہری سے متعلق معلومات کی تصدیق، ووٹ کی رجسٹریشن اور منتقلی ایک نسبتاً طویل عمل ہے۔ای سی پی افسر کو شہری سے متعلق معلومات کی تصدیق کیلئے نادرا کے ساتھ اشتراک عمل کرنا ہوتاہے۔ اب سی ای آر ایس تک براہ راست رسائی سے ان کا وقت بچے گاکیونکہ سسٹم خودکار طریقے سے نادرا سے تصدیق کرلے گا۔ انتخابی فہرستوں کی کمپیوٹرائزیشن کا نظام ووٹر رجسٹریشن اور منتقلی کے عمل میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔ متوقع ووٹرز آن لائن درخواست فارم ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں لیکن انہیں اب بھی اسے پرنٹ کرنے، اس کے اندراجات کو بھرنے اور مطلوبہ دستاویزات (ان کے شناختی کارڈ کی ایک فوٹو کاپی ، اور اگر ان کا ایڈریس شناختی کارڈ سے مختلف ہے تو ایک عدد یوٹیلیٹی بل) کی ضرورت ہے۔ ہُدیٰ گوہر کہتی ہیں کہ تاحال آن لائن رجسٹریشن کے عمل کو منتقل کرنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ جیسے ہی ہمیں اس پر کام کرنے کیلئے کہا جائے گا ہم اس پر کام شروع کردیں گے۔

ایک آن لائن سروے میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر شہریوں کو ووٹ کی رجسٹریشن اور منتقلی کے عمل کے بارے میں طریقہ کار کا علم نہیں ۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ ووٹرز کی رجسٹریشن سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار کراتے ہیں۔

زیادہ تر ووٹرز کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ 2013ء کے عام انتخابات میں ان کے علاقے میں رجسٹرڈ تھا۔لیکن2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں ان کا ووٹ دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا گیا تھا اور وہ لوگ ووٹ نہیں ڈال سکے کیونکہ انہیں اپنے ووٹ کی منتقلی کے بارے میں جب پتہ چلا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔

الیکشن کمیشن کی پی آر او کہتی ہیں کہ Result Traansmission System) )کے نظام کی تیاری کا عمل جاری ہے لیکن یہ نظام اگلے انتخابات تک تیار نہیں ہو سکے گا۔ ای سی پی 2013ء کے عام انتخابات میں اسلام آباد ہیڈ کوارٹر سے تمام پولنگ سٹیشنز کے نتائج جاری کرنے کا سسٹم تیار کرچکا تھا لیکن آخری مرحلے پر تکنیکی خامیوں کے سبب اس سسٹم کے تحت نتائج جاری کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ نتائج جاری کرنے کے نئے نظام کو ضمنی انتخابات میں ٹیسٹ کیا گیا ہے لیکن اس نظام پر ابھی عملے کو تربیت دینے اور خودکار نگرانی کے عمل پر ابھی کام جاری ہے۔ جب الیکشن کمیشن سسٹم پر مطمئن ہو جائے گااور اس کے درست نظام کے بارے میں اسے اعتماد ہو جائے گا تو ہیڈ ٹرینر اس نظام پر ریٹرننگ افسران کی تربیت کریں گے۔

جب آر ٹی ایس کا نظام نافذ العمل ہو جائے گا تو حلقے کے ریٹرننگ افسران کو انتخابی نتائج کا ڈیٹا اسلام آباد ہیڈکوارٹر فیکس کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وہ صرف کمپیوٹرائز فارم 15ا(بیلٹ پیپر)ور 16(تمام امیدواروں کی مصدقہ فہرست)حاصل کریں گے جس پر ووٹر کی تصویر بنی ہو گی اور اسے سافٹ وئیر کے ذریعے اپنے حلقے میں آنے والے متعلقہ پولنگ سٹیشن کو منتقل کردیں گے۔ تاہم اس سارے عمل سے نتائج کو دستاویزی شکل میں مرتب کرنے کا کام معطل نہیں ہو گا۔ آر ٹی ایس کا نظام دستاویزی ریکارڈ کو سپورٹ کرنے کے لیےہے جس سے امید ہے کہ انتخابی نتائج کا نظام شفاف اور موثر ہو گا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تحریک انصاف کے ایک رکن شفقت محمود کہتے ہیں کہ وہ آر ٹی ایس سسٹم کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے اس لئے وہ اس کے بارے میں کوئی رائے بھی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی پی نے ان کی پارٹی سے ابھی تک اس بارے میں مشاورت نہیں کی۔ گوہر کہتی ہیں کہ سیاسی پارٹیوں سے پرانے آر ٹی ایس سسٹم پر مشاورت کی گئی تھی۔ جب نیا نظام تیار ہو جائے گا توسیاسی پارٹیوں سے اس کے بارے میں مشاورت کی جائے گی۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

Read in English

Authors
Top