Global Editions

سکن سیلز سے بار آور انڈوں کی تخلیق سے ایک نیا پینڈورا باکس کھل جائے گا

کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی ہوٹل میں ایک رات قیام کریں۔ آپ کی غیر موجودگی میں کوئی کمرے میں آئے اور تکئیے سے جلدی خلئے لے جاکر انہیں فرٹیلیٹی ایگز میں تبدیل کرے اور جو سپرم میں بدل جائیں اور اسے بچے کی پیدائش کیلئے استعمال کرلے جبکہ اس سارے عمل کا آپ کو علم ہی نہ ہو۔ بعد میں وہ بچے کو سپورٹ کرنے کیلئے آپ پر لاکھوں ڈالر کا کلیم کردے۔ تین سینئر تحقیق کاروں برائون یونیورسٹی کے میڈیکل سائنس پروفیسر علی اداشی (Eli Adashi)، سٹیم سیل بائیولوجسٹ اور ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈین جارج ڈیلے (George Daley) اور ہارورڈ لاسکول کے بائیولوایتھسٹ گلین کوہن (Glenn Cohen)نے سائنسی جریدے سائنس ٹرانسلیشن میڈیسن کے اپنے ایک آرٹیکل میں خبردار کیا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کو وائٹرو گیماٹوجنیسس (vitro gametogenesis)کا نام دیا ہے جس کی مدد سے کسی بھی سیل کی دوبارہ پروگرامنگ کرکے انہیں سپرم یا ایگ میں بدلا جاسکتا ہے۔ جاپانی سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک چوہے پر ٹیکنالوجی کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے اور جلد ہی وہ اسے انسانوں میں استعمال کریں گے۔ سائنس ٹرانسلیشن میڈیسن جریدے نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نیا پنڈورا باکس کھول دے گی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسیعورت کو بھی حاملہ کیا جاسکتا ہے جو ڈھلتی عمر یا کینسر کے سبب بانجھ ہو گئی ہو۔ تحقیق کار اس ٹیکنالوجی کا یہی فائدہ گنواتے ہیں۔ برائون یونیورسٹی کے میڈیکل سائنس پروفیسر علی اداشی (Eli Adashi)کہتے ہیں کہ بانجھ عورت کیلئے یہ ٹیکنالوجی ایک نعمت ہی ہے کیونکہ شاید اس ٹیکنالوجی سے عورت کی بیضہ دانی میں شاید انڈوں کی افزائش (In Vitro Fertilization)کی بھی ضرورت نہ پڑے۔ اِن وائٹرو فرٹیلائزیشن کی ضرورت نہ پڑے ۔ اس ٹیکنالوجی میں انڈوں کی لامحدود فراہمی سے نسل کو آگے بڑھانے کا دروازہ کھل جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ آئی وی ایف کلینکس کئی سو جنین تخلیق کرلیں اور پیدائش کیلئے اس جنین کو چنیں جس میں مطلوبہ خصوصیات ہوں۔ مثلاً 20/20نظر کے حامل یا اعلیٰ ذہانت کے افراد کو بھی چنا جا سکتا ہے۔ اس تکنیک سے انسانی سوچ سے بھی زیادہ ایمبریو کی فارمنگ کی جاسکتی ہے۔ اور پھر اس تکنیک میں سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو سائنسدان جین ایڈٹ کرکے موروثی بیماری کو ختم کرسکتے ہیں یا بچے میں نئی خصوصیات پیدا کرسکتے ہیں۔ کوہن کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے آپ اپنی تصور کردہ مکمل شخصیت کے قریب ہو سکتے ہیں۔

تحریر: ایملی مُلن (Emily Mullin)

Read in English

Authors

*

Top