Global Editions

اداریہ

2013 ءکے عام انتخابات میں پاکستانی عوام نے انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال کے نئے رحجان کا مشاہدہ کیا اس مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے ڈیٹا کو انتخابی مہم کے لئے استعمال کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کے بڑے نیٹ ورکس تیار کئے اور انتخابی مہم کے لئے فیس بک کے صفحات، ٹوئیٹر اکاؤنٹس اور ایس ایم ایس کے ساتھ ساتھ روبو کالز کے طریقہء کار کو استعمال کیا۔اسی طرح رائے عامہ کے رحجانات پر مبنی جائزے جاری کئے گئے، آن لائن سروے کئے گئے اور اس کی بنیاد پر خاص طور نئی سیاسی جماعتوں اور انکی قیادت کے لئے سیاسی بیانئے تشکیل دئیے گئے۔ 2013 ءکے انتخابات کے بعد سوشل میڈیا اور ڈیٹا کا اس طرح کا استعمال پاکستانی سیاست اور خاص طور نوجوان نسل میں بنیادی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایم آئی ٹی ریویو پاکستان کے تازہ شمارے میں پاکستانی سیاست میں بگ ڈیٹا اور سوشل میڈیا کے استعمال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال اور ڈیٹا کی کا تجزیہ عالمی رحجانات کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی صدر اوباما نے بھی اپنی انتخابی مہم میں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا نہایت عمدگی سے استعمال کیا اور بہترین انتخابی نتائج حاصل کئے۔ اسی طرح پوٹینشل ووٹرز کو ٹارگٹ کالنگ کے ذریعے متاثر کیا گیا اور اسی طرح شہریوں کے ڈیٹا کا عمدگی سے تجزیہ بھی کیا گیا اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ڈیموکریٹ ووٹرز کو متحرک کیا گیا۔ امریکی صدر اوباما کی انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا اور بگ ڈیٹا کے استعمال کے حوالے ایک تفصیلی رپورٹ اس میگزین کے صفحہ نمبر 64 پر شائع کی جا رہی ہے۔ جواد رضوی کے آرٹیکل میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کو متاثر کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور بگ ڈیٹا کے استعمال اور کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں سال2013 ء کےانتخابات کے دوران اور اس کے بعد پاکستانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے رحجانات کو بھی زیربحث لایا گیا ہے۔ خالد خٹک کے آرٹیکل میں امریکی اور بھارتی انتخابی عمل میں بگ ڈیٹا کے استعمال، اس حوالے سے قائم کمپنیوں اور ان دونوں ممالک کی جانب سے بگ ڈیٹا کے استعمال کے لئے بڑے بڑے اقدامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بگ ڈیٹا کے استعمال اور تجزیے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ وقاص بنوری کے مضمون سےقارئین کو پاکستان کی بگ ڈیٹا انڈسٹری کے حوالے تفصیلات دستیاب ہونگی اور یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ پاکستان میں بگ ڈیٹا کے بڑے استعمال کنندگان کون ہیں۔ احمد رضا کے مضمون میں پاکستان میں ڈیٹا تک رسائی کے لئے درپیش مشکلات اور اس ضمن میں موجود حدود پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے ان وجوہات کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ جن کی وجہ سے پاکستان میں مردم شماری کیوں چیلنج بن چکی ہےجبکہ پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری1998 ءمیں کی گئی تھی۔ اسی طرح ٹیرا ڈیٹا پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر خرم راحت کے ساتھ سوال وجواب کی نشست میں کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری فیصلوں کے لئے بگ ڈیٹا کے کردار پر بحث کی گئی۔ اس نشست میں پاکستان کے چند پبلک سیکٹر کے اداروں کی جانب سے بگ ڈیٹا کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ اس حوالے سے ملک میں کتنا پوٹینشل موجود ہے۔

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors

*

Top