Global Editions

اداریہ

زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ 20 فیصد ہے، اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ ملک کے محنت کش طبقے کے 42.3 فیصد حصے کو روزگار مہیا کرتا ہے۔ پنجاب جسے پاکستان کی فوڈ باسکٹ بھی کہا جاتا ہے،اس میں محنت کش طبقے کا 43.5 فیصد حصہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کی مجموعی برآمدات میں زرعی شعبے کا حصہ 65 فیصد ہے جس میں سے صرف خام کپاس اور کپاس سے بنی مصنوعات کی شرح 73.2 فیصد ہے۔پاکستان دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار کے اعتبار سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان گندم، چاول، گنا، دودھ، آم، کینو اور کھجور کی پیداوار میں بھی سرفہرست ہے۔

سال 2015-16ء کے دوران کپاس کی پیداور میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ رواں برس کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث حکومت کی جانب سے طے کردہ اہداف پورے نہ ہو سکے۔ سعید بلوچ نے اپنے مضمون میں اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس ضمن میں کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور پالیسی سازوں کی آراء بھی شامل کیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کپاس کی پیداوار میں ہونے والی یہ کمی موسمی حالات کے باعث تھی یا اس کی وجہ بیجوں کا میعاری نہ ہونا تھا۔ اس مضمون میں زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت اور ضرورت کو درست انداز میں نمایاں کیا گیا۔ یہ واضح ہے کہ ہمیں اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف کپاس کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری زرعی شعبے کے لئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں موسمی اثرات کو برداشت اور کیڑوں سے بچاؤکے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔

جواد علی کے ساتھ سوال و جواب کے دوران ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچرپنجاب ڈاکٹر انجم علی نے پنجاب میں زرعی شعبے کے تاریخی پس منظر اور پنجاب کے زرعی شعبے کا بھارتی پنجاب کے زرعی شعبے کے ساتھ موازنہ کیا اور صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال اور حکومت پنجاب کی جانب سے زرعی معیشت کی ترقی کے لئے کھاد، کیڑے مار ادویات کی فراہمی اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ اس گفتگو میں انہوں نے پاکستان میں بہتر زرعی مینجمنٹ کے لئے زرعی اراضی کی مٹی کی جانچ کی اہمیت بتائی اور یہ بھی بتایا کہ کسانوں کو اس امر کے بارے میں آگاہی دی جا رہی ہے کہ زرعی اراضی کی مٹی کی جانچ زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے کتنی ضروری ہے۔

ہارون اکمل گِل کے مضمون میں موسمی تبدیلی، پانی اور گرمی کی کمی یا زیادتی کے زراعت پرپڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں موسمی اثرات کے فصلوں کی پیداوار اور خوراک کی سیکیورٹی کے حوالے سےکئی ماہرین کی آراء بھی شامل کی گئی ہیں۔

زاہد بیگ کے مضمون میں پاکستان کے زرعی شعبے کے حوالے سے حیران کن اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس مضمون میں کسانوں کے حالات اور زرعی ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اشد ضرورت پرزور دیا گیاہے۔اس مضمون میں زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بہتر پیداوار کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال زرعی میدان میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے اور اس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں کمی ممکن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زرعی شعبے کو عالمی سطح پر مقابلے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔

احمد رضا کے مضمون میں پاکستان میں بیج سازی کی صنعت کی مجموعی صورتحال کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بیجوں پر تحقیق اور بیجوں کی تیاری کے لئے ٹیکنالوجی میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors
Top