Global Editions

اداریہ

جلد پنجاب میٹروپولیٹن لاہور میں آٹھ ہزار نگرانی کے کیمرے نصب کردیئے جائیں گے۔ یہ پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کے تحفظ کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے۔

حال ہی میں پنجاب پولیس کا سٹیٹ آف دی آرٹ انٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سینٹر (پی پی آئی سی تھری) لاہور میں متعارف کروایا گیاہےجبکہ دیگر بڑے شہروں راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا اور بھاولپور میں نگرانی کے آلات سے پوری طرح لیس مراکز کا جلد آغاز کیا جائے گا۔

نگرانی کے کیمروں اور دیگر آلات مثلا فنگر پرنٹ معلوماتی نظام اور مجرمانہ ریکارڈ کے دفاتر سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں، ٹریفک پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی خطرے یا ایمرجنسی کی صورت میں موثر اور فوری کارروائی کی جاسکے۔

دیگر ایشیائی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شہری آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت 39فیصد آبادی شہروں میں رہ رہی ہے جو 2025ء میں بڑھ کر نصف سے زیادہ ہو جائے گی۔ آبادی کے اس بڑھتے ہوئے رحجان کی وجہ سے شہری سہولیات و خدمات مثلاً سیکورٹی، ماحولیاتی تحفظ، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور رہائش پرنمایاں بوجھ پڑے گا۔

یہ وہ منظر نامہ ہے جس میں رہتے ہوئے ہمیں اپنے محدود وسائل کے موثر استعمال سے بڑے شہروں کو بتدریج سمارٹ شہروں میں بدلنا ہے۔ اس شمارے میں شہزادہ عرفان کے اوورویو میں عوام کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی مدد سےسمارٹ اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دوسرے آرٹیکل میں ارشدڈوگر نے روائتی تھانہ کلچرکو ٹیکنالوجی کے استعمال سے جدید اور سمارٹ پولیسنگ میں بدلنے کے بارے میں لکھا ہےجسے پہلے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہ تبدیلی کس طرح ممکن ہوئی، مثلاً ہوٹل سمارٹ آئی سافٹ وئیر نے پنجاب پولیس بہت سے گروہوں، ٹارگٹ کرنے والے حملہ آوروں اور دہشتگردوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس میں لاہور سمیت بڑے شہروں کو سمارٹ سٹیز میں بدلنے کے حوالے سے پنجاب سیف سٹیز پراجیکٹ کا مفصل ذکر کیا گیا ہے۔

اسی طرح احمد رضا کے آرٹیکل میں شہری ٹرانسپورٹ شعبے میں سمارٹ سفرکیلئے شہریوں کو فراہم کرکی جانے والی سہولیات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وہ ٹیکنالوجیز کے کثیر جہتی استعمال کا حوالہ دیتے ہیں مثلاً خودکار طریقے سے کرایہ جمع کرنا، بس کا شیڈول سسٹم، مسافروں کے بارے میں معلومات کا نظام اور نگرانی کا نظام ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں مثلاً "اوبر" کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑنے والے بوجھ کو تقسیم کریں گی۔

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ناقص نظام زمین اور پانی کی آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس سے ماحولیات، معیشت اور شہریوں کی صحت پر بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جواد رضوی اپنے آرٹیکل میں بتاتے ہیں کہ کس طرح لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی روزانہ 5ہزار ٹن فضلہ ٹھکانے لگاتی ہے۔ وہ اس مقصد کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال مثلاً سڑکوں کی مشینی صفائی دھلائی، گرائونڈ پر موجود فیلڈ سٹاف اور کمپنی کی گاڑیوں کی نگرانی وغیرہ پر بھی روشنی ڈالتے ہیں ۔

یہ سب کچھ انٹرنیٹ کنیکٹویٹی کے بغیر ممکن نہیں۔ سعید بلوچ اپنے فکر انگیز مضمون میں ہمیں سمارٹ سٹیز کے حوالے سے کنیکٹویٹی کے ذریعے مختلف محکموں کی آپریشنل صلاحیتوں اور کارکردگی بڑھانے کیلئے کئے جانے والے سمارٹ اقدامات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سکولوں میں سمارٹ نگرانی اور ڈینگی سے باخبر رہنے کے نظام کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔

اس ایڈیشن میں پی ٹی اے چیئرمین ڈاکٹر سید اسماعیل شاہ سے سوال و جواب کا حصہ بھی شامل ہیں۔ جس میں وہ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولیات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہم نے آئی ٹی انڈسٹری میں جبران جمشید کا نقطہ نظر بھی شامل کیا ہے جو پاکستان میں سمارٹ سٹی پروگرام کے نفاذ کیلئے ضروری اقدامات کا ذکر کرتے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors
Top