Global Editions

ہائپر لوپ ٹیکنالوجی: دبئی سے ابوظہبی کا سفراب صرف 10 منٹوں میں ممکن

ابھی چند مہینے قبل ہی سفر کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنےکے لئے ٹیکنالوجی میں انقلاب کے ذریعے ایک ناقابل یقین طریقے کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا اور وہ تجربہ ہائپر لوپ کا تھا۔ اس کے تحت شہروں کے درمیان سفر میں جدت کے ساتھ ساتھ وقت کی بچت کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے فوری بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت نے دبئی اور ابوظہبی کے درمیان سفر کے لئے ہائپرلوپ کے منصوبے کی منظوری دی اور اس پر کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ ٹیوبلر ٹرانسپورٹ سسٹم کا نظریہ تو بہت اچھا ہے مگر امارات کے دونوں شہروں کے درمیان اس ٹرانسپورٹ سسٹم کو تیار کرنے والی کمپنی کو عام مسافروں کے لئے اس ہائپر لوپ کے ذریعے سفر کے آغاز سے پہلے چند رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا۔ دونوں شہروں کے درمیان تقریباً سو میل سے زائد کا فاصلہ ہے اور ہائپر لوپ کی مدد سے یہ فاصلہ صرف بارہ منٹ میں طے کیا جا سکے گا۔ ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق دونوں شہروں میں سفر کے لئے ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی۔ اس ویڈیو کے ذریعے شہریوں کو آگاہی دی گئی ہے کہ ہائپر لوپ کے ذریعے سفر بالکل آسان ثابت ہو گا۔ ایک خودکار گاڑی کے ذریعے مسافروں کو ان کے گھر یا دفتر سے پک کیا جائیگا اور پھر یہ خودکار گاڑی انہیں ہائپرلوپ تک لائے گی۔ جہاں یہ گاڑی ایک بڑے ٹرانسپورٹر میں لوڈ کر دی جائیگی اور اس کے بعد اس ٹرانسپورٹر کو منزل کی جانب فائر کر دیا جائیگا۔ یہ سفر اتنا مختصر ہو گا کہ مسافروں کو اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرنے کا موقع ہی حاصل نہیں ہو سکے گا۔ بہرحال یہ اچھی کاوش ہے۔ ہائپر لوپ ٹیکنالوجی جس نظریہ کی بنیاد پر وضع کی گئی ہے وہ نظریے کی حد تک بہت ہی زبردست ہے تاہم اس نظریے کو عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل ہے۔ اس بنیادی نظریے کے تحت ٹیوب میں کھنچاؤ کو کم کرنے کےلئے کم دباؤ پیدا کیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں وہیکل ازخود آگے کی جانب بڑھ جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک زبردست نظریہ ہے تاہم اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت زیادہ توانائی درکار ہے۔ ہائپر لوپ کا پہلا تجربہ رواں سال کے آغاز میں ہوا تھا جس میں صرف اس امر کا جائزہ لیا گیا تھا کہ ہائپر لوپ کے حوالے حتمی ٹیکنالوجی ابھی تیاری سے کتنی دور ہے۔ اس تجربے میں کمپنی نے صرف ایک بند گاڑی الیکٹرومیگنیٹک فورس کی مدد سے ٹنل میں چلائی تھی۔ اور اب اگر اس حوالے سے حتمی ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی ہے تو پھر اب یہ صرف لاگت کا معاملہ ہی رہ جاتا ہے۔ دبئی سے ابوظہبی تک اس منصوبے پر 4.8 بلین ڈالر لاگت آئیگی تاہم اس منصوبے پر اس سے زیادہ لاگت آنے کے امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ایلن مسک نے بھی لاس انجلس سے سان فرانسسکو کے درمیان ہائپر لوپ چلانے کا اعلان کر رکھا ہے اور دونوں امریکی شہروں کے درمیان یہ سفر دبئی سے ابوظہبی تک سفر سے تین گنا زیادہ ہے اور دونوں شہروں کے درمیان ہائپر لوپ کی تیاری کےلئے چھ ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس امر میں کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ دبئی میں ہائپر لوپ کام شروع کر دے اگرچہ یہ دنیا کا امیر ترین شہر نہیں ہے تاہم اس کے باوجود وہاں کی حکومت انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کے لئے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس سب کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مشاورتی فرم McKinsey & Co اور آرکیٹیکٹ Bjarke Ingels Group اس منصوبہ کے قابل عمل ہونے کے بارے میں کیا رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہائپر لوپ کے حوالے سے ایک مقدمہ بھی زیرسماعت ہے جس میں اس منصوبے کے معاشی اور انجینئرنگ کے حوالے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top