Global Editions

ڈرونز اب زندگیاں بچانے کے کام آسکتے ہیں

ڈرونز کو ادویات پہچانے کے لیے استعمال کرنا مہنگا تو ہے، لیکن انھیں استعمال نہ کرنا اس سے زيادہ مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔

کیا دنیا کے غریب ترین ممالک کو ڈرونز کے ذریعے ادویات بھجوانے سے کسی قسم کا فائدہ ہوگا؟ ان ڈرونز کے اور انھیں ذخیرہ کرنے اور ری چارج کرنے کے اخراجات کون اٹھائے گا؟ انھیں اڑانے والے افراد اور ان کی تربیت پر خرچ ہونے والی رقم کی ادائيگی کون کرے گا؟

پچھلے سال میں موزمبیق میں ادویات کی سپلائی چین، یعنی کہ ان ادویات کو لوگوں تک پہنچانے والے ریفریجریٹرز، فریزرز، گاڑیوں اور عملے، کے کمپیوٹر کی مدد سے تیار کردہ ایک ماڈل کی مدد سے ڈرونز کے ذریعے ڈیلوری کرنے والی ایک ٹیم کے ساتھ کام کررہا تھا۔ 2.4 کروڑ کی آبادی اور 35.3 ارب ڈالر کے جی ڈی پی (یعنی کہ 419 ڈالر فی کس) رکھنے والے اس ملک میں 801،357 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پہاڑی علاقہ جات، بڑے بڑے دریا، جنگلی جانور، اور گھنے جنگلات پھیلے ہوئے ہیں اور تیز بارشوں اور طوفانوں کی وجہ سے لوگوں کو ادویات پہنچانا بہت مشکل ہے۔

سب سے زيادہ مشکلات اس سپلائی چین کے آخری حصے میں، یعنی کہ گودام سے کلنکس، اسکولوں اور گھروں تک، پیش آتی ہیں۔ ان ادویات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اکثر موٹرسائیکلوں، کشتیوں، اور باربردار جانوروں کا استعمال کیا جاتا ہے، یا انھیں پیدل چلنے والے افراد کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ ادویات تیار کرنے میں کافی وقت بھی لگتا ہے، پیسے بھی خرچ ہوتے ہیں، اور وہ گرمی سے خراب بھی ہوسکتی ہیں، لیکن کیونکہ یہ زندگیاں بچانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، انھیں لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ تاہم اس وقت یہ کام خطرے سے خالی نہیں ہے۔

ڈرونز اس سلسلے میں کافی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، بلکہ زپ لائن (Zipline) اور میٹرنیٹ (Matternet) جیسی کمپنیاں ادویات پہنچانے کے لیے ڈرونز کے استعمال پر کام بھی کررہی ہیں۔

جانز ہاپکنس بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ (Johns Hopkins Bloomberg School of Public Health) اور کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University) کے پٹس برگ سوپر کمپیوٹنگ سنٹر (Pittsburgh Supercomputing Center) میں کام کرنے والی ہماری ٹیم نے ہرمیز (HERMES) نامی سافٹ ویئر کی مدد سے سپلائی چین کے تجزیے کے دوران خراب موسم، جنگلی جانوروں یہاں تک کہ گولیاں چلنے کی سیمولیشن کرڈالی۔

اس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ ڈرونز سے روایتی زمینی نقل و حمل کے مقابلے میں 20 سے 50 فیصد تک کی بچت ممکن ہے۔ اس بچت کا انحصار آبادی، راستوں کے حالات، ڈرونز کی معتبری، اور لوگوں کی رضامندی جیسے عناصر پر ہے، سہولیات میں بہتری اور کم وسائل کے استعمال سے پیسے اور زندگیاں ضروری نہیں ہے۔ سہولیات میں بہتری اور کم وسائل کے استعمال کی وجہ سے پیسے اور زندگیاں، دونوں ہی کی بچت ممکن ہے۔

تحریر: بروس وائی لی (Bruce Y. Lee)

Read in English

Authors
Top