Global Editions

گھانا میں ڈرونز کے ذریعے ادویات فراہم کی جارہی ہیں

زپ لائن نامی نئی ڈرون ڈیلوری کی سہولت کے ذریعے لوگوں کو ضروری ٹیکے اور ادویات پہنچائے جارہے ہيں۔

گھانا کے مشرقی حصے میں نیو ٹافو اکیم نامی ایک قصبہ واقع ہے جو دارالحکومت اکرا سے ڈھائی گھنٹے کی دوری پر واقع ہے۔ اس قصبے تک پہنچنے کے لیے آپ کو ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک لینی ہوگی اور ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ کو سڑک کم اور پتھر زیادہ نظر آئيں گے اور ہر ایک چیز پر سرخ گردوغبار کی تہہ جمی ہوگی۔

اس قصبے میں گنی چنی چند ہی پختہ عمارتیں ہیں، جن میں سے ایک یہاں کا ہسپتال ہے۔ یہ ہسپتال ایک منزل پر تعمیر شدہ کلینکس پر مشتمل ہے، جن کے صحنوں میں مرغیاں گھومتی ہوئی نظر آئيں گی۔ ایک پختہ حصے میں ایک کلینک کا ویٹنگ روم بنایا گیا ہے، جہاں عورتیں اپنے شیرخوار بچوں کے ساتھ لکڑی کی بینچوں پر کڑی دھوپ میں اپنی باری کا انتظار کررہی ہیں۔ عام طور پر یہاں کی نرس گلیڈس ڈے ڈے ٹیٹیح اور ان کی ٹیم ان چھوٹے بچوں کو ٹیکے لگانے میں مصروف رہتی ہیں، لیکن آج ان کے پاس پیلیے کے ٹیکے ختم ہوگئے ہیں۔ ان کی پیشگوئیوں کے مطابق 35 بچوں کو ٹیکے لگائے جانے والے تھے، لیکن آج کلینک میں 41 بچوں کو لایا گیا ہے، جن میں جڑواں بچے بھی شامل ہيں۔

ٹیکوں کی زندگی محدود ہے، اور انہيں خشک جگہ پر رکھنا چاہیے جہاں درجہ حرارت کو کنٹرول کیا گيا ہو، لہٰذا ضرورت سے زیادہ ٹیکے آرڈر نہيں کیے جاسکتے۔ لیکن ٹیٹح کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ان عورتوں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بہت مشکل سفر طے کیا ہے، اور اگر انہیں منع کردیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ واپس نہیں آئيں گی اور ان کے بچوں کو ٹیکے نہيں لگائے جائيں گے۔ لہٰذا ٹیٹیح اپنا فون نکال کر ایک ٹول فری نمبر پر ٹیکسٹ میسیج بھیج کر مزید چھ ٹیکوں کا آرڈر دیتی ہیں۔

فوری جواب

صرف پندرہ منٹ کے اندر ٹیٹیح کا فون بجتا ہے اور میں اس کے ساتھ گھاس کے ایک بڑے صحن کی جانب بڑھتی ہوں جس میں اوپر بجلی کی چند تاریں نظر آرہی ہیں۔ اوپر آسمان میں ایک کھلونے کی طرح کا ہوائی جہاز نظر آرہا ہے جو خاموشی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔

اچانک اس ہوائی جہاز کا نچلا حصہ کھل جاتا ہے اور اس میں ایک پیراشوٹ زمین کی طرف گرنے لگتا ہے، جس کے ساتھ ایک ڈبا ہے۔ اس ڈبے کے زمین تک پہنچنے سے پہلے، ڈرون واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔ نرسیں اس ڈبے میں پوشیدہ کانچ کی بوتلیں نکالتی ہیں اور چند منٹوں کے اندر بچوں کو ٹیکے لگانے کا مرحلہ بحال ہوجاتا ہے۔

ٹیٹیح کہتی ہیں “جب تک مریض ہمارے کلینک میں ہوتا ہے، ہمیں دوائيں مل جاتی ہیں۔ اس سے ہمیں ایمرجنسیوں میں بہت فائدہ ہوگا اور ہم ہر ماں اور بچے کو تحفظ فراہم کرسکیں گے۔”

عالمی ویکسین الائنس گیوی نے دنیا کے ہر کونے میں معنی خیز نتائج کی فراہمی کے لیے یو پی ایس ڈیلوری، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، اور دوا بنانے والی کمپنی فائزر کے ساتھ اس ڈرون ڈیلوری کی سروس کے اخراجات میں شراکت داری کی ہے۔ گیوی کے سربراہ موز صدیقی کہتے ہیں “ہم نے 2015ء میں مزید 30 کروڑ بچوں کو ٹیکے لگانے کا ہدف طے کیا تھا، اور یہ ہدف 86 فیصد تک کامیاب بھی ہوچکا ہے۔ لیکن باقی 14 فیصد بچوں کو ٹیکے لگانا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ یہ بچے دور دراز علاقوں یا کچی آبادیوں میں رہتے ہيں یا ان کے والدین کے لیے بار بار آنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ڈرونز کی مدد سے اس مشکل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔”

گھانا ہیلتھ سروس کے ڈائریکٹر جنلر اینتھونی نسیاح آسارے کے مطابق روایتی نقل و حمل کے مقابلے میں ڈرونز کے ذریعے دور دراز یا دیہی علاقہ جات میں ادویات اور طبی سامان کی فراہمی زیادہ کم قیمت، موثر اور قابل اعتماد ثابت ہوگی۔

انہوں نے پہلی دفعہ 2016ء میں روانڈا کے پہاڑی علاقہ جات میں یہ سسٹم ٹیسٹ کیا تھا، اور دونوں ہی اس کے نتائج دیکھ کر قائل ہوگئے۔ نسیاح آسیر کہتے ہیں کہ جس طرح موبائل فون ٹیکنالوجی کی مدد سے ان علاقوں میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے باآسانی رابطہ کرسکتے ہيں جہاں لینڈ لائنز موجود نہيں ہیں، اسی طرح ڈرونز کی مدد سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، سیلاب زدہ اور دوسری سہولیات سے محروم علاقوں کو ضروری ادویات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا میں واقع سٹارٹ اپ کمپنی زپ لائن کے ساتھ مل کر اس پراجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا جو اب دنیا کا سب سے بڑا ڈرون ڈیلیوری کا پروگرام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

گھانا کی حکومت نے اس سہولت کو اپنے ضم کردہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں شامل کرلیا، اور اپریل 24 کو یہ پروگرام لانچ کردیا گیا۔ جہاں تک نسیاح اسارے کا تعلق ہے، اس پروگرام کے فوائد پہلے روز ہی سامنے آگے جب ایک زخمی آدمی کو خون، کیٹوسس کی حالت میں ایک آدمی اور انسولین اور بچے کی پیدائش کے دوران بلند فشار خون کی شکار ایک عورت کو میگنیشیم سلفیٹ پہنچایا گيا۔

علاقائی ہبس

یہ ڈرونز ہبس کے ذریعے استعمال کیے جائيں گے۔ پہلا ہب اومیناکو نامی علاقے کے جنگلات کے بیچ ایک خالی جگہ میں بنائی گئی ایک چمکتی ہوئی عمارت کی شکل میں قائم کیا گيا۔ جلد ہی مزید پانچ ہبس تعمیر کیے جائيں گے۔ اس ہب میں دوا اور ایمرجنسی کے سامان کے ذخیرے کے لیے ایک گودام بنایا گیا ہے اور ڈرون کو لانچ کرنے اور چلانے کی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ سال کے اختتام تک، ان چھ ہبس کے ذریعے پورے ملک میں ڈرون کے ذریعے ڈیلوری کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اس سہولت کو کافی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گيا ہے۔ کچھ ناقدین کے مطابق اس پراجیکٹ پر خرچ کی جانے والی رقم کو ایمبیولنسز جیسی سہولیات پر لگایا جانا چاہیے تھا۔ تاہم اس پراجیکٹ کی لاگت بائیکس اور ٹرکوں کے ذریعے ڈیلوری سے بہت کم ہے، اور حکومت کا کہنا ہے کہ ڈرونز زيادہ موثر ثابت ہورہے ہيں۔

پانچ سال پہلے بائیوٹیک کے ماہر کیلر رناؤڈو کے اپارٹمنٹ میں شروع ہونے والی یہ کمپنی اب تک گوگل وینچرز اور مائیکروسافٹ اور یاہو کے بانیوں کی طرف سے 4.1 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

وہ کہتے ہیں “میں ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگوں کی جان بچانا چاہتا تھا۔”

اس کمپنی میں سپیکس ایکس، بوئینگ اور ناسا کے ایئروسپیس ماہرین کام کررہے ہیں اور اس نے اپنے تمام ڈرونز، خودکار سافٹ ویئر، اور لانچ اور لینڈنگ کے سسٹمز خود بنائے ہیں۔ ان کے کچھ ڈرونز دوسری بڑی کمپنیوں میں بھی استعمال کیے جارے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے لیے زپ لائن نے ایک فکسڈ ونگ، بیٹری پر چلنے والے ماڈل کا انتخاب کیا جو 70 میل فی گھنٹے کی رفتار سے 50 میل (80 کلومیٹر) کے فاصلے تک 4 پونڈ (یعنی 1.8 کلوگرام) تک وزن اٹھاسکتی ہے۔

رناؤڈو کے مطابق ان کی کمپنی روزانہ 600 پروازوں کے ذریعے 1.2 کروڑ افراد کو سہولیات فراہم کرے گی۔ اس وقت پیکیجنگ کے گودام میں ایک درخواست پوری کی جارہی ہے۔ ایک ماڈیولر ڈرون میں نئی بیٹریاں لگانے کے بعد اس پر سامان لادا گیا، جس کے بعد اسے لانچ شوٹ پر نصب کردیا گیا۔ یہ ڈرون 10 فٹ (یعنی تین میٹر) چوڑا ہے اور اس کی کل لمبائی پانچ فٹ ہے۔

ایک ایویشن انجنیئر اس ڈرون کا حتمی معائنہ کررہی ہیں۔ اس کے بعد وہ اس ڈرون کو لانچ کرنے سے پہلے سول ایویشن اتھارٹی سے منظوری حاصل کرتی ہیں۔ ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے عام طور پر درکار پہیے نہ ہونے کی وجہ سے پاور کی ضروریات میں کمی ممکن ہے، جس کے باعث زیادہ طاقت ور بیٹریوں کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔

لینڈنگ لانچ سے بھی زیادہ دلچسپ ثابت ہوتی ہے۔ اس ڈرون کو پرواز کے دوران دھات کی دو اے فریمز کے درمیان ٹھہرنے کی ضرورت ہے، جن کے درمیان ایک باریک تار پروئی گئی ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کام ناممکن ہے، لیکن ڈرون اس تار پر بالکل صحیح جگہ پر لینڈ کرلیتا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے علاوہ یہ ڈرون ہر موسم میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نیٹیح جیسے نرسز کے لیے یہ سہولت کسی معجزے سے کم نہيں ہے۔ وہ کہتی ہیں “زچگی کے دوران ہر ماں ہم سے توقع رکھتی ہے کہ ہم اس کی جان بچائيں۔ اس میں تاخیر نہيں ہونی چاہیے۔”

تحریر: گایا ونس (Gaia Vince)

Read in English

Authors

*

Top