Global Editions

اگر فیس بک کے ساتھ مسئلہ ہے تو دوسری سوشل میڈیا ویب سائٹ خود بنائيں

صارف دوست سیٹنگز سے لے کر خود کی سائٹس بنانے تک، سوشل میڈیا کو بہتر بنانے کے کئی طریقے ہوسکتے ہيں۔

کیا آپ اپنی نیوزفیڈ پر سیاسی پروپیگنڈا اور امتیازی سلوک کی بھرمار سے تنگ آچکے ہیں؟ آپ سوچتے ہوں گے کہ اس کا واحد حل اپنے سوشل میڈیا کی پروفائلیں بند کرنا ہے، لیکن اب اس سے بھی بہتر حل موجود ہے۔ آپ اپنی خود کی سوشل میڈیا نیٹورک بھی بناسکتے ہیں۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی ایم ٹیک کانفرنس میں ایک پریزنٹیشن کے دوران ایم آئی ٹی سینٹر فار سوک میڈيا (MIT's Center for Civic Media) کے ڈائریکٹر ایتھن زکرمن (Ethan Zuckerman) نے کہا "ان سسٹمز سے دنیا بھر میں اربوں افراد متاثر ہوتے ہیں، اور اب انہیں بہتر بنانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔"

یونیورسٹی آف الینوائے اربنا شیمپین کی کیری کیراہیلیوس (Karrie Karahalios) نے اپنی ایم ٹیک کی پریزینٹیشن میں بھی اسی قسم کی بات کی۔ "سوشل میڈیا پر جو نظر آتا ہے، ہمیں اسے مجموعی طور پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔"

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کئی لوگوں کو آن لائن دکھائے جانے والے مواد کے پیچھے جو الگارتھمز لگائے گئے ہيں، ان کے متعلق مکمل سمجھ بوجھ حاصل نہيں ہے۔ ماضی میں اخبار اپنے خود کی خبریں شائع کرتے تھے، اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرام براڈکاسٹ نیٹورکس کے ذریعے نشر کیے جاتے تھے۔ تاہم اب کئی لوگ فیس بک اور گوگل پر خبریں دیکھتے ہیں، اور کسی بھی مواد کو آگے بڑھانے کے لیے اسے شیئر یا لنک کردیا جاتا ہے۔ زکرمین کے مطابق اس قسم کی شیئرنگ سے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہيں، جن میں شدت پسند مواد، سازشی تھیوریاں، آن لائن ہراس، اور الگارتھمک تعصب سے وابستہ مسائل شامل ہیں۔

تاہم اب تک کئی لوگوں کو یہ بات معلوم نہيں ہے کہ ان کا کس حد تک فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ کیراہیلیوس کہتی ہیں کہ انہوں نے جتنے افراد کا مطالعہ کیا، ان میں سے 62 فیصد افراد کو یہ بات معلوم ہی نہيں تھی کہ ان کے فیس بک کی نیوز فیڈ پر دکھائے جانے والے مشمولات کا تعین ایک الگارتھم کی مدد سے کیا جاتا ہے، اور جب انہيں یہ بات معلوم ہوئی تو وہ بھڑک گئے۔ کیراہیلیوس یہ بھی بتاتی ہیں کہ کئی لوگ سمجھتے ہيں کہ کسی آن لائن سرچ میں سب سے پہلے دکھایا جانے والا نتیجہ ہی سب سے درست ہوگا۔

اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ لوگ اپنی سوشل میڈیا شیئرنگ کی سائٹس خود بنائيں، لیکن یہ آسان نہيں ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس اور سرچ انجنز کی سیٹنگز کو زيادہ سے زيادہ شفاف بنایا جائے۔ کیراہیلیوس اور زکرمین ٹوئیٹر کے لیے انٹرفیسز بنانے پر علیحدہ کام کررہے ہيں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی سائٹ کے کنٹرول کے پینلز کو مرکزی صفحے پر موجود ہونا چاہیے، اور اگر یہ کسی ایسے سائڈبار میں موجود ہوں جو ہمیشہ سامنے ہو تو اور بھی اچھا ہے۔

زکرمین نے ایسے ٹولز تخلیق کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے جن کی مدد سے سوشل میڈیا کے مشمولات کو کسی دوسرے پلاٹ فارم میں لے جانے اور ایک ہی براؤزر کی ونڈو میں متعدد سوشل نیٹورکس دکھانا اور بھی آسان ہوجائے۔ وہ کہتے ہيں "ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا، لیکن یہ محض مسئلے کا اعتراف کرنے کے بعد کچھ نہ کرنے سے تو بہتر ہے۔"

تحریر: الیزابیتھ ووئیک (Elizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top