Global Editions

نوعمر بچوں کے لیے آن لائن حدود کا تعین

اب تک والدین یہی سمجھتے تھے کہ بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ انہيں انٹرنیٹ استعمال کرنے سے روک دیا جائے۔ لیکن کیا اس سے بہتر طریقہ موجود ہے؟

جب پرتھوی راج سنھا زالہ اپنا پہلا مقدمہ لڑنے کے لیے بھارت کی ریاست گجرات کے ہائی کورٹ پہنچے، اس وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی اور انہوں نے اپنی وکالت کی تعلیم شروع ہی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ”ہائی کورٹ کی بڑی عمارت کالے پتھر کی بنی ہوئی ہے اور اس کے باہر موہن داس کرم چند گاندھی کی ایک یادگار موجود ہے۔ میری درخواست پر ‘پرتھوی راج سنھا بمقابلہ ریاست گجرات’ لکھا ہے، میرے خلاف دو بڑے سرکاری وکلاء مقدمہ لڑ رہے ہیں اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔“

زالہ کے مقدمے کی وجہ پلیئر ان نونز بیٹل گراؤنڈز (Player Unknown’s Battleground) نامی ایک گیم تھی، جو PUBG کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جنوبی کوریا میں واقع بلو ہول (Bluehole) نامی کمپنی کی دو سال قبل تخلیق کردہ بیٹل رویال (battle royale) کے طرز کی ایک ویڈیو گیم ہے جس میں کھلاڑیوں کو 100 دیگر افراد کے ساتھ ایک دور دراز جزیرے پر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جو شخص آخر میں زندہ رہ جائے اسے فاتح تصور کیا جاتا ہے۔ یہ گیم فورٹ نائٹ (Fornite) نامی ایک اور کھیل سے اس قدر ملتی ہے کہ PUBG بنانے والی کمپنی نے فورٹ نائٹ بنانے والی کمپنی ایپک گیمز (Epic Games) پر اپنا آئيڈیا

نقل کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ تاہم اس مقدمے کو عدالت میں آگے نہيں بڑھایا گيا۔

PUBG اپنے حریف سے کہیں زيادہ آگے نکل چکا ہے۔ موبائل فون ایپ کی شکل میں دستیاب ہونے اور مفت ہونے کے باعث یہ گیم خاص طور پر کم آمدنی رکھنے والے ممالک میں مقبول ہے۔ بھارت ہی میں پانچ کروڑ سے زائد کھلاڑی موجود ہيں اور ملک بھر میں باقاعدگی کی ساتھ PUBG کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، جن میں لاکھوں لوگ ہندی، تامل اور تیلیگو زبانوں میں بات کرنے والے مشہور سٹریمرز کو بڑے شوق سے دیکھتے ہيں۔ لیکن دوسری طرف والدین اس گیم کی مقبولیت سے خاصے پریشان ہيں۔

اس گیم سے نہ صرف کھلاڑیوں کے دھونس کا نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ گیا بلکہ تشدد کی بھی کئی رپورٹیں سامنے آئيں۔ اس کے علاوہ، PUBG کے سبب کئی لوگ موت کے گھاٹ بھی اتر چکے ہيں۔ جب ایک 16 سالہ لڑکے کے والدین نے PUBG کھیلنے پر پابندی عائد کی تو اس نے خودکشی کرلی۔ دیگر رپورٹس کے مطابق دو لوگ یہ گیم کھیلنے میں اتنے محو تھے کہ انہيں پتا نہيں چلا کہ کب وہ ایک چلتی ہوئی ٹرین کے سامنے آگئے۔

ان حادثات کے جواب میں PUBG نے کم سے کم عمر مقرر کی اور چہرے کی شناخت اور بچوں کے والدین کے لیے کنٹرولز متعارف کیے۔ اس کے علاوہ، اب مستقل چھ گھنٹوں تک گیم کھیلنے کے بعد سکرین پر ”صحت کو لاحق خطرے“ کے متعلق انتباہات بھی ظاہر کیے جاتے ہيں۔ لیکن بھارت کی ریاست گجرات کو تسلی نہيں ہوئی اور مارچ 2019ء میں حکام نے PUBG پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ ان کے مطابق یہ صرف عارضی پابندی تھی جس کا مقصد طلباء کو اپنی پڑھائی پر توجہ دینے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

بھارت میں پہلے بھی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔ انڈيا انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (India Internet Freedom Foundation) کے سربراہ اپر گپتا کے مطابق بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زيادہ انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے۔ تاہم ماضی میں نفاذ کی ذمہ داری سہولت کے فراہم کنندگان کو سونپی جاتی تھی، لیکن اس بار PUBG کے کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے لیے جرمانے حتیٰ کہ قید کی سزا بھی مقرر کی گئی۔

 زالہ کہتے ہيں کہ انہيں بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی خوب ملامت کی گئی، لیکن وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے جو کیا، صحیح کیا۔

PUBG پر پابندی عائد ہونے کے بعد گجرات میں 21 افراد کو حراست میں لیا گيا جن کی اکثریت درمیانی طبقے کے علاقہ جات میں واقع چائے کی دکانوں میں بیٹھ کر گیم کھیلنے والے مسلمان نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ گیمنگ میں خصوصی مہارت رکھنے والی وکالت کی کمپنی فرینک فرٹ کرنٹ کلائين اینڈ سیلز (Frankfurt Kurnit Klein & Selz) کے پارٹنر گریگری

بوائيڈ (Gregory Boyd) بتاتے ہیں کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ محض گیم کھیلنے کے باعث کسی کو پولیس تحویل میں لیا گیا ہو۔

زالہ اس وقت گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد کی نرما یونیورسٹی میں وکالت کی تعلیم حاصل کررہے تھے اور انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے کبھی بھی PUBG نہيں کھیلی۔ بلکہ میں اپنی پڑھائی میں اس قدر مصروف رہتا ہوں کہ مجھے موبائل پر گیمز کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔“

زالہ سے گجرات میں زیرحراست نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دیکھی نہيں جارہی تھی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ان کے ساتھ جو ہوا، وہ بھارت کے آئين کے بالکل خلاف ہے۔ میں PUBG کی تعریف نہيں کررہا، لیکن اس پر پابندی کا کوئی جواز بھی تو ہونا چاہیے۔“

اگر آپ سے کوئی یہ کہے کہ ویڈيو گیمز کھیلنا انسانوں کا بنیادی حق ہے تو شاید آپ بھی کچھ دیر کے لیے دنگ رہ جائيں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں آہستہ آہستہ یہ تصور زور پکڑ رہا ہے کہ بڑوں کی طرح بچوں کو بھی کچھ بنیادی ڈیجیٹل حقوق حاصل ہیں۔ اور اگر یہ تصور عام ہوجائے تو گوگل اور فیس بک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کام کرنے کا طریقہ بدل کر رہ جائے گا۔

اس تحریک کی بنیاد 1989ء میں اس وقت رکھی گئی تھی جب انٹرنیٹ نے تجارتی شکل اپنانا شروع کی۔ اس سال اقوام متحدہ نے کنونشن برائے حقوق اطفال متعارف کیا، جس میں بچوں کے اپنے والدین کے ساتھ رہنے کے حق سمیت کئی معاملات کا تذکرہ موجود تھا۔ تاہم اس میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی میڈیا تک رسائی کے علاوہ، انہیں متاثر کرنے والے معاملات میں ان کی رائے معلوم کرنا، ان کے اظہار خیال، مفید معلومات کے حصول، اور ان کے پرائیوسی کے حقوق کا تحفظ بھی شامل ہیں۔ اس دستاویز میں ان بچوں کی دوسروں سے ملنے جلنے کی آزادی کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔

زالہ کا موقف یہ تھا کہ PUBG پر پابندی عائد کرنے سے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی تھی۔ تاہم دوسری طرف حکومت کےمقرر کردہ وکلاء کے مطابق پابندی عائد کرنے کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اس گیم کی لت کے باعث کھلاڑی اپنے اطراف موجود لوگوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔

زالہ نے اپنی عرضی میں لکھا کہ ”اگر کوئی شخص اپنے گھر کی چار دیواری میں PUBG کھیلتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنے فیصلے خود کرنے کے حق کا استعمال کیا ہے۔ اس پر پابندی عائد کرنے سے اس کی پرائیوسی کا حق، تنہا رہنے کا حق، اور اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق، سب چھن جاتے ہيں۔“

اس وقت یہ آئيڈیا صرف ابتدائی مراحل ہی میں ہے۔ ماضی میں بچوں کو آن لائن تحفظ کی فراہمی کے لیے انہيں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے سے روک دیا جاتا تھا، اور بھارتی حکومت نے بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سچ پوچھیں تو اب تک بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھنے کی کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہيں ہوپائی ہیں۔

امریکہ کے چلڈرنز آن لائن پرائیوسی پروٹیکشن ایکٹ (Children’s Online Privacy Protection Act – COPPA) کے مطابق 13 سال سے کم عمر کے بچوں کی اشتہارات کے لیے ٹریکنگ اور پروفائلنگ اور ان کے ڈیٹا کی تجارت پر سختی سے ممانعت عائد ہے۔ اس قانون کے باعث سوشل میڈیا سمیت کئی سہولیات استعمال کرنے کے لیے کئی بچے اپنی عمر بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہيں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو آن لائن سہولیات فراہم کرنے والا کوئی بھی ادارہ ان کی عمروں کی تصدیق کرنے کی زحمت نہيں کرتا۔ برطانیہ میں بچوں کے حقوق کی وکالت کرنے والے ادارے 5Rights کے ایک تخمینے کے مطابق، بچوں کے 18 سال کی عمر تک پہنچنے تک کمپنیاں ان کے متعلق 70,000 مختلف اقسام کی معلومات حاصل کرچکی ہوتی ہیں۔

بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اس طریقے میں کئی خامیاں ہیں، جن کی سب سے اچھی مثال یوٹیوب میں ملتی ہے۔ ماضی میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (Federal Trade Commission) نے COPPA کی خلاف ورزیوں کے باعث گوگل اور یوٹیوب پر 17 کروڑ ڈالر جرمانے عائد کیے۔ ان کے مطابق ایک طرف تو یوٹیوب کی پالیسیوں کے مطابق 13 سال سے کم عمر کے بچوں کو اس پلیٹ فارم پر سائن اپ کرنے کی اجازت نہيں تھی، لیکن دوسری طرف ان کے اشتہاری مواد کے مطابق وہ خود کو ”ٹی وی پر دکھائے جانے والے کارٹونز کے متبادل“ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ تاہم فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے ممبر روہت چوپرا اس فیصلے سے خوش نہيں ہيں۔ ان کا خیال ہے کہ یوٹیوب جیسی کمپنی کے لیے، جو ”بچوں کی جاسوسی“ کرکے اس سے کہیں زيادہ رقم کمالیتی ہے، یہ جرمانہ کوئی معنی نہيں رکھتا۔

لندن سکول آف ایکنامکس میں پری پیرنگ فار اے ڈیجیٹل فیوچر انیشیٹیو (Preparing for a Digital Future) کی سونیہ لیونگ سٹون (Sonia Livingstone) کا خیال ہے کہ 13 سال کی عمر تک بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھنے سے نہ تو ان کی حفاظت کی ضمانت ممکن ہے اور نہ ہی دنیا دیکھنے کی آزادی۔ وہ کہتی ہیں کہ ”بچوں کو ان تمام وسائل تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے جن سے انہیں معاونت حاصل ہوسکے۔ جب ہم صرف اور صرف خطرات پر توجہ دیتے ہيں تو ہم بچوں پر پابندیاں عائد کرتے ہيں اور انہيں دستیاب مواقع محدود کرتے ہيں، جس سے ان کے لیے بااختیار افراد کی حیثیت سے پروان چڑھنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا ناممکن ثابت ہوتا ہے۔“

لیوینگ سٹون کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو ڈیجیٹل میڈیا پر ”بچوں کے حقوق کے فریم ورک“ پر کام کررہے ہیں۔ وہ 5Rights کے ساتھ (5Rights کا نام 11 سے 14 سال تک کی عمر کے بچوں پر مشتمل کمیٹیوں کے ساتھ ”مشاورت“ کے نتیجے میں سامنے آنے والے حقوق کی بنیاد پر رکھا گيا)، برطانیہ کی حکومت کو انٹرنیٹ پر ”عمر کے لحاظ سے مناسب ڈیزائن کوڈ“ کی تیاری میں معاونت فراہم کررہی ہيں۔ 5Rights کے پالیسی لیڈ جے ہارمن (Jay Harman) کے مطابق اس کا مقصد انٹرنیٹ کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

اس ضابطہ اخلاق کی تعمیل کرنے والی کمپنیوں کے لیے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے ڈیٹا کی شیئرنگ اور صارفین کو ویب سائٹ پر زيادہ وقت گزارنے کے لیے راغب کرنے کی تکنیکس (جیسے کہ آٹو پلے یا ویب پیج پر لامحدود سکرول) کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ، ان کے لیے چھوٹے بچوں کو غیرمطلوبہ مشمولات سے محفوظ رکھنا اور ان کا لوکیشن ظاہر کرنے سے گریز کرنا بھی ضروری ہوجائے گا۔ ان تمام پالیسیوں کے متعلق آسان فہم زبان میں وضاحت فراہم کرنا اور سیٹنگز تبدیل کرنے کی صورت میں تنبیہات ظاہر کرنا بھی ضروری ہوگا۔

اس ضابطہ اخلاق کے تحت ویب سائٹس کو تحفظ کی فراہمی کے طریقہ کار کے متعلق خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ مثال کے طور پر، ویب سائٹس تمام صارفین کو یکساں تحفظ فراہم کرسکتی ہيں، ڈرائیورز لائسنس جیسے دستاویزات کے ذریعے عمر کی تصدیق کرسکتی ہیں، یا بچوں کو اپنی عمریں خود بتانے کا موقع دے سکتی ہيں۔ تاہم، بچوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال کی صورت میں، ان ویب سائٹس پر سخت جرمانے عائد کیے جائيں گے۔

اس ضابطہ اخلاق کی تعمیل کرنے والی کمپنیوں کے لیے متعدد سہولیات، صارف کے تجربات، اور صارفین کے رویے کے مطابق تیار کردہ اشتہارات سمیت پیسے کمانے کے طریقوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اور ممکن ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق برطانیہ کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی متعارف کروایا جائے۔

یکم جنوری 2020ء کو قابل نفاذ ہونے والے کیلیفورنیا کنزیومر پرائیوسی ایکٹ (California Consumer Privacy Act) کے تحت 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے متعلق ڈيٹا کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی سینیٹ میں COPPA کو تقویت دینے والی ترامیم تشکیل دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن میں ”معلومات حذف کرنے کا اختیار“ بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے جس کے ذریعے نابالغ افراد کے لیے باآسانی کسی بھی آن لائن سہولت پر موجود اپنا تمام ذاتی ڈيٹا حذف کرنا ممکن ہوگا۔ آسٹریلیا اور یورپی اتحاد میں بھی نئے قوانین پر کام ہورہا ہے۔

برطانیہ کے قوانین کا کمپنیوں کی فراہم کردہ سہولیات پر کیا اثر ہوگا؟ ہارمن کے مطابق ان کمپنیوں کو اس کے متعلق خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہيں پورا یقین ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان ضوابط پر عمل کریں گی۔ (گوگل، فیس بک اور ایمزان نے اس تحریر کے لیے اپنے بیانان فراہم کرنے سے انکار کردیا۔)

لیونگ سٹون اور ہارمن دونوں ہی کا خیال ہے کہ اس طریقے سے بچوں کے حقوق کو یقینی بنا کر انٹرنیٹ کو سب کے لیے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ جس طرح مصروف شاہراؤں کو سنسان گلیوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح انٹرنیٹ پر چھوٹے بچوں کی شرکت کے تحفظ سے سب ہی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

تاہم نئے قوانین متعارف کرنے سے بچوں کی پرائیوسی کے سو فیصد تحفظ کی ضمانت نہيں دی جاسکتی۔ یورپی یونین کے ڈیٹا اور پرائیوسی کے متعلق قانون GDPR کی مثال لے لیں۔ کمپنیوں کے لیے اس قانون کی تعمیل نہ صرف بہت مہنگی ثابت ہورہی ہے بلکہ اس کے نتائج بھی ملے جلے ہی رہے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مارکیٹرز کے علاوہ دوسرے فریقین بھی بچوں کے ڈیجیٹل حقوق پامال کررہے ہیں۔ امریکہ میں سکولوں پر اندھا دھند فائرنگ کے متعدد واقعات کے بعد کئی سکولوں نے طلباء کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے نجی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ غیرمنافع بخش ادارے فیوچر آف پرائیوسی فورم (Future of Privacy

Forum) کے ایک تخمینے کے مطابق ایک تہائی سکول کے اضلاع نے اس کے معاہدے کیے ہيں۔

یہ سسٹمز تشدد کی روک تھام کے لیے ٹوئیٹر پوسٹس، گوگل سرچز، ای میلز اور امتحانات کے پیپرز، ہر قسم کا مواد سکین کرکے خطرے کی نشاندہی کرنے والے الفاظ تلاش کرتے ہيں۔ تاہم ان میں الفاظ کی غلط تشریح کے گنجائش بھی موجود ہے اور اس سسٹم کی حملوں کی روک تھام کی صلاحیت پر اب بھی کئی سوالیہ نشانات ہیں۔ ان خامیوں کے باوجود امریکی سینیٹ میں تمام امریکی سکولز میں اس قسم کے سسٹمز متعارف کرنے کے متعلق قانون متعارف کروائے جاچکے ہيں۔

اسکولوں میں عرصہ دراز سے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے، لیکن اب اس نگرانی نے ڈیجیٹل شکل لے لی ہے۔ مثال کے طور پر eHallpass نامی ایک کمپنی طلباء کے باتھروم آنے اور جانے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اسی طرح ClassDojo نامی ایپ بچوں کے والدین کو ان کی ہر حرکت کے متعلق مطلع کرتی رہتی ہے۔

دنیا بھر میں بچوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ PUBG کی ہی مثال لے لیں، جسے گجرات کے علاوہ نیپال، عراق اور اردن میں بند کردیا گيا ہے۔ عام طور پر بچوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کے متعلق ان سے مشاورت کرنے کا رواج بھی موجود نہيں ہے۔

زالہ کو آخرکار اپنی محنت کا پھل مل گیا۔ جج نے گجراتی حکام سے PUBG پر پابندی کے جواز کے طور پر ٹھوس ثبوت کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں حکومت نے پابندی معطل کرنا بہتر سمجھا۔ زالہ بتاتے ہيں کہ انہیں رات کے بارہ بجے خبر موصول ہوئی اور ان کے ساتھیوں اور اساتذہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہيں تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”فرسٹ ایئر کا طالب علم جانے مانے وکلاء کے سامنے ہائی کورٹ میں مقدمہ نہ صرف لڑے بلکہ جیت کر معاشرے میں مثبت تبدیلی کی وجہ بنے، ایسی خبریں روز سننے کو نہيں ملتیں۔“ اپنی کالج کے ”یوم تاثیث“ پر زالہ کو انعام کے طور پر ایک میڈل سے نوازا گیا۔

زالہ نے نوجوانوں کے حقوق کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت وہ ماحولیاتی تبدیلی کی کارکن گریٹا تھن برگ (Greta Thunberg) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کی وکالت پر کام کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”بھارت نوجوانوں کی سب سے زيادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے اور اپنے مستقبل کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ اگر کسی ویڈیو گیم پر پابندی عائد کردی جائے، اختلاف رائے کو برداشت نہ کیا جائے، یا ماحول کو نقصان پہنچایا جائے، تو ہم خاموش کیسے رہ سکتے ہيں؟ اگر ہم ابھی آواز نہيں اٹھائيں گے تو بعد میں آواز اٹھانے کو کچھ نہيں بچے گا۔“

تاہم اس مقدمے کے باعث زالہ کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ بتاتے ہيں کہ ”لوگوں نے میری خوب ملامت کی۔“ کچھ والدین کا خیال تھا کہ حکومت کا PUBG پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ درست تھا اور انہوں نے اس کی بحالی کا بھرپور مطالبہ بھی کیا۔ لیکن زالہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے جو کیا، صحیح کیا۔

آنیا کمینیٹز NPR میں شعبہ تعلیم کی صحافی اور کتاب The Art of Screen Time کی مصنفہ ہیں۔

تحریر: آنیا کمینیٹز

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top