Global Editions

کیا ڈارک میٹر سے واقعی جلد کا کینسر ہوتا ہے؟

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں تجویز کردہ ایک تھیوری حقیقت پر مبنی نہيں ہے۔

کئی ماہرین کائنات کے مطابق ہماری کائنات عجیب قسم کی پوشیدہ چیزوں پر مشتمل ہے، جو کہکشاں کے پیمانے پر طاقتور قسم کی کشش ثقل جاری کرتے ہیں، جو کہکشاؤں کو گردش کے دوران تباہ و برباد ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔

ان چیزوں کو ڈارک میٹر کہا جاتا ہے، اور اگر یہ تھیوری سچ ہے تو اس کے دوسرے اثرات بھی ہونے چاہیے تھے۔ مثال کے طور پر، زمین پر اب تک ڈارک میٹر کی بھرمار ہوجانی چاہیے تھی، اور اس کے دکھائے جانے والے مواد کے ساتھ ٹکرانے کے بھی کچھ آثار تو سامنے آتے۔

ماہرین طبیعیات ان اثرات کی نشاندہی کی اربوں ڈالر کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ جو بھی شخص یہ دوڑ جیت جائے گا، وہ اتنی شہرت اور رقم کمانے میں کامیاب ہوجائے گا جو بہت ہی کم سائنسدانوں کو نصیب ہوتی ہے۔

اس خواہش کی وجہ سے ڈارک میٹر کے دوسرے اثرات کے بارے میں غور کیا جارہا ہے، اور 2018ء میں یونان کی یونیورسٹی آف پطرس کے کونسٹنٹن زیوٹاس اور البانی میں سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک کے ایڈورڈ ویلاچووک نے بائیوفزکل ریسرچ لیٹرز میں اپنی تھیوری شائع کرڈالی۔

ان سائنسدانوں نے 1973ء اور 2011ء کے درمیان امریکہ میں جلد کے کینسر پر نظر ڈالی، جس کے بات ایک سالانہ دورانیت اور اس سے چھوٹی 88 روزہ دورانیت نظر آئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جلد کے کینسر کی تشخیص میں باقاعدہ سالانہ سائکلز اور 88 روزہ سائکلز نظر آتی ہے، جو ایک بہت حیران کن بات ہے۔

لیکن اس سے بھی زيادہ عجیب بات وہ تھیوری تھی جو زیوٹاس اور ویلاچووک نے پیش کی تھی۔ ان کے مطابق ڈارک میٹر ڈی این سے ٹکرا کر جلد کے کینسر کا باعث بنتی ہے، اور جب بھی زمین ڈارک میٹر کی ان لہروں سے گزرتی ہے، جلد کے کینسر کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس تھیوری کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ نظر آنے والی دورانیت زمین اور عطارد کی گردش کی میعادوں کے عین مطابق ہیں۔

يہ ایک حیرت انگیز دعویٰ ہے، جس کے لیے حیرت انگیز قسم کے ثبوت کی ضرورت ہے۔

اب سپین کے کینیری آئی لینڈ میں واقع انسٹی ٹیوٹو ڈی آسٹروفزیکا ڈی کینیریس کے ہیکٹر سوکس نوارو نے اس تھیوری پر نظر ڈالی ہے، اور ان کے مطابق یہ سائنس کے مطابق نہيں ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے تجزیے سے سائنسی طریقہ کار کی مثال بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

وہ سب سے پہلے ڈارک میٹر کی بنیادی فرضی خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ڈارک میٹر نظر آنے والے مواد کے مقابلے میں انٹرسٹیلر پیمانے پر زیادہ مساوی طور پر تقسیم کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں "نظام شمسی میں موجود ڈارک میٹر اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی مقدار ایک بڑے ایسٹرائيڈ کے جتنی ہے۔" یہی وجہ ہے کہ ڈارک میٹر صرف کہکشاں کے پیمانے پر ہی اہم ثابت ہوتا ہے۔

اگر ڈارک میٹر مساوی طور پر تقسیم کیا گیا ہے تو زمین کی خلا میں گردش کے دوران اسے ہزاروں کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہمارے جسموں سے ٹکرانا چاہیے۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ یہ ڈارک میٹر وقتاً فوقتاً انسانی ڈی این اے سے ٹکرا کر اس کی شکل بھی بگڑنے کی وجہ بن سکتا ہے۔

لیکن اس قسم کی سوچ میں بہت بے یقینی ہے۔ سوکس نووارو کہتے ہیں "اس وقت ہمارے پاس ڈارک میٹر کی خصوصیات کے متعلق زیادہ معلومات موجود نہيں ہے، جس کی وجہ سے ان ذرات کی ٹکرانے کی شرح یا ڈے این اے بگڑنے کی شرح کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔"

ان شرحوں میں تبدیلی کا حساب لگانا بھی ممکن نہيں ہے۔ لاکھوں سال میں زمین جس ڈارک میٹر سے گزرتا ہے، اس کی کثافت میں تبدیلی آسکتی ہے۔ لیکن زیوٹیس اور ویلاچووک ایک ایسے منظرنامے کا خاکہ پیش کرتے ہیں جس میں سیاروں کی گردش کی وجہ سے اس کثافت میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ سوکس نوواروں اس صورتحال کا تصور پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے ڈارک میٹر کی ایک لہر کا تصور کیا جس میں سے عطارد سورج کے گرد گردش کے دوران اندر اور باہر گزرتی ہے۔ ان گردشوں کے دوران، عطارد اس ڈارک میٹر کو زمین کی طرف بھیجتی ہے، جس کی وجہ سے جلد کے کینسر کی تشخیص میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اسے ممکن بنانے کے لیے عطارد کو پچھلے 38 سال کے دوران ہر گردش کے دوران ایک ہی مقام پر لہر میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اس ڈارک میٹر کی لہر کے پیمانے کو عطارد کی گردش کے مدمقابل ہونا چاہیے، یعنی چوڑائی میں 5.8 کروڑ کلومیٹر۔

لیکن ماڈل میں سورج کی گردش کو نظر انداز نہيں کیا جاسکتا ہے۔ سورج 200 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار میں کہکشاں میں حرکت کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ پچھلے 38 سالوں میں وہ اس ڈارک میٹر کی لہر میں کئی کھرب کلومیٹر تک کا سفر طے کرچکا ہے۔ سوکاس نووارو کہتے ہیں "دونوں فاصلوں کے درمیان کئی گنا کے اس فرق کی وجہ سے ایک مناسب منظر کھینچنا بہت مشکل ہے۔" یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کہ سورج کی حرکت کئی کھربوں کلومیٹر تک اس لہر کے سیدھ میں ہو لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔

ایک اور عنصر زمین کی حرکت کا بھی ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ عطارد اس لہر میں بار بار خارج اور داخل ہورہا ہے، اور ہماری جانب ڈارک میٹر بھیج رہا ہے، تو زمین ہر بار مختلف مقام پر ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ 88 روزہ جلد کے کینسر کا دورانیت کا عطارد کی گردش کی میعاد کے ساتھ مطابقت رکھنا ناممکن ہے۔

آسٹروفزیکل نقطہ نظر سے زیوٹاس اور ویلاچووک کی تھیوری تو ناکام ہوگئی۔

لیکن طبی اعتبار سے بھی یہ تھیوری ناقص ہے۔ مثال کے طور پر، ڈیٹا سیٹ میں صرف تشخیص کا وقت ریکارڈ کیا گيا ہے، لیکن جلد کے کینسر کی ابتدا یا علامات واضح ہونے کا ریکارڈ موجود نہيں ہے۔ کئی تحقیقات کے مطابق علامات سامنے آنے اور تشخیص موصول ہونے کے درمیان سات سے گیارہ مہینے گزرتے ہیں۔

اس قسم کے فرق کو ڈارک میٹر کی تھیوری کے ساتھ ملانا بہت مشکل ہے۔ سوکس نووارو کہتے ہیں "تشخیص میں تاخیر طبی شعبے کا بہت بڑا مسئلہ ہے، اور اگر ایسا کوئی سگنل ہوتا تو وہ اس تاخیر کی وجہ سے ختم ہوجاتا ہے۔"

اس کے علاوہ، سیاہ فام افراد کی ڈارک میٹر کی وجہ سے پیش آںے والے جلد کے کینسر کے خلاف بظاہر مدافعت کی وجہ سے بھی یہ تھیوری ناکام ہوجاتی ہے۔ سوکیس نووارو بتاتے ہیں کہ جلد کی رنگت الٹراوائلٹ ریڈیشن اور جلد کے کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے مطابق اب تک ڈارک میٹر کے خلاف تحفظ کی کوئی وجہ سامنے نہيں آئی ہے۔

ڈیٹا کے مطابق سیاہ فام افراد میں جلد کے کینسر کی شرح بہت کم ہے اور اس میں سفید فام افراد میں کینسر کے واقعات کی دورانیت نظر نہيں آتی ہے۔ یہ بات بھی ڈارک میٹر کی تھیوری کے خلاف جاتی ہے۔ سوکس نووارو کہتے ہیں "سیاہ فام افراد ڈارک میٹر کے خلاف مدافعت کیوں رکھتے ہیں؟ ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہيں ہے۔"

یہ بات واضح ہے کہ ڈارک میٹر کے جلد کے کینسر کی وجہ بننے کا کوئی ثبوت موجود نہيں ہے۔

اگر یہ سچ ہے تو زاؤٹاس اور ویلاچووک نے جس دورانیت کی بات کی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ سوکس نووارو کہتے ہیں "بیشتر اقسام کے کینسرز میں نظر آنے والی دورانیت کا تعلق ہمارے طبی معائنوں کی عادات سے ہوسکتا ہے۔" یعنی، ممکن ہے کہ سالانہ دورانیت سامنے آنے کا تعلق اس بات سے ہو کہ لوگ عام طور پر صرف سالانہ بنیاد پر ہی اپنا طبی معائنہ کرواتے ہیں۔

تاہم اب تک 88 روزہ دورانیت اور ایک اور 70 روز کی دورانیت کی جس کی سوکس نووارو نے نشاندہی کی ہے، وجہ سامنے نہيں آسکی ہے۔

سوکس نووارو کا کام بہت دلچسپ ہے۔ انہوں نے اپنے پورے مطالعے میں سائنسی طریقہ کار سے کام لے کر پوری سائنسی کمیونٹی کے لیے مثال قائم کی ہے۔ سائنس کا اسی طرح سے استعمال کیا جانا چاہیے، یعنی پہلے مشاہدہ کرکے نظریہ قائم کرنے کے بعد اس کی ٹیسٹنگ، اور آخر میں اس کی دوبارہ چانچ پڑتال کرکے۔

غیرروایتی خیالیات سائنسی دنیا کا بہت اہم حصہ ہیں۔ یہ اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن کئی بار ان سے کائنات کے متعلق ہماری سمجھ بوجھ میں انقلاب آجاتا ہے۔

لیکن حقیقت اور خیالات کے درمیان امتیاز کرنے کا طریقہ اندھا یقین اور محض خواہشات نہيں، بلکہ حقیقت پر مشتمل سائنس کا استعمال ہے۔ امید ہے کہ یہ طریقہ کار قائم رہے۔

Read in English

Authors
Top