Global Editions

آئی کیو لیول چیک کرنے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ آ رہے ہیں

سائنسدانوں نے سینکڑوں جینز کو ذہانت سے منسلک کیا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ سکول کے بچوں پر ٹیسٹ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

کیا آپ ایسی دنیا کے لیے تیار ہیں جس میں 50 ڈالر کا ڈی این اے ٹیسٹ آپ کو یہ بتائے گا کہ آپ کے پی ایچ ڈی کرنے کے کیا امکانات ہیں، یا کسی مخصوص سکول میں کس بچے کا داخلہ ہوگا؟

جینیات کی مدد سے رویوں کے محقق کے ماہر رابرٹ پلومن (Robert Plomin) کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بالکل اسی طرح ہو گا۔

کئی دہائیوں تک جینیاتی محققین ذہانت کے پیچھے جن موروثی عوامل کار فرما ہیں، ان کی تلاش کرتے رہے ہیں، لیکن انہيں زيادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔لیکن اب جینیاتی مطالعہ جات اس قدر وسیع ہوگئے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اس قدر موثر بھی ہوگئے ہیں، یہ ذہانت سے وابستہ جینیاتی فرق کی کھوج کريں۔

ایک سال پہلے تک، کسی بھی جین کو کبھی بھی آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج سے منسلک نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے لیکر اب تک، دو لاکھ افراد پر ٹیسٹس کرنے کے بعد 500 سے زائد جینز کو آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج سے منسلک کردیا گیا ہے۔ ایک ایسے تجربے کے نتائج کسی بھی وقت متوقع ہیں جس میں دس لاکھ افراد کے ڈی این اے کو ان کی تعلیمی کارکردگی سے منسوب کیا گیا ہے۔

پلومن کے مطابق، جو اس وقت کنگز کالج لندن میں تعینات ہیں، جہاں وہ برطانوی جڑواں بچوں کے 13،000 جوڑوں پر ایک طویل المیعاد مطالعے کی سربراہی کررہے ہیں، ان دریافتوں کا مطلب ہے کہ اب ہم ایک چھوٹے بچے کا ڈی این اے پڑھ کر اس کی ذہانت کا اندازہ لگاسکتے ہيں۔

رابرٹ پلومن نے جنوری میں ایک پیپر میں، جس کا عنوان تھا "ذہانت کے نئے جینیات"، ڈی این اے کے ذہانت کے ٹیسٹ کے منظرناموں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، ثابت کرنے کی کوشش کی کہ والدین کے دستیاب ٹیسٹوں کے ذریعے وہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کی پیشگوئی کرکے ان کے لیے سکولوں کا انتخاب کریں گے، جسے انہوں نے "درست تعلیم" کا نام دیا ہے۔

اب تک پیشگوئیاں زیادہ درست ثابت نہيں ہوئی ہیں۔ ٹیسٹ کے نتائج سے وابستہ ڈی این اے کی تبدیلیوں سے زیرمطالعہ یورپی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ذہانت میں 10 فیصد سے بھی کم فرق کی وضاحت کرتے ہيں۔

اس کے باوجود، ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو معلوم ہوا ہے کہ پلومن کے ٹیسٹنگ کے منظرنامے کے کئی پہلو پہلے ہی سے واقع ہورہے ہیں۔ کم از کم تین آن لائن سہولیات نے، جن میں جین پلازہ اور ڈی این اے لینڈ شامل ہیں، لعاب کے نمونے سے کسی بھی شخص کی جینیاتی ذہانت کا تعین کرنے کی سہولت متعارف کی ہے۔

دوسری کمپنیاں کترارہی ہیں۔ 23andMe کے مطابق، جو اس وقت صارفین کو ڈی این اے کی صحت کی رپورٹس فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے، وہ لوگوں کو ان کے ذہنوں کی ریٹنگ اس وجہ سے نہيں بتاتی کیونکہ اسے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے لیے یہ معلومات قابل قبول نہيں ہوگی۔

کئی ماہرین تعلیم نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا کہ یہ نئی پیش رفت کافی پریشان کن ہے، اور ان کی رائے ہے یہ ڈی این اے ٹیسٹس کے ذریعے بچوں کے تعلیمی امکانات کا تعین نہيں کرنا چاہئیے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسیسکو، میں تعینات ماہر عمرانیات کیتھرین بلس (Catherine Bliss)، جنہوں نے نے اپنی ایک کتاب میں سوشل سائنس میں جینیات کے استعمال کے متعلق کئی سوالات اٹھائے ہیں، کہتی ہیں "اس کا خلاصہ یہ ہے یہ ایک RFID ٹیگ کی طرح، آپ جہاں بھی جائيں گے، ہمارے پاس آپ کے متعلق معلومات ہوگی۔ ہر کسی کو معلوم ہوگا کہ آپ کون ہيں اور کیا ہیں۔ یہ صورتحال بہت خوفناک ہے۔

"بلس کا کہنا ہے کہ "ایک ایسی دنیا جہاں لوگوں کو ان کی پیدائشی صلاحیتوں سے جانا جاتا ہے، یہ سائنس فکشن فلم گٹکا ( Gattaca eugenics) لگتی ہے۔" "یہ یوجینیکس ہے۔"

جینوں کی تلاش

ماہرین نفسیات کے لیے ذہانت کے ٹیسٹس میں ذہانت کے عمومی عنصر "جی" کی پیمائش کی جاتی ہے۔ جن افراد کی ریاضی، استدلال، اور زبانی اور ٹیسٹس کے ذریعے قابل پیمائش دیگر صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں، ان کا جی بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اور صرف یہ نہيں، بلکہ جی کے عنصر کا آپ کی آمدنی، خوشی، صحت، اور عمر سے بھی کافی گہرا تعلق ہے۔ مجموعی طور پر، جی زیادہ ہوگا، آپ کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ پلومن کے مطابق، یہ زندگی کا "قادر مطلع متغیر" ہے۔

يہ کافی حد تک موروثی بھی ہے۔ ایک جیسے اور مختلف، اور ایک ساتھ اور علیحدہ پلے جانے والے جڑواں بچوں کے موازنوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہانت کے آدھی سے زیادہ حصے میں جینیات کا ہاتھ ہے، جو جینز کے لحاظ سے بہت بڑا اثر ہے۔ باقی ذہانت میں آپ کے سکول، آپ کی غذا اور دیگر ماحولیات عوامل کا ہاتھ ہے۔

لیکن وہ مخصوص جینز ہیں کونسے ہیں جو ذہانت کے ذمہ دار ہیں؟ شروع میں تو یہ کھوج کچھ خاص کامیاب نہيں رہی۔ جب پلومن نے 2010ء میں 7900 بچوں کے جینومز کا تجزیہ کیا تو انہيں کوئی تعلقات نظر نہيں آئے۔ بعد میں انہوں نے ایک ہزار سے زائد امریکی ذہین بچوں کا ڈین این اے بی جی آئی نامی ایک چینی سیکوینسنگ کمپنی کو فراہم کرنے کی غلطی کی۔ لیکن جب میڈیا پر خبریں سامنے آنے لگیں کہ چینی "ذہین ترین بچے" پیدا کرنے ایک سازش میں مبتلا ہیں، جس کے بعد یہ منصوبہ ترک کردیا گيا۔

مارچ تک، افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ کر 199،000 افراد اور جینز کی تعداد بڑھ کر 500 ہوگئی۔ پلومن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جاری ہونے والی رپورٹ میں 1،000 جینز تک روابط کا ثبوت سامنے آئے گا۔

اس مارچ تک ان افراد کی تعداد تیزی سے تیزی سے بڑھ کر199,000 اور جین کی تعداد 500 ہو گئی۔ پلومن کا کہنا ہے کہ اگلی آنیوالی رپورٹ 1,000 جینز سے تعلق قائم کرے گی۔

اب تک جو جینیاتی متغیر تلاش کیے گئے ہیں، وہ ذہانت کو یا تو معمولی حد تک بڑھاتے ہیں یا کم کرتے ہیں۔ ان انکشافات کو ایک ذاتی ذہانت کے ٹیسٹ میں تبدیل کرنے کا راز کیا ہے؟ بس کسی بھی مخصوص شخص کے جینوم میں پائے جانے والے مثبت اور منفی عناصر کو جمع کرتے ہیں۔

اس قسم کے اندازوں کو"پولی جینک سکور" کہا جاتا ہے اور یہ تیزی سے ایک بہت بڑی ڈیل بن رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ جینز اب تک مجموعی طور پر کئی خاصیتوں کے لئے کام کرتے ہیں بشمول دل کی بیماری، ذیابیطس اور شیزوفیرونیا۔اب تک ان جینز میں 2,000 سے زائد خصوصیات شامل ہیں۔

پلومن نے شروع ہی میں سائن اپ کرلیا۔ پچھلے سال ایک تحقیقی مرکز نے ان کا لعاب حاصل کرکے ان کے ڈی این اے سکورز کا تعین کیا تھا۔ اب، ابپی تقریروں کے دوران، پلومن اپنی جینیاتی درجہ بندیوں کے نتائج پیش کرتے ہيں۔ انہیں جوڑوں کے درد کا زیادہ خطرہ ہے (بلکہ انہيں کچھ حد تک جوڑوں کا درد شروع ہوگیا ہے)، ڈیپریشن کا خطرہ کم ہے، اور ان کا شمار موٹاپے کے 94ویں صدویے میں ہوتا ہے۔

پلومن کا وزن 240 پونڈ کے قریب ہے، اور ان کے مطابق اس جینیاتی پیشگوئی کی مدد سے ان کی زندگی بھر کی نشاستہ دار کھانوں اور مٹھائیوں کے شوق کے متعلق وضاحت حاصل ہوتے ہے۔ "لوگ کہتے ہیں 'تم تو کچھ نہيں کرسکتے، موٹاپا تمہارے جینز کا حصہ ہے'، لیکن مجھے یہ جان کر بہت فائدہ ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ ہی اپنے وزن کا مقابلہ کرتا رہتا ہوں۔"

ظاہر ہے، انہیں تعلیمی کارکردگی کا صدویہ بھی معلوم ہے۔ وہ کہتے ہيں "یہ 99 اعشاریہ کچھ ہے۔ مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔"

کیا آپ انتہائی ذہین ہیں یا بے وقوف؟

کئی سائنسدانوں نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا کہ ان کے خیال میں جینیاتی ذہانت کے ٹیسٹس سے کوئی کارآمد معلومات حاصل نہيں ہوتی ہے، اور پلومن کے دعوں کی وجہ معلوم نہيں ہے۔

ء میں منعقد ہونے والے ذہانت کے مطالعے کی سربراہی کرنے والی ڈینیل پوستھوما (Danielle Posthuma) کا کہنا ہے "ہم کبھی بھی کسی کے ڈی این اے کا تجزیہ کرکے اس کی ذہانت کا تعین نہيں کرپائيں گے۔ بلکہ میرے خیال میں اسے اس طرح استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے۔ "اگر میں ہوتی تو میں صرف لوگوں کو ایک ذہانت کا "ٹیسٹ ہی دے دیتی۔ پوستھوما کا کہنا ہے کہ وہ سب سے زیادہ بنیادی سطح پر دماغ کے کام میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان کے مطابق ذہانت سے وابستہ جینز کی تلاش کا فائدہ اس ہی شعبے میں ہوسکتا ہے۔

تاہم پلومن کے مطابق رنگین بلاکس پر مشتمل ذہانت کے ٹیسٹس بچوں کے لیے بمشکل ہی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، اور ان میں ان کی ٹیسٹس پر مستقبل کی کارکردگی کی درست طور پر نشاندہی نہيں ہوپاتی ہے۔ اس کے برعکس، آپ کا ڈی این اے آپ کے پاس آپ کے پیدائش ہی کے دن سے موجود ہوتا ہے، اور اس میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی تبدیلی واقع نہيں ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی کے ابتدائی حصوں ہی میں دیگر ٹیسٹس کے مقابلے میں ڈی این اے سے ذہانت کی بہتر طور پر پیشگوئی ہوسکتی ہے۔

ابھی مسئلہ درستی، بلکہ اس کی کمی ہے۔ اس وقت، پولی جینک سکورز ذہانت کے جینیاتی عناصر کے چھوٹے سے حصے کی معلومات حاصل کرپاتے ہیں، اور ماحولیاتی عناصر کے بارے میں کچھ نہيں بتاپاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیشگوئیاں مکمل طور پر واضح نہيں ہیں۔

یہ بات پلومن کے اپنے اعداد و شمار سے واضح ہے۔ ان کے سنٹر نے سینکڑوں جڑواں بچوں کے پولی جینک سکور کا حساب لگایا ہے جن پر وہ ان کی پیدائش ہی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور جن کا ڈی این اے فائل پر موجود ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان جینیاتی سکوروں کا موازنہ انہی جڑواں بچوں کے (جن کی عمریں اب 20سال کی ہوچکی ہیں) ان امتحانات میں ان کی کارکردگی سے کی ہے جو ہر کسی کو لڑک پن میں دینے کی ضرورت ہے۔

اگر ان نتائج کو ایک دوسرے کے ساتھ گراف کی شکل میں پیش کیا جائے تو آپ کو ایک سیدھی لائن کے بجائے لمبا سا بادل نظر آئے گا۔

اس کا یہ مطلب یہ ہوا کہ ڈی این اے کی پیشگوئیاں اور ٹیسٹ کے نتائج ایک سیدھ میں تو ہیں، لیکن مکمل طور پر سیدھ میں نہيں ہیں۔ ایسے بھی کچھ بچے تھے جن کے ڈی این کے سکور کم ہونے کے باوجود امتحانات کے نتائج بہت اچھے تھے، اور کچھ کے جینز میں انتہائی ذہانت نظر آنے کے باوجود نتائج بہت برے رہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجیلس میں ماہر سماجیات کی حیثیت سے کام کرنے والے ایرون پینوفسکی (Aaron Panofsky) کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے آپ کسی ذہین طالب علم کو بے وقوف یا کسی انتہائی بے وقوف بچے کو انتہائی ذہین ثابت کرسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہيں"کیا آپ کنڈرگارٹن کے بچوں کا ٹیسٹ ٹیوب میں لعاب حاصل کرکے ان کے ہائی سکول کے نتائج کی پیشگوئی کرنے کا دعوی کرنے کی کوشش کررہے ہيں؟ اگر آپ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ گوٹیاں کھیلنے سے تو بہتر ہی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ کیا آپ کے بچے کو ذہین بچوں کے پروگرام میں ڈالنا چاہیے یا نہيں، تو؟"

جب بات حقیقی دنیا میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کی آتی ہے، تو ایرون پینفسکی کہتے ہیں، "مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے اس کے بارے میں بہت زیادہ سوچا ہو گا۔"

آئی کیو سکور برائے فروخت

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو معلوم ہوا ہے کہ 23andMe یا Ancestry.com سے ڈی این اے کی پیمائش کروانے والوں کو معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹس پہلے سے ہی جینیاتی ذہانت کے تخمینے پیش کررہے ہيں۔

مثال کے طور پر، جین پلازہ کے صارفین اپنا 23andMe کا ڈیٹا اپ لوڈ کرکے 4 اضافی ڈالر ادا کرکے "انٹیلی جینس کی ایپ" تک رسائی حاصل کرسکتے ہيں جس کے ذریعے 2017ء پر ذہانت کی جینس کے مطالعے سے حاصل کردہ ڈيٹا استعمال کرتے ہوئے ان کے ڈی این اے کی درجہ بندی ممکن ہے۔

اس سے صارفین کو کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جینز ایک بیل کرو پر کس جگہ پر ہیں۔

اسی طرح کے اعداد و شمار ڈی این اے لینڈ پر بھی دستیاب ہیں۔

ان نتائج کے ساتھ صارفین کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ نتائج زيادہ معنی چیز نہيں ہیں، کیونکہ ان سے ذہانت کے صرف 5 پوائنٹس کی پیشگوئی ممکن ہے۔ جین پلازہ کے بانی اور بائیو انفارمیٹکس سائنسدان الین کولیٹا (Alain Coletta) کہتے ہیں "میں امید کرتا ہوں کہ لوگ اس وجہ سے یہ ٹیسٹ نہيں کروارہے ہیں کیونکہ انہیں غلط فہمی ہے کہ اس سے ان کی ذہانت کی درست پیمائش ہوگی۔"

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ ایپ صرف تفریح کے لیے بنائی تھی۔

اب تک ڈی این اے کی ٹیسٹنگ کی بڑی کمپنیاں ذہانت کی رپورٹس سے دور رہ رہی ہیں۔ کیلیفورنیا میں واقع ڈی این اے ٹیسٹس کی نمایاں ایپ کی کمپنی ہی لکس (Helix) کے شریک بانی جیمز لو (James Lu) کہتے ہيں "اسے کس طرح استعمال کیا جارہا ہے؟ اور اس کے بارے میں کیا باتیں کی جارہی ہيں؟ اب تک اس کے متعلق کچھ خدشات باقی ہيں۔"

بڑی کمپنیوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ یوجینکس کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کے صارفین انہیں نازی یا نسل پرست جیسے القاب سے نوازيں گے۔ اس کے علاوہ، ممکن ہے کہ ان کے صارفین یہ جان کر خوش نہيں ہوں گے کہ ان کی ذہانت کم ہے۔

ٹیسٹنگ کمپنی 23andMe کی مثال لے لیں، جس نے 50 لاکھ سے زائد افراد کے ڈی این اے کا مطالعہ کیا ہے اور جو صارفین کو 21 خصوصیات پر مشتمل رپورٹ پیش کرتی ہے، جس میں ٹھڈی میں تقسیم سے لیکر گنج پن کے امکانات تک ہر چیز شامل ہے۔ ان علامات کی رپورٹوں سے 16 کا تعین پولی جینک سکورز کی مدد سے کیا جاتا ہے۔

تاہم 23andMe اپنے صارفین کو ان کی ذہانت کے متعلق کسی بھی قسم کی رپورٹ فراہم نہيں کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہيں ہے کہ ان کے پاس ڈيٹا نہيں ہے۔ بلکہ، ان کے پاس وافر مقدار میں ڈیٹا موجود ہے۔ یہ کمپنی ذہانت کی پیمائش کے لیے پہلے یہ سروے کرتی ہے کہ اس کے صارفین سکول میں کتنا عرصہ رہے، اور اس وجہ سے یہ کمپنی، جس کے پیچھے گوگل کا ہاتھ ہے، جین کی سب سے بڑی تلاش میں اپنے صارفین کے ڈے این کا ڈيٹا کا پیش کرکے بہت اہم کردار ادا کررہی ہے۔

تو وہ اپنے صارفین کو کیوں نہيں بتاتے؟ اس کے جواب میں 23andMe میں پراڈکٹ سائنس کی ڈائریکٹر شرلی وو () نے بتایا "ہم نے ماضی میں تعلیمی کارکردگی پر کام تو کیا ہے، لیکن اس وقت ہم اپنے مصنوعے میں اس کا استعمال نہيں کررہے ہیں، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی رپورٹ کی غلط تشریح ممکن ہے۔"

جینٹوکریسی

اگرچہ اس چیز کے بارے میں بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے،پھر بھی کچھ میڈیکل سائنسدان یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہيں کہ پولی جینک انٹیلی جنس سکوروں کو کس طرح آئی وی ایف ڈش سے بہترین ایمبریو یا بہترین سپرم ڈونر کی تلاش کے لیے، یا آٹسم جیسے ذہنی امراض کے زیادہ امکانات رکھنے والے جنینی بچوں کی نشاندہی کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر سماجیات ڈالٹن کونلی (Dalton Conley) کہتے ہيں کہ جیسے ہی ذہانت کی پیشگوئیاں دہرے ہندسوں میں پہنچ جائيں گی، جس کی بہت جلد توقع ہے، ہمیں اس قسم کے "ذاتی یوجینکس" کے متعلق "پالیسی پر سنجیدہ بحث" کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ آئی وی ایف بہت مہنگا ہے۔ اس سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس میں امراء کو ذہانت کے ٹیسٹ کی ٹیکنالوجی کی مدد سے مخصوص جینز رکھنے والے بچوں کا انتخاب کرنے کا موقع میسر ہو، جبکہ غریبوں کو نہ ہو۔ کونلی کے مطابق اس سے معاشرے میں جینز کی بنیاد پر عدم مساوات قائم ہوگی۔

دوسروں کا خیال ہے کہ ذہانت کے جینیاتی ماڈل کو نسل، نسلی گروہوں، یا افراد کودنیا کے مختلف حصوں سے موازنہ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ نیویارک ٹائمز میں23مارچ کونسل کی جینیٹکس کےبارے شائع ہونے ایک ایڈیٹوریل میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات ڈیوڈ ریچ(David Reich)) نے نئے جینیاتی آئی کیو کی پیشن گوئی کرنے والوں کا حوالہ دیا اور متنبہ کیا، جینیات سے متاثر ہونے والی تمام خصوصیات کی مختلف آبادیوں میں مختلف ہونے کی توقع ہے۔

اس کی بیچھے انتباہ پوشیدہ تھی: ذہانت میں فرق کی وجہ آپ کے حالات نہيں، بلکہ جینز ہے، اور یہ پولی جینک سکورز سے ثابت ہوسکتا ہے۔

جینیٹکس میں کام کرنے والےماہرین نفسیات کے لیے، گزشتہ سال کی کامیابیوں نے رویہ کے حوالے سے ڈی این اے کی پیشین گوئی کوعملی استعمال کے قریب کر دیا ہے۔ تاہم عوام میں اس حوالے سے بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی کے ایک ماہر نفسیات سٹوارٹ رچی Stuart Ritcie)) کہتے ہیں، "ہم ایک ایسی صورت حال میں ہیں جہاں آپ لوگوں سے ذہانت کے اوپر کام کرنے کا ذکر کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں،" اوہ، آپ اس کی پیمائش نہیں کرسکتے۔ ذہانت کیا ہے؟"

وہ مزيد کہتے ہیں "اس وقت ہمیں اس جینیاتی تخلیق کاری کی اخلاقیات پر مباحثہ کرنا چاہئیے، چاہے اس کا تعلق بچوں کی سکول میں کارکردگی کی پیمائش ہو یا ایمبریو کے انتخاب کی۔"

دوسروں کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی ڈی این اے پروفائلز سے قبل از وقت جانچنے کو کب قابل قبول سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کے ڈی این کو دیکھ کر معلوم ہوجائے کہ اسے نشہ آوری کا خطرہ ہے، تو ہم شاید دوسروں کو بتانا چاہیں۔ لیکن اگر وہ کبھی بھی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگائے، تو؟ اور والدین کو یہ بتانے سے کہ ان کا بچہ کتنا ذہین یا کتنا بے وقوف ہے، کیا حاصل ہوگا؟

پلومن کے لیے اس کا جواب واضح ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ذہانت کے پولی جینک سکورز سے لوگوں کی تنخواہیں، ان کے شریک حیات، اور سماجی ساخت کے تعین میں ذہانت کا کردار مزيد سامنے آئے گا، اور لوگ یہ جاننا چاہيں گے۔

پلومن نے بتایا کہ وہ بلوپرنٹ نامی ایک کتاب لکھ رہے ہیں، جس سے ان کے مطابق "کئی لوگ ناراض ہوں گے"، کیونکہ انہوں نے اس میں بتایا ہے کہ ڈی این اے وہ اہم وقت ہے جو لوگوں کو تشکیل دیتی ہے۔

تحریر: انٹنیوریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top