Global Editions

قبرستان کی کھدائی : قدیم تہذیب کے راز ظاہر

اس انکشاف کے نتیجے میں اس پانچ ہزار سال پرانی تہذیب میں آباد لوگوں کے شجرہ نسب اور اس خطے میں زراعت اور زبان کی افزائش کے متعلق بے مثال تفصیلات سامنے آئی ہيں۔

ایک زمانے میں وادی ِسندھ کی تہذیب موجودہ افغانستان اور پاکستان سے لے کر بھارت کے شمال مغربی حصے تک پھیلی ہوئی تھی۔ پانچ ہزار سال پرانی اس تہذیب میں بسنے والے افراد بھٹیوں میں بنائی گئی اینٹوں کے گھروں پر مشتمل شہروں اور قصبوں میں رہتے تھے اور انہيں ایک پیچیدہ زیرزمین آب نکاسی کے نظام تک رسائی حاصل تھی۔ تجارت کے لیے معیاری وزنوں اور پیمائشوں کا استعمال کیا جاتا تھا اور مواصلت کے لیے ایک پیچیدہ تحریری نظام موجود تھا۔

لیکن سن 1800 قبل مسیح میں اس تہذیب کا زوال شروع ہوگیا۔

اس وقت ہمیں وادیِ سندھ کی تہذیب کے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہيں ہوسکی ہیں۔ مورخین آج تک ان کی علامات، خاکوں اور دیگر تحریروں پر مشتمل زبان کا معمہ حل نہيں کرپائے ہیں۔ 1921ء میں ہڑپہ کی کھدائی کے بعد ہی وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ان ٹیلوں کا انکشاف ہوا جن کے نیچے ماضی کے پھلتے پھولتے شہر دفن تھے، اور جن کے باعث ماہرین آثارقدیمہ کے لیے یہاں کسی زمانے میں پروان چڑھنے والی برنجی دور (Bronze Age)

کی ثقافت کی وسعت سمجھنا ممکن ہوا۔ اس کے کچھ عرصے بعد، موجودہ صوبہ سندھ میں دریائے سندھ کے مغرب میں موئن جو دڑو کا انکشاف کیا گيا، جس کا شمار دنیا کے سب سے پرانے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔

آثار قدیمہ کا مطالعہ کرکے ماہرین زمانہ قبل از تاریخ میں آباد لوگوں کے رہن سہن کے متعلق جان سکتے ہیں۔ لیکن قدیم انسانی ڈی این اے کی مدد سے وقت کے ساتھ ساتھ ان افراد کی شجرہ نسب کی تبدیلیوں کے علاوہ زراعت اور زبان جیسی ثقافتی اختراعات کے متعلق معلومات بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔

اب موجودہ بھارت کی ریاست ہریانہ میں واقع ایک سائٹ میں (جس کا شمار وادیِ    سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے معلوم شدہ قصبوں میں ہوتا ہے) ایسی دریافت ہوئی ہے جس سے یہ سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔ یہاں پر موجود ساڑھے چار ہزار سال پرانے قبرستان میں ملنے والے ہڈیوں کے ڈھانچے سے ماہر جینیات محفوظ شدہ ڈی این اے حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ ان کی تحقیق اس سال 5 ستمبر کو سیل (Cell) نامی جرنل میں شائع ہوئی تھی۔

اس مطالعے کے شریک بانی ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر جینیات واگھیش ناراسمہن (Vagheesh Narasimhan) ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتاتے ہیں ”سب سے بڑا چیلنج تکنیکی نوعیت کا تھا۔ گرم اور نم علاقہ جات میں ڈی این اے زیادہ جلدی خراب ہوتا ہے جس کے باعث قدیم ڈی این اے بازياب کرنا بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے قدیم ڈی این اے کے لیے سکرین کیے جانے والے 60 سے زیادہ ڈھانچوں کے نمونوں میں سے صرف ایک ہی میں معتبر قدیم ڈی این اے کے کچھ آثار ملے۔ اس کے بعد ہم نے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے 100 سے زیادہ کوششیں کیں، ماضی میں اب تک کسی نے کسی ایک نمونے پر اتنی زیادہ کوششیں نہيں کی تھيں۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں ہم ہائی ریزولوشن پاپولیشن (high-resolution population) کے جینیاتی تجزیے کے لیے کافی ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔“

تاہم ایک ہی انسانی نمونے سے حاصل کردہ جینوم پوری وادیِ    سندھ کی تہذیب کی نمائندگی نہيں کرسکتا، جس میں ایک زمانے میں پچاس لاکھ سے زيادہ افراد آباد تھے۔ سیل میں شائع ہونے والے پیپر کے دو مصنفین نے شمالی امریکہ، یورپ، وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے ماہرین جینیات، ماہرین آثار قدیمہ، اور ماہرین انسانیات کے ساتھ سائنس نامی جرنل میں اسی موضوع پر ایک اور پیپر شائع کیا ہے۔

اس مطالعے میں پہلی بار پچھلے آٹھ ہزار سالوں میں آباد 523 قدیم افراد کے جینومز سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ نمونے زیادہ تر مرکزی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے شمال ترین علاقہ جات سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان میں آہنی دور (Iron Age) کے پاکستان کی وادیِ سوات اوریوریشیائی مسطح میدانی خطہ (Eurasian Steppe) نامی گھاس کا میدان شامل ہيں، جو مشرق میں شمالی چین سے شروع ہو کر مغرب میں مشرقی یورپ تک پھیلا ہوا ہے۔

جرنل سائنس میں شائع ہونے والا یہ پیپر قدیم انسانی ڈی این اے کا وسیع ترین مطالعہ ہے، جس سے شائع ہونے والے قدیم جینومز کی عالمی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ماضی کی کھوج

اس پیپر میں جن نمونوں کا مطالعہ کیا گيا تھا، ان میں سے 11 موجودہ ایران اور ترکمانستان میں ملے تھے، اور ان کا شجرہ نسب اپنے اطراف موجود لوگوں سے واضح طور پر مختلف تھا۔ ہڈیوں کے ڈھانچوں کے نمونوں میں ایران سے وابستہ مخصوص جنوبی ایشیائی شجرہ نسب موجود تھا، اور ساتھ ہی ان کا جنوب مشرقی ایشیاء شکاری کسانوں کے ساتھ بھی تعلق سامنے آیا۔ ایسے نمونے ان سائٹس سے بھی دریافت ہوئے ہیں جن کے وادیِ    سندھ کی تہذیب کے ساتھ تعلقات تھے، جس سے سائنسدانوں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ یہ افراد ہجرت کر کے وادیِ    سندھ آئے تھے۔

ہریانہ کے راکھی گڑھی قبرستان سے حاصل کردہ قدیم انسانی جینومز بھی ان گیارہ نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں، اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مجموعی طور پر یہ 12 نمونے اس علاقے میں اس دور میں موجود شجرہ نسب کی نمائندگی کرسکتے ہيں۔

محققین نے ان جینومز کا تجزیہ کرنے کے لیے ان کا آپس میں اور پہلے سے سیکوئینس کردہ جینومز کے ساتھ موازنہ کرکے حاصل کردہ معلومات کو دوسرے ریکارڈز کے ساتھ ضم کرنے کے بعد ان کا سائنس کے دوسرے شعبہ جات کے نقطہ نظر سے مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ سائنس میں شائع ہونے والے پیپر کے شریک سینیئر مصنف ران پنہاسی (Ron Pinhasi) ایک بیان میں کہتے ہیں کہ ”اس مطالعے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں جینیات، آثار قدیمہ، اور علم لسانیات کا امتزاج موجود ہے۔ ہمیں یہ نتائج متعدد شعبہ جات سے حاصل کردہ ڈیٹا، طریقے، اور نقاط نظر سے حاصل ہوئے ہيں۔ اس ضم کردہ طریقے کی مدد سے ہم جتنی معلومات کا انکشاف کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، وہ ہم شاید صرف کسی ایک شعبے سے حاصل نہ کرپاتے۔“

اس عمل سے اس خطے کے کئی مختلف حصوں میں درمیانی سنگی دور (Mesolithic Era)، یعنی تقریباً   12,000 سال قبل، سے لے کر آہنی دور، یعنی تقریبا ًدو ہزار سال قبل، کے عرصے سے وابستہ اہم تفصیلات دریافت ہوئی ہیں۔

پنہاسی نے بتایا کہ ”سیمپلنگ کے نئے طریقوں کے ذریعے ہڈیوں کے ڈھانچوں کو کم سے کم نقصان پہنچاتے ہوئے ایسے علاقہ جات سے جینیاتی ڈيٹا حاصل کرنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے جہاں اکثر ڈی این اے محفوظ نہیں رہ پاتا۔“

ناراسمہن کہتے ہيں کہ ”ہمیں ایسے نمونوں کے متعلق وافر مقدار میں معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کے ڈی این اے کی حفاظت کی شرح نہایت کم تھی، اور ہم نے ان حالات میں بھی ڈی این اے حاصل کرنے کا طریقہ ایجاد کر ڈالا۔ اس کے علاوہ، ہم نے اس صورت میں بھی حساس تجزیہ کرنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھا جب ہمارے پاس ڈیٹا کا زيادہ کوریج موجود نہيں تھا۔ اس مطالعے سے تحقیق کے مالیکیولر بائیولوجی کے پہلو کے علاوہ انفارمیٹکس کے پہلو کے متعلق ہماری معلومات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔“

وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے والا شجرہ نسب

ہارورڈ میڈیکل سکول میں جینیات کے پروفیسر اور دونوں پیپرز کے شریک سینیئر مصنف ڈیوڈ رائخ (David Reich) بتاتے ہيں کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اور نمونوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے آبادیوں کے درمیان نازک انٹریکشنز کے علاوہ انحراف کے نمونوں کی نشاندہی کرنا ممکن ہوا۔

لیکن وادیِ سندھ کی تہذیب کے قدیم جینوم کی دریافت سے ایسی بھی باتیں سامنے آئيں جن کی محققین کو توقع نہيں تھی۔ مثال کے طور پر، اس ڈی این اے میں مسطح میدانی خطوں میں رہائش پذیر کسانوں کا شجرہ نسب موجود نہيں تھا، جو جدید دور کے تمام جنوبی اشیائی افراد میں پایا جاتا ہے۔ یہ دریافت اس تھیوری کے عین مطابق ہے جو یہ کہتی ہے کہ یہ افراد اس خطے میں اس دور میں نہيں بلکہ تہذیب کے زوال کے بعد ہجرت کرکے آئے تھے۔

ماضی میں سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ اناطولیہ (جسے موجودہ زمانے میں ترکی کہا جاتا ہے)، سے بڑی تعداد میں کسان اس خطے میں ہجرت کر کے آئے تھے، جس سے ہند یورپی زبانوں کے علاوہ زراعت کا فروغ ممکن ہوا۔ تاہم، سائنس میں وسیع پیمانے کے مطالعے کی اشاعت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ زمانے کے جنوبی ایشیائی افراد کا شجرہ نسب اناطولیہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے نہيں ملتا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس خطے میں وسیع پیمانے پر کوئی ہجرت نہيں ہوئی تھی۔ اس کے بجائے، اس خطے میں موجودہ زمانے میں رہنے والے افراد کا شجرہ نسب یوریشیائی مسطح میدانی خطے سے تعلق رکھنے والے چرواہوں  سے ہوتا ہے جو کئی ہزاروں سال پہلے ہجرت کرکے وسطی اور جنوبی ایشیاء آئے تھے۔

اس کے علاوہ، اس پیپر سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ساڑھے تین سے لے کر چار ہزار سال کے درمیان وادیِ    سندھ کی تہذیب کے زوال کے بعد، جس گروپ میں 12 نمونے شامل تھے، وہ شمال سے آنے والے مسطح میدانی خطوں کے کسانوں کا شجرہ نسب رکھنے والے افراد سے جا ملے۔ اس طرح آبائی شمالی ہندوستانیوں نے جنم لیا، جن کا شمار اس خطے میں موجودہ زمانے میں رہائش پذیر افراد کی آبائی آبادیوں میں ہوتا ہے۔ دوسری پرائمری آبادی، یعنی آبائی جنوبی ہندوستانیوں کی آبادی، اس وقت قائم ہوئی جب ابتدائی گروپ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد جزیرہ نما ہندوستان کے رہائشیوں سے جا ملے۔

مسطح میدانی خطوں سے وابستگی کا ایک اور ثبوت 140 جدید جنوبی ایشیائی گروپس کے تجزیے سے ملتا ہے۔ ان میں سے گنے چنے گروپس کا شجرہ نسب مسطح میدانی خطے سے جا کر ملتا ہے، اور ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق براہمنوں جیسے تاریخی پادریوں سے ہوتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل سکول میں جینیات کے ریسرچ فیلو، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے براڈ انسٹی ٹیوٹ (Broad Institute) کے عملے سے تعلق رکھنے والے سائنسدان، اور مطالعے کے شریک مصنف نک پیٹرسن (Nick Patterson) کا کہنا ہے کہ ”آبائی جنوبی اورشمالی ہندوستانی افراد دونوں ہی کا بنیادی شجرہ نسب وادیِ    سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والے اس شخص کی طرح ہے جس کی ہم نے سیکویئنسنگ کی تھی، اور موجودہ زمانے کے جنوبی ایشیائی افراد کا شجرہ نسب ان آبائی جنوبی اور شمالی ہندوستانیوں سے نکلتا ہے۔“ اس طرح اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے کے جنوبی ایشیائی افراد اور خطے کی پہلی تہذیب کے باسیوں کے درمیان براہ راست تعلق موجود تھا۔

ہندیورپی زبان اور زراعت کا پھیلاؤ

اس مطالعے میں جو جینیاتی ثبوت سامنے آیا ہے اس سے جنوبی ایشیاء میں بولی جانے والی ہند یورپی زبانوں کے مسطح میدانی خطے سے جنم لینے کے متعلق بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہند یورپی زبانیں، جن میں اردو، پنجابی، فارسی، ہندی، روسی، ہسپانوی اور انگریزی شامل ہيں، پوری دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔ سائنسدان طویل عرصے سے ان زبانوں کے ذریعے اور پھیلاؤ کے متعلق کسی قسم کے نتیجے پر نہيں پہنچ سکے ہيں۔

اس مطالعے میں ایسے جینیاتی پیٹرنز بھی سامنے آئے ہیں جن میں ہند یورپی زبانوں کے ہند ایرانی اور بیلٹو سلیوک شاخوں میں شامل زبانیں بولنے افراد کے درمیان تعلقات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ محققین کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ موجودہ زمانے میں ان دونوں شاخوں میں شامل زبانیں بولنے والے افراد کا شجرہ نسب ان مسطح میدانی خطوں کے کسانوں سے ملتا ہے جو تقریباً پانچ ہزار سال قبل ہجرت کرکے یورپ جانے کے بعد اگلے 1,500 سالوں میں واپس وسطی اور جنوبی ایشیاء آگئے۔ ہند یورپی زبانوں کی ان دونوں شاخوں کے درمیان اتنا زيادہ فاصلہ ہونے کے باوجود بھی مشترکہ لسانی خصوصیات کی موجودگی کی وضاحت قدیم زمانے کی اس ہجرت میں ملتی ہے۔

دوسری طرف اس مطالعے کی مدد سے اس خطے میں زراعت کے پھیلاؤ کی ثقافتی تبدیلی بھی مزيد واضح ہوتی ہے۔ ماضی میں موجودہ زمانے کے جنوبی ایشیائی افراد اور قدیم ایرانی کسانوں کے درمیان ایک مشترکہ شجرہ نسب سامنے آیا تھا۔ اس انکشاف کی بنیاد پر سائنسدان یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں زراعت کی ابتداء کی بنیادی وجہ موجودہ عراق، اسرائیل، فلسطین، شام، لبنان، مصر، ترکی، اردن اور ایران پر مشتمل بومرینگ (boomerang) کی شکل کے خطے سے ہجرت تھی۔ اس خطے کو مشرق وسطیٰ کا زرخیز ہلال (Fertile Crescent)کہا جاتا ہے۔

تاہم وادیِ    سندھ کی تہذیب کا ایرانی شجرہ نسب دراصل آبا و اجداد کی علیحدگی سے قبل موجود قدیم ایرانی کسانوں، چوراہوں، اور شکاری کسانوں سے ملتا ہے۔ اس سے اس نظریے کی نفی ہوجاتی ہے کہ قدیم ایرانیوں اور جنوبی اشیائی افراد کے مشترکہ شجرہ نسب کے پیچھے مغربی ایرانی کسانوں کی مشرق کی طرف بڑھنے کا ہاتھ ہے۔ بلکہ ایرانی سطح مرتفع (plateau) اور وادیِ    سندھ کی تہذیب کے سیمپل شدہ قدیم جینومز کا تعلق شکاری کسانوں کے مختلف گروپس سے ہے جنہوں نے وسیع پیمانے پر ہجرت کے باعث قائم ہونے والے روابط کے بغیر ہی زراعت شروع کردی تھی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں زراعت کی بنیاد یا تو آزادانہ طور پر رکھی گئی یا ہجرت کے بجائے خیالات کے تبادلے کے باعث شروع ہوئی۔

اس دریافت کا مستقبل کیا ہے؟

یونیورسٹی آف ہیلسنکی میں ہندیات اور مطالعہ جنوبی ایشیاء کے پروفیسر امیریٹس، آسکو پارپولا (Asko Parpola) جنہيں وادیِ    سندھ کی سکرپٹ کا نمایاں ماہر سمجھا جاتا ہے، ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتاتے ہیں کہ ”مخصوص ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے انسانی اجسام سے حاصل کردہ قدیم ڈی این اے کے تجزیے سے مطالعہ آثار قدیمہ میں انقلاب آیا ہے۔ اس تجزیے سے ڈی این اے استعمال نہ کرنے والے تاریخی لسانیات اور مطالعہ آثار قدیمہ استعمال کرنے والے تفصیلی ماڈلز کی تصدیق ہوتی ہے جن پر میں کئی دہائیوں سے کام کررہا ہوں، اور جن کا خلاصہ میری کتاب The Roots of Hinduism: The Early Aryans and the Indus Civilization میں پیش کیا گیا ہے۔“

پارپولا اس مطالعے میں شامل نہيں تھے، لیکن ان کے پاس اس کے محققین کے لیے ایک مشورہ ضرور ہے۔ ان کے مطابق صرف چند ڈھانچوں سے حاصل کردہ نمونوں کے جینوم کا تجزیہ کرنے سے پوری وادیِ    سندھ کی تہذیب کے متعلق صرف محدود نتائج حاصل ہوں گے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”سائنس میں شائع ہونے والے مضمون کی تصدیق کے لیے وادیِ    سندھ سے تعلق رکھنے والے زيادہ لوگوں کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔“

اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ایک محقق ناراسمہن کے مطابق ان کی ٹیم تحقیق کا دائرہ کار بڑھانے والی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہم اس وقت وادیِ    سندھ کی دوسری سائٹس کے نمونوں کی سکریننگ کررہے ہيں۔ اس پیپر سے ایک تھیوری سامنے آتی ہے کہ وسیع جغرفیائی علاقے پر پھیلی ہوئی یہ آبادی خاصی متنوع تھی۔ ہم آبادی کے طویل المیعاد ڈائنیمکس کو سمجھنے کے لیے اس تھیوری کو ٹیسٹ کرنے کے علاوہ وادیِ    سندھ کی تہذیب سے قبل اور بعد بھارت اور پاکستان میں واقع دوسری سائٹس سے نمونے حاصل کرنا چاہتے ہيں۔“

مصنفہ سٹاف کی ممبر ہيں۔

Read in English

Authors

*

Top